جسٹس عظمت شیخ کا 15 لاکھ ماہانہ تنخواہ کا مطالبہ منظور


سپریم کورٹ کے سابق متنازعہ جج عظمت شیخ سعید کی جانب سے براڈ شیٹ سکینڈل کی تحقیقات کرنے کے عوض 15 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ اور دیگر مراعات کے مطالبے کی منظوری نے انہیں مذید متنازعہ کر دیا یے خصوصا جب براڈ شیٹ سے غلط معاہدے اور برطانوی عدالت میں کیس کی کمزور پیروی کے باعث قومی خزانے کو پہلے ہی 7 ارب روپے سے زائد کا بھاری نقصان نقصان اٹھانا پڑ چکا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ براڈ شیٹ اورانٹرنیشنل ایسٹ ریکوری اسکینڈل کی تحقیقات کیلیے قائم کیے جانے والے عدالتی کمیشن کے سربراہ جسٹس عظمت شیخ کی جانب سے بغیر تنخواہ اور مراعات کے کام کرنے سے انکارکے بعد کپتان حکومت نے انہیں سپریم کورٹ کے جج کے مساوی تنخواہ اور مراعات دینے کا فیصلہ کیا ہے جس سے قومی خزانے پر 15 لاکھ روپے ماہانہ کا مزید بوجھ پڑے گا۔ واضح رہے کہ ماضی میں نیب کے لیے کام کرنے والے متنازعہ جسٹس عظمت شیخ کی تعیناتی کو ابھی تک اپوزیشن جماعتوں نے بھی قبول نہیں کیا۔ اب انکی جانب سے خطیر تنخواہ اور مراعات کے مطالبے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں جسٹس ر عظمت شیخ پر اٹھنے والے اعتراضات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ذرائع کے مطابق براڈ شیٹ کی تحقیقات کرنے والے شیخ عظمت سعید نے براڈ شیٹ کی انکوائری کے لئے حکومت سے بھاری معاوضے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جس پر کچھ پس و پیش کے بعد حکومت نے بھی مادگی ظاہر کرتے ہوئے 15 لاکھ روپے ماہانہ ادا کرنے کی حامی بھر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سے قبل اس قسم کے انکوائری کمیشن میں حاضر سروس افسران کو تنخواہ و دیگر مراعات نہیں د ینا پڑتی تھیں اور وزارت قانون نے بھی پچھلے ماہ یہ اعلان کیا تھا کہ جسٹس عظمت شیخ اس کمیشن کی سربراہی کے عوض کسی قسم کی کوئی تنخواہ یا مراعات وصول نہیں کریں گے۔ یاد رہے کہ اس تنخواہ کے علاوہ جسٹس عظمت شیخ پہلے ہی بطور ریٹائیرڈ سپریم کورٹ جج اپنی تنخواہ کا 75 فیصد حصہ ہر ماہ بطور پینشن وصول کر رہے ہیں۔
تاہم وفاقی وزارت قانون نے وزیر اعظم عمران خان کی منظوری کے بعد کابینہ کو سمری ارسال کر دی ہے جو کابینہ کے آئندہ اجلاس میں رسمی منظوری کے لئے پیش کی جائے گی۔ یاد رہے کہ حالیہ دنوں تحریک انصاف حکومت نے براڈ شیٹ، حدیبیہ پیپرملز اور سرے محل اور سوئش بینک اکاؤنٹس کی انکوائری کے لیے جس ایک فرد پر مشتمل تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا وہ جسٹس عظمت سعید شیخ ہیں جو جنوری سنہ 2019 میں سپریم کورٹ سے بطور جج ریٹائر ہوئے تھے۔ 2000 میں جس وقت براڈ شیٹ اور نیب کے درمیان بیرونی ممالک میں پاکستانی سیاستدانوں کی جائیدادوں کا سراغ لگانے کے لیے معاہدہ ہوا تھا تب عظمت شیخ نیب میں بطور ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل تعینات تھے اور نیب کے مختلف مقدمات کی پیروی کے سلسلے میں عدالتوں میں پیش ہوتے تھے۔ دسمبر 2004 میں اس وقت کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے اُنھیں لاہور ہائی کورٹ میں ایڈیشنل جج تعینات کیا تو وہ نیب سے الگ ہو گے۔ جسٹس عظمت سعید اعلیٰ عدلیہ کے ان ججز میں شامل تھے جنھوں نے سابق ڈکٹیٹر مشرف کی طرف سے نومبر 2007 میں لگائی جانے والی ایمرجنسی کے دوران پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن جسٹس عظمت سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے ساتھ بحال نہیں ہوئے تھے بلکہ انھوں نے پیپلز پارٹی کے دور میں مشہور زمانہ نائیک منصوبے کے تحت اپنے عہدے کا دوبارہ حلف اس وقت کے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس زاہد حسین سے لیا تھا جنھوں نے فوجی صدر پرویز مشرف کے دوسرے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا۔
