ججز کی جاسوسی کرنے پرحکومت بھی ختم ہو سکتی ہے

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے حکومتی وکیل کو کہا ہے کہ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ججوں کی جاسوسی کرنے پر حکومت بھی ختم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ایک جمہوری حکومت کو ججز کی جاسوسی کے الزام پر ختم کیا جا چکا ہے۔ یاد رہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے حکومت پر اپنے اور اپنے خاندان کے کوائف جاسوسی کے ذریعے غیر قانونی طور پر اکٹھے کرنے کا الزام عائد کر رکھا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ حکومت کے اس عمل سے اس کی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے۔
11 جون کو سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ حکومتی بدنیتی کا نقظہ نہایت اہم ہے، انہوں نے سابق وزیر قانون اور حکومتی وکیل فروغ نسیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اب تک نہیں بتایا کہ آپ نے معزز جج کے خلاف شواہد کیسے اکھٹے کیے۔ جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ججز کی غیر قانونی نگرانی بھی ایک اہم نقظہ ہے، یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ ماضی میں ایک جمہوری حکومت کو ججزکی جاسوسی کے الزام پر ختم کیا جا چکا ہے۔
واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت کو جب ختم کیا گیا تھا تو دیگر الزامات کے ساتھ یہ الزام بھی تھا کہ اُنھوں نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی جاسوسی کی تھی۔ یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس وقت کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے چیمبرسے جاسوسی کے آلات برآمد ہوئے تھے۔
اس سے پہلے صدارتی ریفرنس کےخلاف جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور دیگر درخواستوں پر سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے سماعت کی۔ دوران سماعت جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آئین دیگر تمام قوانین کا ماخذ ہے، بہتر ہو گا کہ مس کنڈکٹ کی تعریف دیگر قوانین کے بجائے آئین کے تحت ہی دیکھی جائے۔
حکومت کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ آئین میں زیر کفالت اہلیہ اورخود کفیل اہلیہ کی تعریف موجود نہیں، ایمنسٹی اسکیم کے تحت جج اور ان کی اہلیہ پبلک آفس ہولڈر ہیں، جج کی اہلیہ بھی ایمنسٹی نہیں لے سکتی، بچوں کے لیے تو پھر بھی زیرکفالت یا خودکفیل کا ایشو ہے، اہلیہ کے لیے ایسا کچھ نہیں ہے۔ جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ یا ان کی اہلیہ سے ان جائیدادوں کے بارے میں کسی نے نہیں پوچھا؟ فروغ نسیم نے جواب دیا کہ جج سے سوال کرنے کا حق صرف سپریم جوڈیشل کونسل کو ہے، سپریم جوڈیشل کونسل نے اسی حق کے تحت جسٹس فائز عیسیٰ سے جائیدادوں کے بارے میں پوچھا۔ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ حقیقت میں یہ ثابت کرنا ہے کہ اہلیہ کی جائیداد ظاہرنہ کر کے جج نے قانونی تقاضا پورا نہیں کیا، جس پر فروغ نسیم نے دلائل دیے کہ پاناما کیس میں نواز شریف صاحب نے یہی کہا تھا کہ بچوں کی جائیداد کا مجھ سے مت پوچھیں، اس کیس میں بھی تینوں جائیدادوں کا آج تک نہیں بتایا گیا۔
حکومتی وکیل نے کہا کہ پاکستان میں 3 ایسے قوانین ہیں جس کے تحت ججز اور ان کی بیگمات کو اثاثے ظاہر کرنا ضروری ہیں، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دیگرشہریوں کو ٹیکس ایمنسٹی اسکیم میں چھوٹ حاصل ہے، لیکن ججز یا ان کے اہلخانہ کو ٹیکس ایمنسٹی اسکیم میں چھوٹ حاصل نہیں ہے۔ جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ آپ کی اس بات کا اس کیس سے کیا تعلق ہے؟ جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے کسی بھی جج سے سپریم جوڈیشل کونسل کا فورم سوال کرسکتا ہے، اگرہم آج یہ مان لیں کہ جج سے ان کی اہلیہ، زیرکفالت بچوں کے اثاثوں کے بارے نہیں پوچھ سکتے تو تباہی ہو گی۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ درخواست گزار جج کے بیرون ملک اثاثے تسلیم شدہ ہیں، معزز جج کے اہلخانہ کے بیرون ملک اثاثوں کی کوئی مورگیج نہیں ہے۔
جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ جو اثاثے تسلیم کیے گئے ان کو ظاہرکرنا چاہیے تھا، اگر بیگم آزاد، اپنی انکم سے اثاثے خرید سکتی ہیں تو اس کی وضاحت بھی بیگم ہی دے سکتی ہیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ آپ سے کوئی نہیں کہتا کہ نہ پوچھیں، کیا آپ نے ان کی بیگم سے پوچھا کہ جائیداد یا فلیٹ کہاں سے لائیں؟ فروغ نسیم نے جواب دیا کہ ڈسپلنری ایکشن میں بیگم سے نہیں پبلک آفس ہولڈر سے پوچھا جاتا ہے، جس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ نیب قانون میں بھی جس کے نام پراپرٹی ہوتی ہے اس کو ظاہر کیا جاتا ہے، اگر اصل سورس نہ ملے تو پھر دیگر سے پوچھا جاتا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگر خود مختار بیگم اپنی آمدن سے جائیداد خریدتی ہے تو وہ اس کی وضاحت بھی دے سکتی ہے جبکہ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ سوال یہ ہے کیا بیگم سے پوچھا گیا کہ جائیداد کہاں سے خریدی گئی؟
فروغ نسیم نے کہا کہ گریڈ 22 کے سیکریٹری کے لیے بنائے گئے قواعد ججز پر بھی لاگو ہیں، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ججز کو ملنے والے مراعات، قواعد اس کیس سے کیسے متعلقہ ہیں؟ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ یاد رکھنا چاہیے کہ ریفرنس میں بنیادی ایشو ٹیکس قانون کی شق 116 کی خلاف ورزی ہے، جس پر بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ عدالت سے وعدہ ہے کہ شق 116 پر بھی بھرپور دلائل دوں گا۔ جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ سیکرٹری لیول آفیسر کے لیے بنائے گئے قواعد مراعات سے متعلق ہیں، کنڈکٹ سے متعلق نہیں، آج آپ کو مکمل وقت دیا گیا، آج آپ ایک نقظے پر بھی دلائل مکمل نہ کر سکے۔ حکومتی وکیل نے کہا کہ میں آئندہ 2 روز میں اپنے دلائل مکمل کرلوں گا۔۔
