پاکستانیوں کو امام مہدی کے نام پر ماموں بنانے والی خاتون کون تھی؟


پاکستانی عوام اتنے معصوم ہیں کہ یہ ہر دورمیں مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کے ہاتھوں ماموں بنے ہیں۔ ستر کی دہائی میں انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے جب یہ دعویٰ کیا کہ اس کے پیٹ میں پلنے اور پیدائیش سے پہلے اذن دینے والابچہ آنے والے وقت کا امام مہدی ہے تو ناصرف پاکستانیوں نے اس کی خوب آؤ بھگت کی بلکہ غیر شرعی طور پر اس عورت کی امامت میں نماز جمعہ بھی ادا کر ڈالی۔ اس خاتون کو یحییٰ خان کی حکومت نے خصوصی دعوت دے کر پاکستان بلایا اور اور سرکاری مہمان کا درجہ دیا۔ تاہم یہ بھید بعد میں کھلا کے اس کے پیٹ سے اذان اور تلاوت کی آوازیں آتی تھیں وہ دراصل ایک ٹیپ ریکارڈر کی مرہون منت تھیں۔
اگرچہ ضعیف الاعتقادی بہت سے مذاہب اور معاشروں میں پائی جاتی ہے لیکن برصغیر کے مسلمان دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کے نجات دہندہ قرار دیئے جانے والے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے حوالے سے بھی بے انتہا ضعیف الاعتقاد ثابت ہوئے۔ بالخصوص پاکستان میں چند عشروں بعد کوئی نہ کوئی امام مہدی ہونے کا دعوی کرتا ہے اور لاکھوں لوگ اس بات کو سچ مان لیتے ہیں۔ چند دہائیاں قبل انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون زہرہ فونا نے جب یہ دعوی کیا کہ اس کے پیٹ میں پلنے والا بچہ درحقیقت امام مہدی ہے تو پاکستانیوں نے بھی اس پر خوب خوشیاں منائیں اور بعدازاں زہرا فونا کو پاکستان میں بطور سرکاری مہمان بلوا کر ان کی امامت میں لاکھوں مسلمانوں نے نماز جمعہ بھی ادا کی۔ اگرچہ بعد میں پتہ چل گیا کہ زہرا فونا ایک شعبدہ باز عورت تھی اور شہرت اور پیسہ حاصل کرنے کے لئے یہ ڈھونگ رچا رہی تھی کہ اس کے پیٹ میں پلنے والا بچہ امام مہدی ہے تاہم دنیا آج بھی اس بات کو یاد کرکے مسلمانان عالم پر ہنستی ہے۔
یہ 1970 کا ایک تاریخی واقعہ ہے کہ ایک خاتون امام مہدی کے پیچھے ضعیف العتقادی کے مارے کراچی کے عوام نے جمعے کی نماز پڑھی ۔ وہ خاتون تب حکومت کی سرکاری مہمان بھی تھیں۔ اس وقت انڈونیشیا میں صدر سوہارتو کی حکومت تھی اور پاکستان میں جنرل یحیٰی خان کا مارشل لاء تھا ، انڈونیشیا کی ایک خاتون "زہرہ فونا” نے حضرت مہدی ؑ کی والدہ ہونے کا دعویٰ کر دیا۔
اس کا کہنا تھا کہ اس کے رحم میں پرورش پانے والا بچہ حضرت مہدیؑ ہے۔پھر کچھ یوں ہوا کہ وہ لوگوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو گئی ، کیونکہ اس کے پیٹ سے کان لگا کر سننے پر اذان اور تلاوت قران کی آواز آتی تھی۔ کچھ ہی عرصے میں یہ خبر پورے انڈونیشیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ جب یہ خبر انڈونیشی حکام تک پہنچی تو سب سے پہلے انڈونیشیا کے اس وقت کے نائب صدر آدم مالک نے زھرا فونا کو اپنی رہائش گاہ پر مدعو کیا اور دوران ملاقات اس کے پیٹ پر کان لگا کر اذان سننے کا شرف حاصل کیا اس کے بعد انڈونیشیا کے وزیر مذہبی امور محمد ڈیچلن نے بھی اذان سنی اور ایک بیان جاری کیا کہ امام شافعی بھی تین سال اپنی ماں کے رحم میں رہے تو امام مہدی کیوں رحم سے اذان نہیں دے سکتے۔
