جب اداکار اعجاز اسلم پھانسی کے پھندے سے لٹک گئے


حال ہی میں اداکار اعجاز اسلم نے ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران اپنے گلے میں رسی ڈال کر پھانسی لینے کی کوشش کی لیکن پھر کچھ ایسا ہوا کہ یہ منظر حقیقت میں ڈھل گیا اور اعجاز اسلم حفاظتی بیلٹ ٹوٹ جانے کی وجہ سے پھندے سے لٹک گئے۔
اداکاری میں بعض مناظر کی عکسبندی کرنا اتنا آسان بھی نہیں ہوتی جتنا اسکرین پر نظر آرہا ہوتاہے، اسی لیے ڈائریکٹرز اسٹنٹ پرسنز پرانحصار کرتے ہیں تاکہ ہیرو کو کسی بھی قسم کا نقصان نہ ہو۔ تاہم بعض حالات میں اداکار تمام تر احتیاطی تدابیر کو اپناتے ہوئے خود ہی منظر عکس بند کروادیتے ہیں لیکن پھر بھی انہونے حادثات رونما ہوجاتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی پاکستان کے معروف اداکار اعجاز اسلم کے ساتھ ہوا۔
اعجاز اسلم نے حال ہی میں انکشاف کیا کہ وہ ایک ڈرامے میں خودکشی کے سین کی ریکارڈنگ کے دوران زخمی ہوگئے تھے اور خودکشی جیسے ان کےلیے حقیقت بن گئی تھی۔ اعجاز اسلم ‘لوگ کیا کہیں گے’ نامی ڈرامے میں فیصل قریشی اور صحیفہ جبار خٹک کے ساتھ اداکاری کررہے ہیں۔ یہ ڈرامہ ایک مالدار گھرانے کو درپیش مشکل حالات کی عکاسی پر مبنی ہے کہ کیسے حالات سے ستائے شخص کی خودکشی کے بعد اس کے اہل خانہ کو زندگی کی بدترین حقیقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس ڈرامے میں اعجاز اسلم نے حسیب نامی محبت کرنے والے شوہر اور ایک پیار کرنے والا باپ کا کردار ادا کیا جو اپنے بچوں کے عیش و آرام پر پیسہ خرچ کرنے سے ہچکچاتا نہیں۔ تاہم حال ہی میں نشر ہونے والی قسط میں حسیب نے مشکل وقت کے تنگ آکر موت کو گلے لگالیا۔
ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں اداکار اعجاز اسلم نے اسی ڈرامے کا ایک سین شیئر کیا اور لکھا کہ ‘لوگ کیا کہیں گے’ میں حسیب کا سفر اختتام کو پہنچا اور آپ کے ساتھ میں نے بھی اس کردار کو الوداع کہا۔ اعجاز اسلم نے مزید لکھا میں بتانا چاہتا ہوں کہ خودکشی کے اس منظر کی عکس بندی کے دوران میں کسی طرح زخمی ہوگیا تھا، رسی کے نیچے موجود حفاظتی بیلٹ ٹوٹ گئی تھی اور میری گردن رسی میں پھنس گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ چند سیکنڈ انتہائی تباہ کن تھے، میرے پاؤں سن ہوگئے تھے، گلا گھٹ رہا تھا اور سر چکرا رہا اور اس کے بعد چند مہینوں تک میں کھانا نہیں نگل سکتا تھا۔ اداکار نے لکھا کہ ان سیکنڈز میں خودکشی میرے لیے حقیقت بن گئی تھی اور مجھے تعجب ہوتا ہے ایسا کرنے کےلیے کوئی کتنی تکلیف سے گزرتا ہوگا اور ان کے پیارے ہمیشہ کےلیے کس کرب میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
اعجاز اسلم نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ اگر اس پیغام اور حسیب کے کردار نے آپ کے دل کو چھولیا تو برائے کرم ہمیشہ اپنے پیاروں کا خیال رکھیں اور ان کے رویوں میں غیر معمولی تبدیلی دیکھیں یا آپ کو معلوم ہو کہ وہ تکلیف میں ہیں تو ان کی مدد کریں تاکہ انہیں کبھی واپس نہ آنے والے مقام سے بچاسکیں۔
خیال رہے کہ اس ڈرامے میں اعجاز اسلم اور فیصل قریشی ایک عرصے بعد اکٹھے دکھائی دیے اور انہوں نے گزشتہ برس اس ڈرامے کا اعلان کیا تھا۔ اس ڈرامے کی کاسٹ میں کنزہ رزاق، سکینہ سموں، افشاں قریشی اور حمیرا ظہیر شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button