جام کمال بچ جائیں گے یا گھر جائیں گے؟ فیصلہ آج ہو گا

بلوچستان میں ایک مہینے سے جاری سیاسی رسہ کشی عروج پر پہنچنے کے بعد آج وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان علیانی کی قسمت کا فیصلہ ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ بلوچستان اسمبلی میں ان کی اپنی اتحادی جماعت باپ پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد داخل کرا رکھی ہے جس پر آج ووٹنگ ہونا ہے۔ پچھلے ایک ماہ سے جام کمال سے ناراض ارکان کی تمام تر کوششوں کے باوجود وزیراعلیٰ نے قبل از وقت استعفیٰ دینے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد اب ان کی قسمت کا فیصلہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہوگا۔
بلوچستان اسمبلی سیکریٹریٹ کے ایک اعلامیے کے مطابق گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا نے اسمبلی کا اجلاس بدھ (20 اکتوبر) کو سہ پہر چار بجے اسمبلی سیکریڑیٹ میں طلب کیا ہے، جس کے دوران اراکین بلوچستان اسمبلی کی جانب سے وزیراعلیٰ کے خلاف جمع کروائی گئی تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پیش کی جائے گی۔ بلوچستان میں موجودہ سیاسی بحران تب شروع ہوا جب حزب اختلاف کی جماعتوں نے گذشتہ ماہ 15 ستمبر کو 16 ارکان کے دستخط سے وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی جسے گورنر نے اعتراض لگا کر واپس کردیا تھا۔ تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) میں دو دھڑے بن گئے اور ایک نے جام کمال کے خلاف علم بغاوت بلند کرکے حزب اختلاف کا ساتھ دینے کا عندیہ دیا جس نے حکومتی ارکان کو متحرک ہونے پر مجبور کردیا اور انہوں نے بھی اپنے حمایتیوں سے میل ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کردیا۔ اس دوران صوبے کی سیاست میں ہلچل مچی رہی۔ بعد میں اگرچہ خاموشی چھا گئی لیکن اکتوبر کا مہینہ شروع ہونے پر اپوزیشن کی بجائے حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض دھڑے نے منظرعام پر آکر وزیراعلیٰ سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔
بلوچستان اسمبلی میں پریس کانفرنس کرنے والے ان ناراض اراکین میں پاکستان تحریک انصاف کے ایک رکن اور بلوچستان عوامی پارٹی کے اسد بلوچ بھی شامل تھے۔
ان ارکان نے جام کمال سے کہا کہ وہ اسمبلی میں اکثریت کھوچکے ہیں، اس لیے ان کے لیے باعزت طریقہ یہی ہے کہ وہ استعفیٰ دے کر علیحدہ ہوجائیں اور وہ صوبے اور عوام کے مفاد میں نئے قائد ایوان اور وزیراعلیٰ کا انتخاب کریں گے۔ اس کام کے لیے وزیراعلیٰ کو ایک ہفتے کا وقت دیا گیا تھا۔ اس دوران سوشل میڈیا پر وزیراعلیٰ جام کمال کے استعفے دینے کی خبریں بھی سامنے آئیں، تاہم حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی اس کی تردید کرتے ہوئے نظر آئے۔ ناراض گروپ کی طرف سے دی گئی ڈیڈ لائن کے اختتام پر چھ اکتوبر کو ایک بار پر اسمبلی میں گہما گہمی نظر آنے لگی اور ان اراکین نے پریس کانفرنس کے دوران جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروانے کا اعلان کیا۔
10 اکتوبر کو ناراض اراکین نے جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروا دی اور اس سے اگلے روز یعنی 11 اکتوبر کو بلوچستان عوامی پارٹی کے جنرل سیکرٹری منظور کاکڑ نے جماعت کی صدارت سے استعفیٰ دینے کی بنیاد پر ظہور بلیدی کو قائم مقام صدر بنادیا اور الیکشن کمیشن کو تحریری طور پر آگاہ کردیا گیا۔
تاہم جام کمال نے واضح کیا کہ وہ جماعت کی صدارت نہیں چھوڑ رہے اور نہیں چاہتے کہ اس سے انتشار پھیلے۔ تاہم اس کے بعد وزیراعلیٰ کے استعفیٰ دینے کی خبروں میں تیزی آگئی، جس کا جواب دینے کے لیے جام کمال نے ٹوئٹر کا سہارا لیا اور استعفے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسا پروپیگنڈا کرنے میں چند افراد ملوث ہیں اور میرے استعفیٰ دینے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔‘ ابھی یہ معاملات چل ہی رہے تھے کہ وزیراعلیٰ جام کمال اور ناراض گروپ کے اہم رہنما اسلام آباد چلے گئے اور انہوں نے وہاں اپنے لیے لابنگ شروع کردی۔ جام کمال نے اس دوران وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی، جس میں دیگر امور کے علاوہ سیاسی بحران بھی زیر بحث آیا۔ اس حوالے سے سیاسی تجزیہ کاروں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نے جام کمال کے بحران سے نکلنے کے لیے مدد مانگنے پر معاملے کو اندرونی قرار دے کر معذرت کرلی ہے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر وزیر اعلی بلوچستان جام کمال کی حکومت ختم ہوتی ہے تو اس کا اثر وزیراعظم عمران خان کی حکومت پر بھی پڑے گا اس لئے جام کمال بلوچستان کے وزیر اعلی کو بچانے کے لئے کافی متحرک کے لیکن اس مرتبہ ان کی کوشش میں کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہیں۔
یاد رہے کہ بلوچستان اسمبلی میں ناراض اراکین میں سے 14 نے تحریک عدم اعتماد جمع کروائی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کی تعداد 23 ہے۔ 65 کا ایوان ہے اور تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 33 ارکان کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ مشکل نہیں لگ رہا۔ 20 اکتوبر کو اسمبلی سیشن سے قبل ناراض اراکین اور وزیراعلیٰ جام کمال دونوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس اکثریت ہے اور وہ کامیاب ہوں گے۔ باپ پارٹی کے قائم مقام صدر ظہور بلیدی نے دعوی کیا ہے کہ ایوان میں انہیں کُل 40 راکین کی حمایت حاصل ہے اور ان کی اکثریت واضح ہے لہذا جام کمال کا بچنا ناممکن ہوچکا ہے۔
