مہنگائی کرنے والے کسی بھی مافیا کو نہیں چھوڑیں گے

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مافیا پیسہ بنانے کے لیے ملک میں مہنگائی کرتا ہے، ملک میں مہنگائی کرنے والے ایک ایک مافیا کو پکڑیں گے اور کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔
کراچی میں ‘کامیاب جوان پروگرام’ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ‘ہمارا سب سے بڑا اثاثہ نوجوان آبادی ہے، نوجوانوں کی کامیابی سے قومیں کامیاب ہوتی ہیں اور وہ کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ‘کامیاب نوجوان پروگرام جتنا میرٹ پر چلے گا اتنا کامیاب ہوگا، پروگرام کے تحت میرٹ پر قرضے دیے جائیں گے اور کامیاب جوان پروگرام میں درخواست گزاروں میں کسی قسم کا امتیاز نہیں کریں گے۔’
انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان ہر قسم کے قدرتی وسائل سے مالا مال ہے لیکن میرٹ نہ ہونے کے باعث ملک ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا، اقربا پروری اور سفارشی کلچر کے باعث ہمارے ادارے کمزور ہوئے۔’ ان کا کہنا تھا کہ ‘اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے، پاکستان کو عظیم ملک بنانے میں نوجوانوں کو ہاتھ ہوگا، ہمارا ملک ٹیلنٹ ہونے کے باوجود دنیا سے مقابلہ نہیں کرپا رہا جبکہ نچلے طبقے پر خرچ کریں تو ملک ترقی کرتا ہے۔’ وزیر اعظم نے کہا کہ ‘قوموں کی زندگی میں مشکل وقت آتے جاتے رہتے ہیں، میرا ایک ہی خواب ہے کہ پاکستان کو عظیم ملک بناؤں، وہ ملک بناؤں جو قائد اعظم، علامہ اقبال کی خواہش تھی، ابھی مشکل وقت ہے یہ قوم کی آزمائش کا وقت ہے، مشکل وقت زندگی کا حصہ ہے اس سے گھبراتے نہیں ہیں۔’انھوں نے مزید کہا کہ بیرون ملک پاکستانی ہر شعبے میں پاکستانیوں سے آگے نکل گئے ہیں تاہم پاکستان کے اندر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے کیوںکہ ہماراسسٹم میرٹ کو سپورٹ نہیں کرتا، اقربا پروی اور سفارش کی وجہ سے ادارے کمزور ہورہے ہیں، جیسے جیسے ہم میرٹ سے پیچھے گئے ملک پیچھے چلاگیا اور جو بھی معاشرہ میرٹ سے ہٹتا ہے وہ تباہ ہوجاتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ زندگی میں ہمیشہ مشکل وقت دیکھاہے تاہم کامیاب انسان برے وقت سے سیکھتاہے، اپنی ٹیم کو کہتا ہوں کہ مشکل وقت میں گھبرایا نہ کرو.انہوں نے کہا کہ ‘کئی اجلاس میں وزیروں کو گھبرائے ہوئے دیکھتا ہوں، وزیر کہتے ہیں لوگ کہہ رہے ہیں مہنگائی ہوگئی، وزرا کو کہتا ہوں مہنگائی سے گھبرائیں نہیں اس سے سیکھیں، مافیا پیسہ بنانے کے لیے ملک میں مہنگائی کرتا ہے جسے پکڑیں گے اور کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔’
