جامعہ حقانیہ کو یونیورسٹی آف جہاد کیوں کہا جاتا ہے؟

خیبر پختونخواہ میں افغان سرحد سے تقریباً 100 کلومیٹر دور واقع دارالعلوم حقانیہ سے افغان طالبان کے کئی رہنماؤں کا تعلق جوڑا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نئی افغان کابینہ میں پانچ لوگ ایسے ہیں جو اس مدرسہ سے فارغ التحصیل ہیں۔ لیکن اب افغانستان میں طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد مدرسے کے سربراہ اس کے بارے میں عمومی تاثر کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب مدرسے کے سربراہ مولانا حامد الحق سے سے پوچھا گیا کہ انکے ادارے کو عموما یونیورسٹی آف جہاد کیوں کہا جاتا ہے تو انہوں نے مذاق میں کہا کہ اب ہمارے مدرسے کو یونیورسٹی آف جہاد کی بجائے افغان طالبان کابینہ یونیورسٹی بھی کہا جا سکتا ہے۔
انڈیپینڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق ناقدین اس مدرسے کو بنیاد پرستی کا گڑھ قرار دیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اس کے سابق طلبہ میں افغان طالبان کے کچھ طاقتور اور خطرناک رہنما شامل ہیں جن میں سے بہت سوں کے نام دہشت گردوں کی عالمی فہرست میں شامل ہیں اور جن میں سے کچھ کو افغان طالبان کی نئی کابینہ میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں افغان سرحد سے تقریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس مدرسے سے جن طالبان رہنماؤں کا تعلق جوڑا جاتا ہے ان میں اس تحریک کے بانی ملا محمد عمر بھی شامل ہیں۔ ’ایک آنکھ والے‘ ملا عمر وہی جنگجو تھے جنہوں نے اسامہ بن لادن کو افغانستان میں پناہ دی تھی۔ مولانا حامد الحق نے کہا کہ اس مدرسے نے ملا محمد عمر کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی کیونکہ وہ ’افغانستان اور خطے میں امن لائے۔‘ یہی نہیں بلکہ امریکہ کی جانب سے دہشت گرد نامزد کیے گئے بدنام زمانہ حقانی نیٹ ورک کے سب سے بڑے نام جلال الدین حقانی اور اب طالبان کے وزیر خلیل حقانی بھی اسی مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد بھی یہیں کے گریجویٹ ہیں۔لیکن اس کے باوجود 54 سالہ حامد الحق ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں کہ ان کا یہ مدرسہ ’تشدد کا کارخانہ‘ ہے۔ تاہم یاد رہے کہ
سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے 2007 کے قتل کی تفتیش کرنے والی پولیس تیم نے کہا تھا کہ ان کے قاتلوں کو اس منصوبے کے بارے میں اسی مدرسے کے ایک شعبے میں بریفنگ دی گئی تھی۔
تاہم افغان طالبان کے برسر اقتدار آ جانے کے بعد سے پاکستان کے لیے ’آگے کھائی پیچھے کنواں‘ جیسی صورت حال ہے جسے کہ طالبان سے تعلقات نبھانے کے تنے ہوئے رسے سے گزرنا پڑے گا کیونکہ اسے طالبان سے وابستہ تحریک طالبان پاکستان کی شکل میں داخلی طور پر دہشت گردی کا سامنا ہے۔ ایک اور مسئلہ یہ بھی یے کہ تقریبا 20 مذہبی جماعتوں کے اتحاد پر مشتمل ایک پلیٹ فارم کے سربراہ حامد الحق ان کئی سخت گیر مذہبی شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے افغانستان میں مغربی سامراج اور سیکولرازم کے خلاف طالبان کی فتح کا خیر مقدم کیا ہے۔ طالبان کے افغانستان کے ’امارت اسلامیہ‘ کے اعلان کے فورا بعد انہوں نے اپنے پیروکاروں سے ایک بیان میں کہا کہ طالبان نے ’افغانستان میں بے مثال امن و سلامتی‘ قائم کی ہے اور انہیں پاکستان میں بھی اسی طرح کی تبدیلی کی ’حوصلہ افزائی‘ کرنی چاہیے۔ان کے بقول: ’ہاں مجھے امید ہے کہ طالبان حکومت کا قیام پاکستان میں ایک حقیقی اسلامی نظام کی جدوجہد کی تحریک کو جنم دے گا۔
مولانا حامد الحق سابق رکن پارلیمنٹ اور جمعیت علمائے اسلام کے نئے سربراہ بھی ہیں، انہیں اپنے مدرسے کے طالبان کیساتھ تعلق پر فخر ہے۔ وہ جلال الدین اور انکے بیٹے اور طالبان کے نئے وزیر داخلہ سراج الدین کے گن گاتے ہوئے انہیں ’عاجز‘، ’بااخلاق‘ اور ’دور اندیش رہنما‘ کہتے ہیں۔ مولانا حامد افغانستان میں طالبان کے اقتدار کو پھلتا پھولتا دیکھتے ہیں، ان کی عبوری کابینہ کے اعلان کو ان کی پوزیشن کے مطابق جائز قرار دیتے ہیں اور مغرب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ’مزید جنگ کو روکنے‘ کے لیے ان کی حکومت کو تسلیم کریں۔
