جامی نے ریپ کے الزامات پر معافی مانگنے سے انکار کردیا

ڈان اخبار کے چیف ایگزیکٹو حمید ہارون کی طرف سے ریپ کے الزام پر ملنے والے قانونی نوٹس کا جواب دیتے ہوئے فلمساز جمشید محمود عرف جامی نے معافی مانگنے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی صورت اپنے ساتھ جنسی زیادتی کا مرتکب ہونے والے شخص سے معافی نہیں مانگیں گے۔ جھوٹے پر خدا کی لعنت ڈالتے ہوئے جامی نے کہا کہ وہ پوری تفصیل کے ساتھ بتا سکتے ہیں کہ ان کے ساتھ ریپ کب، کہاں اور کیسے ہوا۔
جامی نے اس الزام کی بھی سختی سے تردید کی کہ ان کی طرف سے حمید ہارون پر عائد جنسی زیادتی کےالزام کے پیچھے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ الزام لگا کر دراصل جنسی زیادتی کے معاملے کو سیاسی بنانے کی بھونڈی کوشش کی جارہی ہے جو کہ خود کو بچانے کا سب سے آسان راستہ ہے۔
یاد رہے کہ ڈان اخبار کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حمید ہارون نے اپنے وکیل کے ذریعے فلم ساز جمشید محمود کو ریپ کے الزام پر قانونی نوٹس بھیجا ہے۔ حمید ہارون نے جامی کو ہتک عزت آرڈیننس 2002 کے تحت نوٹس بھیجا ہے جس میں ان سے عوامی سطح پر غیر مشروط معافی اور ریپ کے الزامات واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ جامی نے قانونی نوٹس موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کا معافی مانگنے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ معافی جھوٹ بولنے والے کو مانگنی چاہیے، مجھے نہیں۔
یاد رہے کہ فلمساز جامی اب امریکہ میں ہیں۔ انہوں نے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے موقف پر قائم ہیں اور بالکل پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں، ہاں یہ ضرور کہوں گا کہ جو جھوٹ بول رہا ہے اس پر خدا کی لعنت ہو۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جنسی زیادتی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ہی جھوٹا قرار دے دیا جاتا ہے اور طاقتور اپنا اختیار استعمال کرکے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بتاتا ہے۔
اس سے پہلے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں جامی نے کہا کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی گزشتہ پوسٹوں میں حمید ہارون کے نوٹس میں اٹھائے گئے نکات میں سے کئی پر بات کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملکر سازش کرنے کا الزام ایک لطیفے سے کم نہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملنے کے الزامات سے کہیں زیادہ تکلیف دہ عمل خود ساختہ سینسرشپ کی پالیسی ہے۔
واضح رہے کہ جامی نے گزشتہ سال اکتوبر میں ایک ‘میڈیا ٹائیکون’ پر 13 سال قبل ان کے ریپ کا الزام عائد کیا تھا۔ بعد ازاں 28 دسمبر کو انہوں نے مبینہ ریپسٹ کے طور پر حمید ہارون کا نام لیا تھا۔ حمید ہارون نے اپنے جواب میں بیان جاری کرتے ہوئے ریپ کے الزامات کو بالکل مسترد کردیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کہانی جھوٹی ہے اور اُن لوگوں کے ایما پر جان بوجھ کر گھڑی گئی جو مجھے خاموش کروانا چاہتے ہیں اور میرے ذریعے اس اخبار کو اپنے جابرانہ بیانیے کی حمایت پر مجبور کرنا چاہتے ہیں جس کی میں نمائندگی کرتا ہوں ۔
حمید کے قانونی نوٹس میں جامی کو کہا گیا کہ آپ کے ریپ سے متعلق پہلے ٹوئٹ کے تقریباً دو ماہ بعد 28 دسمبر 2019 کو ٹوئٹر پر آپ نے ہمارے موکل پر مبینہ ریپسٹ ہونے کا جھوٹا اور بدنیتی پر مبنی الزام لگایا۔ اس کے بعد سے آپ اس جھوٹے الزام کو کراچی اور دیگر شہروں سمیت مسلسل پاکستان بھر میں پھیلا رہے ہیں، ہمارے موکل اس بات کو یکسر مسترد کر چکے ہیں کہ وہ کبھی کسی پر جنسی تشدد کے مرتکب نہیں ہوئے اور آپ کو انہوں نے کبھی ریپ کا نشانہ نہیں بنایا۔’ قانونی نوٹس میں کہا گیا کہ ‘جھوٹا اور بدنیتی پر مبنی الزام، ریاست اور معاشرے کے وسیع تر مفاد میں ہونے کے بہکاوے میں آکر ان کے ذاتی مفادات اور جابرانہ بیانیے کے فروغ کے لیے لگایا گیا ہے جو ہمارے موکل کی ساکھ، بالخصوص آزادی صحافت کے لیے ممتاز طور پر آواز اٹھانے پر ان کی ساکھ کو تباہ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔’ نوٹس میں الزام کو حمید ہارون کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے دیا جانے والا جھوٹا بیان قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ‘اس کا مقصد حمید ہارون کی تضحیک، ان پر ناجائز تنقید، ناپسندیدگی کا اظہار، توہین اور ان سے نفرت کا اظہار اور آزادی صحافت کو نشانہ بنانا ہے۔’
نوٹس کے مطابق اگر جامی 14 روز میں عوامی سطح پر غیر مشروط معافی نہیں مانگتے اور تمام سوشل میڈیا پوسٹوں اور دیگر میڈیا کے ذریعے لگایا جانے والا ریپ کا الزام واپس لینے کا بیان جاری نہیں کرتے، تو حمید ہارون ان کے خلاف تعزیرات پاکستان، ہتک عزت آرڈیننس 2002 اور دیگر متعلق قوانین کے تحت سول اور فوجداری قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ تاہم جامی نے اپنے الزامات کو دہراتے ہوئے حمید ہارون سے معافی مانگنے سے انکار کردیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ الزامات کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔
