ثاقب نثار اگلے چیئرمین نیب یا بلی کو چھچھڑوں کے خواب؟
ثاقب نثار چیئرمین نیب یا بلی کو چھچھڑوں کے خواب
آپ نے ‘بلی کو چھچھڑوں کے خواب’ والا محاورہ تو یقینا سن رکھا ہوگا۔ اسی محاورے کے مصداق پاکستانی عدلیہ کے لیے کلنک کا ٹیکا بن جانے والے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار عرف بابا رحمتے اب چیئرمین نیب بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ حال ہی میں آڈیو ٹیپ اسکینڈل کا شکار ہونے والے ثاقب نثار نے وزیراعظم عمران خان کو پیغام بھجوایا ہے کہ انہیں اگلے چیئرمین نیب کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے اور بہتر یہی ہوگا کہ کسی سابق چیف جسٹس کو ہی اس عہدے پر تعینات کیا جائے تاکہ احتساب کے ذمہ دار ادارے کی ساکھ برقرار رہ سکے۔
بتایا جاتا ہے کہ ثاقب نثار کا پیغام لیجانے والے شخص نے سابق چیف جسٹس کی اس گفتگو سے دو نتیجے اخذ کیے۔ پہلا یہ کہ موصوف اگلا چیئرمین نیب بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ اپنی اور نیب کی ساکھ کے حوالے سے سخت غلط فہمی کا شکار ہیں۔ بابا رحمتے شاید بھول چکے کہ ان کے دور اقتدار میں کس طرح انصاف کا جنازہ نکالا گیا اور اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ پر کس بھیانک نوعیت کے غیر منصفانہ عدالتی فیصلے جاری کئے گئے۔ سونے پر سہاگا یہ کہ ایسے فیصلے جاری کرنے کی ہدایات بھی ثاقب نثار نے خود دیں جن کی آڈیوز اب سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انصاف کا جو تیا پانچا ثاقب نثار کے دور اقتدار میں ہوا اس کے اثرات آج بھی پاکستانی عدلیہ پر ظاہر ہو رہے ہیں، لہذا یہ گمان کرنا بھی خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہو گا کہ ثاقب جیسے شخص کو نیب کا چیئرمین بنانے سے اس ادارے کی ساکھ میں کسی قسم کا اضافہ ہوگا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ثاقب نثار کے چیئرمین نیب بننے سے اس ادارے کی ساکھ تباہی سے بربادی کی جانب گامزن ہو جائے گی کیونکہ جسٹس ثاقب نثار تو جسٹس جاوید اقبال سے بھی بڑے حکومتی ٹٹو ثابت ہوں گے۔
دوسری جانب سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ انہیں چیئرمین نیب کے عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں اور نہ ہی ابھی تک حکومت کی جانب سے ان کا نام تجویز کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے چئیرمین نیب کے لیے مجوزہ ناموں میں سابق سیکرٹری یوسف نسیم کھوکھر، سابق سیکرٹری وزارت مذہبی امور کیپٹن (ر) سردار اعجاز احمد خان جعفر اور سابق ڈی جی، ایف آئی اے محمد املیش شامل ہیں۔اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مجوزہ چار ناموں میں سابق سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق، سابق چیف سیکرٹری پنجاب ناصر محمود کھوسہ، جسٹس (ر) دوست محمد اور سابق سیکرٹری خارجہ امور جلیل عباس جیلانی کے نام شامل ہیں۔
تاہم چیئرمین نیب کے عہدے کے لیے موزوں شخص کی تلاش ابھی جاری ہے۔ اس حوالے سے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ابھی جسٹس جاوید اقبال بطور چیئرمین نیب کام کر رہے ہیں اور حکومت نے اگلے چیئرمین نیب کے لیے کوئی نام تجویز نہیں کیا۔ تاہم میڈیا میں حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے مجوزہ امیدواروں کے نام گردش کررہے ہیں۔
انگریزی اخبار دی نیوز میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ وہ چیئرمین نیب کے عہدے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور نہ ہی ابھی تک اس بارے ان سے کسی نے رابطہ کیا ہے۔ تاہم حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جسٹس ثاقب نثار مختلف لوگوں کے ذریعے وزیراعظم کو سفارش کروا چکے ہیں اور چیئرمین نیب بننے کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ حکومت چیئرمین نیب کے عہدے پر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو تعینات کرنا چاہتی ہے۔ لیکن ثاقب نثار کے متنازع ہونے کے باعث گر ایسا نہ ہو پایا تو پھر وزیراعظم عمران خان موجودہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو ہی عہدے پر برقرار رکھنے کے بہانے تلاش کریں گے کیونکہ انہوں نے پچھلے ساڑھے تین برس میں ایک وفادار حکومتی ٹٹو کا کردار ادا کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بابا رحمتے نامی بلے نے جن چھچھڑوں کے خواب دیکھے ہیں وہ اسے کھانے کو نصیب ہوتے ہیں یا نہیں؟