حامد الحق نے کہا: ’ہم دہشت گردی یا عسکری یونیورسٹی کے طور پر اس مدرسے کی پہچان نہیں چاہتے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے بہت سے سابق طالب علم طالبان کی کابینہ میں شامل ہیں۔‘طالبان کی نئی حکومت کی کابینہ کے نصف درجن سے زائد ارکان یا تو خود اس مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں یا پھر ان کے خاندان کا کوئی نا کوئی فرد یہاں تعلیم حاصل کرنے آیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا ’اس کا مطلب یہ ہے کہ طالبان سمجھتے ہیں کہ یہاں سے فارغ التحصیل لوگ دور اندیش، انسان دوست اور تعلیم یافتہ ہیں۔ اسی لیے انہیں کابینہ میں منتخب کیا گیا کیونکہ وہ سیاسی اتار چڑھاؤ جانتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ دنیا سے کیسے نمٹنا ہے۔‘
حامد الحق نے امریکہ میں ہونے والے ان خوفناک حملوں کی بھی مذمت کی جس میں 2700 سے زائد افراد مارے گئے لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ اسامہ بن لادن ان کے ذمہ دار نہیں تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکی حملے نے طالبان کو اپنا دفاع کرنے پر مجبور کیا تھا۔وہ کہتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ حملوں کی 20 ویں برسی کے موقع پر امریکہ کی قیادت میں نیٹو کے فوجیوں کے انخلا کے بعد افغانستان واپس طالبان کے ہاتھوں میں آ گیا جو ’ایک قسم کا انصاف‘ ہے۔ ان کے بقول: ’امریکہ یہاں محبت پھیلانے نہیں آیا اور نہ ہی پھول بکھیرنے۔ وہ علاقے پر بمباری کرنے آئے تھے اور یہ لوگ یعنی طالبان محض اپنا دفاع کر رہے تھے۔‘انہوں نے مزید کہا: ’واشنگٹن نے یہاں سے نکلنے کا صحیح فیصلہ کیا ہے۔ وہ بہت زیادہ رقم خرچ کر رہا تھا لیکن اسے معاشی، سیاسی اور اپنی افواج کے جانی نقصان کے لحاظ سے بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔‘
عالمی شہرت یافتہ دارالعلوم حقانیہ، سنی دیوبندی فرقے کی تعلیم دیتا ہے، جس کی بنیاد حامد کے دادا عبدالحق نے 1947 میں پاکستان کی انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے چند ہفتوں بعد ہی رکھ دی تھی۔ عبدالحق کے جانشین ان کے بیٹے سمیع الحق تھے جنہیں ’طالبان کے باپ‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ان کا خاندان اس نام کو اب بھی ایک اعزاز سمجھتا ہے۔ سمیع الحق کو 2018 میں نامعلوم مسلح افراد نے پراسرسر حالات میں قتل کر دیا تھا۔ مدرسے کے وسیع و عریض کیمپس میں اس وقت تقریبا 2800 طلبا رہائش پذیر ہیں۔ حقانیہ مدرسے کے گیٹ پر کلاشنکوفوں سے لیس محافظ کھڑے ہیں جب کہ روایتی اسلامی لباس میں مردوں کی قطاریں ہفتہ کی صبح نماز فجر کے بعد مصلے کندھوں پر ڈالے مسجد سے باہر نکلتے ہیں۔
مدرسے کے داخلی دروازے پر یہاں سے گریجویٹ کرنے والے طالبان کی فہرست آویزاں ہے۔ دارالعلوم حقانیہ کے مشہور طالب علموں میں طالبان کے سپریم لیڈر اختر منصور بھی شامل تھے جو ملا عمر کے جانشین بنے لیکن وہ 2016 میں بلوچستان میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔ حقانی نیٹ ورک اور اس کے بانی جلال الدین حقانی کے نام اسی مدرسے ’حقانیہ‘ کے نام سے ہی پڑے کیونکہ جلال الدین نے یہیں سے تعلیم حاصل کی تھی۔جلال الدین ھقانی نے اپنے کئی بیٹوں کو بھی یہاں تعلیم حاصل کرنے بھیجا تھا جن میں طالبان کے نئے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی بھی شامل ہیں۔ سراج الدین کے سر پر ایک کروڑ امریکی ڈالر کا انعام ہے کیونکہ امریکہ ان پر 2008 میں کابل کے ایک ہوٹل پر ہونے والے حملے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ القاعدہ سے اس کے تعلقات کا بھی الزام لگاتا ہے۔
حامد الحق نے تصدیق کی کہ طالبان کے کئی دوسرے وزرا نے یہاں تعلیم حاصل کی ہے جن میں طالبان کے وزیر تعلیم عبدالباقی حقانی اور وزیر پناہ گزین خلیل حقانی شامل ہیں۔ طالبان کے شریک بانی اور نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر سمیت دیگر وزرا نے اپنے بیٹوں کو اس مدرسے بھیجا۔ ان کے والد اور چچا بھی یہاں پڑھتے رہے ہیں۔
