ثاقب نثار نے CDA کو گرینڈ حیات ٹاورز گرانے سے کیوں روکا؟


(Mian Saqib Nisar) جناح کے پاکستان میں صرف تحریک انصاف کی حکومت ہی انصاف کے دوہرے معیار اپنائے ہوئے نہیں ہے بلکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ بھی انصاف کے دوہرے معیار اپنائے ہوئے ایک ہی جیسے کیسوں میں متضاد نوعیت کے فیصلے دیتی نظر آ رہی ہے۔ اس کا واضح ثبوت دو ایک ہی طرح کے غیر قانونی تعمیرات کے کیسز میں کراچی کے نسلہ ٹاور کو گرانے اور اسلام آباد کے گرینڈ حیات ٹاور کو جرمانہ دے کر بچانے کے احکامات ہیں۔
یاد رہے کہ کراچی کے نسلہ ٹاور کو گرانے کا حکم چیف جسٹس گلزار نے جاری کیا ہے جبکہ اسلام آباد کے گرینڈ حیات ہوٹل کو نہ گرانے کا حکم سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے جاری کیا تھا۔ گرینڈ حیات ٹاور کا ایک فلیٹ وزیراعظم عمران خان نے بھی خریدا تھا اور اسے نہ گرانے کا فیصلہ ثاقب نثارنے کپتان دور میں اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک ہفتہ پہلے دیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ زمین ہوٹل کی تعمیر کے لیے لیز کی گئی تھی لیکن اس پر رہائشی اپارٹمنٹس بنا لیے گئے تھے جن کو سی ڈی اے نے غیر قانونی قرار دے کر گرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ثاقب نثار نے اس فیصلے کو منسوخ کر دیا تھا اور فلیٹس بنانے والوں کو جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ تاہم تین سال گزر جانے کے باوجود جرمانے کی وصولی نہیں کی جاسکی چونکہ ثاقب نثار(Mian Saqib Nisar) نے ابھی تک اس کیس کا تفصیلی فیصلہ ہی نہیں لکھا۔
پانامہ لیکس اور پنڈورا لیکس کی تحقیقات کا حصہ رہنے والے معروف صحافی عمر چیمہ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین سال کے دوران سپریم کورٹ میں سنائے گئے فیصلوں کی وجہ سے پاکستان کے دو شہروں کراچی اور اسلام آباد میں قائم دو بلند و بالا عمارتوں نسلہ ٹاور اور گرانڈ حیات ہوٹل کی قسمت مختلف رہی۔
جنوری 2019ء میں تب کے چیف جسٹس ثاقب نثارMian Saqib Nisar کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے گرانڈ حیات ہوٹل کی لیز بحال کرنے کا حکم جاری کیا تھا جسے سی ڈی اے نے قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے منسوخ کر دیا تھا۔
یہ پلاٹ میسرز بی این پی کو گرانڈ حیات ہوٹل کی تعمیر کیلئے دیا گیا تھا لیکن اس کی بجائے کمپنی نے غیر قانونی طور پر وہاں 40؍ منزلہ لگژری فلیٹس تعمیر کر دیے اور ایک سرسبز علاقے کو رہائشی اور کمرشل علاقے میں تبدیل کر دیا۔ بعد ازاں غیر قانونی طور پر تعمیر ہونے والے یہ فلیٹس ملک کی اہم ترین شخصیات کو فروخت کیے گئے جن میں وزیراعظم عمران خان، سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، سابق چیف جسٹس ناصر الملک، سابق چیئرمین کرکٹ بورڈ احسان مانی، سابق نیول چیف آصف سندھیلا، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ احسن اظہر حیات، کشمالہ طارق اور میاں ثاقب نثار کے کچھ قریبی عزیزوں کے نام شامل ہیں۔ اس ٹاور کو جرمانہ دے کر نہ گرانے کا فیصلہ بھی وزیر اعظم عمران خان کے دور میں ہی آیا تھا جبکہ نسلہ ٹاور کو گرانے کا فیصلہ بھی انہی کے دور میں آیا ہے۔
یاد رہے کہ گرینڈ حیات ٹاور بنانے والے میسرز بی این پی عبدالحفیظ پاشا کی ملکیت ہے جو وزیراعظم عمران خان کے قریبی دوست سمجھے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ 2017 میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ پی ٹی آئی سربراہ عمران خان نے گرینڈ حیات میں اپنا ملکیتی فلیٹ اپنے ڈیکلیئرڈ اثاثوں میں ظاہر کیوں نہیں کیا؟