اس کے بعد تو گویا انڈونیشی حکام کی زہرہ فونا سے ملاقات کی لائن لگ گئی۔ خود صدر سوہارتو اور ان کی بیگم نے زہرہ سے ملاقات کی ، لوگوں نے زھرا کو مریم ثانی کا درجہ دے دیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے زہرہ کی شہرت انڈونیشیا سے نکل کر پورے عالم اسلام میں پھیل گئی اور مختلف ممالک نے زھرا فونا کو اپنے یہاں آنے کی دعوت دی ہماری عسکری حکومت کو بھی یہ شرف حاصل ہوا تاکہ لوگوں کے اذہان کو تبدیل کیا جاسکے اور ان کو روٹی کے چکر سے نکال کر آخرت پر مرکوز کروانے کیلئے زھرا کو سرکاری دعوت دے ڈالی۔ زہرہ فونا کی پاکستان آمد کے ساتھ ہی علماء سے اس بات کی تصدیق چاہی گئی کہ خاتون کے پیٹ میں بچہ واقعی امام مہدی ہی ہیں ۔ چنانچہ مولانا احتشام الحق تھانوی اور مولانا شفیع اوکاڑوی نے باری باری خاتون کی بچہ دانی کے قریب کان لگا کر اذان سننے کے بعد پورے یقین کے ساتھ بیان جاری کیا کہ اذان کی آواز خاتون کے اندرونی حصوں سے ہی آرہی ہے اور بس اب امام مہدی کی آمد آمد ہے۔
ہمارے علماء حضرات کے لئے شاید تحقیق آواز سننے کی حد تک تھی ۔ انہیں صرف ریڈیو اور ٹی وی کا علم تھا ، اس وقت ٹیپ ریکارڈر کا کوئی خاص تصور نہیں تھا اگر کسی اشرافیہ کے گھر ٹیپ ریکارڈر تھا بھی تو بڑے ڈبے نما تھا، انہوں نے اس آواز کے منبع کی مزید کرید و جستجو مناسب نہ سمجھی کہ یہ خبر ہی اس قدر دل خوش کن تھی کہ برادران اسلام مزید کچھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے قاصر ہوگئے۔ نہ صرف ہمارے علماء بلکہ انڈونیشی جید علماء، اور عالم اسلام کے دیگر ممالک کے عالم بھی اس جھانسے میں آگئے۔ پھر کچھ یوں ہوا کہ کراچی کی تقریباً پانج لاکھ سے زائد آبادی اور تمام مسالک اور مکاتب فکر کے جید علماء زھرا فونا کی امامت میں جمعہ نماز کی ادائیگی بجا لائے ۔
رہی بات زہرہ کی اقتدا میں نماز پڑھنے کی تو اسے ضعیف الاعتقادی اور جہالت ہی کہا جاسکتا ہے کہ کہ اگر نعوذ باللہ امام مہدی اس کے بطن میں موجود تھے بھی تو ان کی اقتدا میں نماز پڑھنے کے لئے ان کی پیدائش کا انتظارتو کرلیا جاتا۔ یہ کس قدر مضحکہ خیز ہے کہ وہ عورت اپنی ٹانگیں کعبہ کی طرف کھول کر بیٹھ گئی اور اس کی ٹانگوں کے درمیان مائیک اسٹینڈ رکھ دیا جاتا اور عوام معہ علما و مشائخ حضرات اسکے پیچھے امام مہدی کی اقتداء میں نماز ادا کرتے ہیں۔
پھر کچھ یوں ہوا کہ چند ڈاکٹروں کے لئے اس بات پر یقین کرنا مشکل ہو گیا۔ چنانچہ انہوں نے حققیت جاننے کی ٹھان لی۔ مگر زہرہ فونا ہر دفعہ انہیں چکر دے کر نکل جاتی۔ مسلسل کوشش کے بعد ایک دن ڈاؤ میڈیکل کالج کے ڈاکٹر اسے قابو کرنے میں کامیاب ہو گئے اور دوران تفتیش زہرہ فونا کی ٹانگوں کے درمیان پھنسا ہوا ننھا منا ٹیپ ریکارڈر برآمد کرلیا۔ تاہم اسی روز زھرا فونا پاکستان سے براستہ انڈیا انڈونیشیا بھاگ گئی اور پاکستانیوں نے مزید ماموں بننے کا عظیم موقع ہاتھ سے کھو دیا۔ بعد میں زہرہ فونا اور اس کے شوہر انڈونیشیا میں گرفتار ہوئے اور انہوں نے قبول کیا کہ یہ سب انہوں نے دولت اور شہرت حاصل کرنے کے لئے کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button