تھر: مندر میں توڑ پھوڑ، 4 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج

صوبہ سندھ میں تھر کے علاقے چھاچھرو کے قریب گاؤں میں ماتا دیول بھٹانی مندر میں توڑ پھوڑ کرنے کے الزام میں 4 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی۔
تھر کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس عبداللہ احمدیار کی ہدایات پر درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق اتوار کی رات کو 4 نامعلوم افراد نے مندر میں توڑ پھوڑ کی جبکہ ایک شہری پریم کمار نے واقعے کی شکایت درج کروائی۔
دوسری جانب چھاچھرو کے ایس ایچ او حسین بخش راجر کا کہنا تھا کہ پولیس ملوث عناصر کی تلاش کر رہی ہے اور اس سلسلے میں ‘مقامی ماہرین’ سے مدد لی ہے جو ان کی شناخت کے لیے واقعے کے مقام پر جوتوں کے نشانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ واقعے کی ایف آئی آر تعزیرات پاکستان کی دفعات 295 (کسی بھی مذہت کی توہین کے مقصد سے عبادت گاہ کو نقصان پہنچانا)، 436 (گھر تباہ کرنے کے مقصد سے آگ یا دھماکا خیز مواد کا غلط استعمال)، 427 (فساد جو 50 روپے مالیت کا نقصان پہنچائے) اور 34 (پبلک اتھارٹی کے ذریعے طے شدہ نشان کو تباہ کرنا یا تبدیل کرنا) کو شامل کیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے انسانی حقوق ایڈووکیٹ ویرجی کولہی کا کہنا تھا کہ شرپسند عناصر، علاقے میں فرقہ وار امن و امان کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے، تاہم انہوں نے تمام کمیونٹیز کے افراد پر زور دیا کہ وہ پرامن رہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ جو بھی واقعے کے ذمہ دار ہیں انہیں سزا دی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button