دوسری جانب ثاقب نثار نے بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ اپنی ریٹائرمنٹ سے 7 روز پہلے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے گرینڈ حیات ٹاور کو منہدم کرنے کا فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے زمین کی لیز فوری بحال کرنے کا حکم بھی دے دیا تھا۔ انہوں نے میسرز بی این پی پر غیر قانونی تعمیرات کے الزام میں جرمانہ تو عائد کیا لیکن اسکے تعین کا کوئی طریقہ کار نہیں بتایا۔ سی ڈی اے کے گرینڈ حیات ہوٹل کو منہدم کرنے کی احکامات مسترد کرتے ہوئے ثاقب نثار نے سوال کیا کہ کیا سی ڈی اے 13؍ سال سے سو رہا تھا جو اسے اب قانون اور ضابطے یاد آگئے ہیں؟ چیف جسٹس کی کرسی پر بیٹھے ثاقب نثار(Mian Saqib Nisar) نے سی ڈی اے مخالف وکیل کی طرح دلائل دیے اور کہا کہ اب جبکہ ٹاور تعمیر ہو چکا ہے تو کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو یاد آ گیا یے کہ یہ عمارت مارگلہ ہلز کے نیشنل پارک ایریا کی سر سبز حدود میں آتی ہے جہاں رہائشی اپارٹمنٹس تعمیر نہیں ہو سکتے۔ پھر ثاقب نثار نے سوال کیا کہ سپریم کورٹ کی عمارت اور سیکریٹریٹ بھی اسی سر سبز ایریا میں آتے ہیں تو کیا ہم آپ کو ان عمارتوں کو بھی منہدم کرنے کی اجازت دے دیں؟ انہوں نے کہا کہ اب تو لوگوں نے بڑی تعداد میں اپارٹمنٹس خرید لیے ہیں، ویسے بھی آدھا اسلام آباد غلط تعمیر کیا گیا ہے تو کیا آدھا اسلام آباد ہی گرا دیا جائے۔ یہ کہہ کر چیف جسٹس نے گرینڈ حیات ٹاور کو گرانے کا سی ڈی اے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔
سی ڈی اے حکام نے تب اس فیصلے پر حیرانی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ جب تفصیلی فیصلہ آئے گا تو پتہ چلے گا کہ منسوخ شدہ لیز کی بحالی کے پیچھے کیا عدالتی منطق ہو سکتی ہے۔
تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ تین سال گزر جانے کے باوجود اس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری نہیں ہو پایا۔ لیکن اسی دوران، سی ڈی اے نے عدالت کے مختصر آرڈر کی روشنی میں عمارت بنانے والوں کے ساتھ جرمانے کی رقم کی وصولی کا طریقہ کار بھی طے کر لیا ہے۔
دوسری جانب تین سال بعد، چیف جسٹس گلزار احمد نے کراچی میں 15؍ منزلہ نسلہ ٹاور گرانے کا فیصلہ کیا اور حکم دیا کہ نسلہ فلیٹس اور کمرشل یونٹس کے خریداروں کو انکی رقم ری فنڈ کر دی جائے۔ یہ اور بات کہ ابھی تک ایسا نہیں ہو پایا۔ جسٹس گلزار نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پورے ریکارڈ کا جائزہ لینے اور رپورٹس کی سکروٹنی کے بعد عدالت کو اب کوئی شک نہیں رہا کہ ٹاور انکروچمنٹ کی زمین پر بنایا گیا ہے جس سے کہ سروس روڈ بھی بند ہو گئی ہے۔ تاہم ناقدین سوال کرتے ہیں کہ ایک ہی جیسے کیسز میں دو مختلف فیصلے کیسے سنا دیے گے اور یہ کہ ان میں سے کونسا فیصلہ جائز ہے چونکہ دونوں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ کی جانب سے آئے ہیں۔
نسلہ ٹاور کیس میں سپریم کورٹ بینچ کے دو دیگر ارکان میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس قاضی محمد امین شامل ہیں۔ اتفاق کی بات ہے کہ جسٹس اعجاز احسن اُس بینچ کا بھی حصہ تھے جس نے گرینڈ حیات ہوٹل کو نہ گرانے اور جرمانہ دے کر بچانے کا فیصلہ کیا تھا۔ یعنی انہوں نے ایک ہی جیسے کیسز میں دو مختلف فیصلے دیے۔ خیال رہے کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے گرینڈ حیات ٹاور کیس کی سماعت کے دوران بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن کی شمولیت پر اعتراض اٹھایا تھا کیونکہ ماضی میں وہ میسرز بی این پی کے وکیل رہ چکے ہیں جو کہ حیات ٹاور کی مالک کمپنی ہے۔ لیکن چیف جسٹس ثاقب نثار(Mian Saqib Nisar) نے اعتراض مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماضی میں جسٹس اعجاز کی اس کمپنی سے وابستگی کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ثاقب نثار آڈیو، پاکستان بار کونسل کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

عمر چیمہ کے مطابق، جہاں تک میسرز بی این پی کا تعلق ہے تو کمپنی کا قیام 2005ء میں گرینڈ حیات ہوٹل کے پلاٹ کی نیلامی سے پہلے عمل میں آیا تھا۔ قبل ازیں کمپنی کے تین پارٹنرز تھے جو بعد میں الگ ہوگئے اور اب عبدالحفیظ پاشا واحد مالک ہیں۔ سی ڈی اے حکام کے ساتھ پس منظر میں ہونے والی بات چیت اور کیس سے جڑے وکلاء سے گفتگو سے پتہ چلا ہے کہ سی ڈی اے اور کمپنی کے مابین جرمانے کی رقم ادا کرنے کا طریقہ کار طے ہوگیا ہے اور اس سلسلے میں پہلی قسط جنوری 2022ء میں ادا کی جائے گی۔

Back to top button