پی ٹی آئی کا لانگ مارچ موخر کرنے کا عندیہ

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کے بعد پی ٹی آئی کی سیاسی و کور کمیٹی کے اجلاس میں اہم امور پر غور کیاگیا۔ اجلاس میں مذاکرات جاری رکھنے،لانگ مارچ کی تاریخ آگے بڑھانے اور ممکنہ ایمرجنسی کی صورت میں اسمبلیوں سے استعفوں سمیت مختلف تجاویز زیرِ بحث آئیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں بیرسٹر گوہر نے حکومتی وفد کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر ارکان کو بریفنگ دی، جب کہ سلمان اکرم راجا نے مؤقف اختیار کیاکہ ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنےکا مکمل منصوبہ دکھائی دے رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ اجلاس میں شریک ارکان کی اکثریت نے مذاکرات کا عمل آگے بڑھانے کی حمایت کی۔ارکان کی رائے تھی کہ اگر حکومت کی جانب سے مثبت پیش رفت ہوتی ہےتو لانگ مارچ ختم کرنے کے بجائے اس کی تاریخ آگے بڑھائی جاسکتی ہے۔
ذرائع کےمطابق ارکان کی رائے تھی کہ محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کی عمران خان سے ملاقات کی صورت میں کوئی راہ نکل سکتی ہے جب کہ بعض ارکان کی رائے تھی کہ عمران خان سے ملاقات میں پی ٹی آئی رہنما بھی جائیں۔
ذرائع کا بتانا ہےکہ اجلاس میں مذاکرات کے دوران میڈیا پر بیانات نہ دینے پر اتفاق ہوا،تاہم بعض اراکان نے کہاکہ رانا ثنا اللہ اور شیری رحمان نے میڈیا پر بیانات دےکر اچھا نہیں کیا۔
پی ٹی آئی کی سیاسی و کور کمیٹی کے اجلاس میں محسن نقوی کی مذاکرات میں دہشت گردی پر بریفنگ اور کے پی حکومت کے بارے میں ان کے بیانات کا جائزہ لیاگیا جب کہ ارکان نے اتفاق کیاکہ صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان روابط برقرار رہنے چاہییں
ذرائع کےمطابق بعض ارکان نے رائےدی کہ اگر ایمرجنسی لگائی جاتی ہےتو قومی و صوبائی اسمبلیوں سے استعفے دیے جائیں۔