جسٹس عظمت سعید 2011 میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنائے گئے اور ایک سال سے بھی کم عرصے تک اس منصب پر فائز رہنے کے بعد 2012 میں سپریم کورٹ میں جج تعینات کر دیے گئے۔ جسٹس عظمت 27 اگست 2019 میں بطور جج سپریم کورٹ اپنے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ سپریم کورٹ میں بطور جج وہ مختلف بینچوں کا حصہ رہے جنھوں نے مختلف سیاسی مقدمات کی سماعت بھی کی۔ وہ پاناما لیکس کیس میں نواز شریف کو نااہل قرار دینے والے بینچ کا بھی حصہ تھے جس وجہ سے نواز لیگ کی قیادت نے ان کی بطور براڈ شیٹ کمیشن سربراہ تعیناتی کی شدید مخالفت کی ہے اور حسین نواز شریف نے ان پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ حسین نواز نے ریٹائرڈ جسٹس عظمت شیخ پر گزشتہ عام انتخا بات سے قبل ’پری پول رگنگ‘ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ عظمت سعید براڈ شیٹ کمیشن کی سربراہی کے لیے انتہائی متنازع شخصیت ہیں۔ یہ ایک سنگل پرسن کمیشن ہے جس میں عظمت سعید سے زیادہ متنازع شخصیت شامل نہیں ہو سکتی تھی، انہوں نے کہا کہ عظمت سعید جنرل مشرف کے آئین شکن اقدامات کو قانونی جواز فراہم کرنے کیلئے نیب کا حصہ بھی بنے۔ حسین نے کہا کہ براڈ شیٹ کمیشن لوگوں کے سیاہ کرتوتوں پر “ سفیدی” پھیرنے کا کام کرے گا، کیونکہ براڈ شیٹ کے ساتھ ہونے والے مجرمانہ معاہدے پر دستخط کرنے والوں میں عظمت سعید خود بھی شامل تھے۔حسین نواز نے کہا کہ عظمت سعید نے نیب میں بیٹھ کر سیاستدانوں اور شریف فیملی کے خلاف مقدمات بنائے، اور پاناما کیس میں واٹس ایپ جے آئی ٹی کے معاملے کے پیچھے بھی عظمت سعید ہی مرکزی کردار تھے۔ نواز شریف کے صاحبزادے نے کہا کہ عظمت سعید نے بھری عدالت میں نواز شریف حکومت کو سسلین مافیا کہا اور اپنی نفرت کا اظہار کیا۔
لہذا سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کیخلاف ریفرنسز کی پیروی کرنے والے سابق جسٹس عظمت سعید کی سربراہی نے براڈشیٹ تحقیقاتی کمیشن کی جانبداری پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ عظمت سعید کے لیگی قیادت مخالف ریمارکس کی وجہ سے مسلم لیگ ن انکی سربراہی میں انکوائری کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے پہلے ہی مطالبہ کر چکی ہے کہ وہ کمین سے رضا کارانہ طور پر الگ ہو جائیں ورنہ ان کے کردار کے حوالے سے ایسے حقائق سامنے لائے جایئں گے جو پہلے کبھی سامنے نہیں لائے گئے۔ تاہم جسٹس عظمت شیخ نے کمیشن کی سربراہی سے علیحدہ ہونے کی بجائے پندرہ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ اور دیگر مراعات مانگ لیں اور حکومت نے ان کا یہ مطالبہ پورا بھی کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید کی سربراہی میں ایک رکنی کمیشن براڈ شیٹ سکینڈل کے علاوہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے معاملات کی تحقیقات کرے گا۔ حکومتی بیان کے مطابق یہ کمیشن نواز شریف کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز اور آصف علی زرداری کے سرے محل اور سوئس بینک اکاونٹس کے معاملے کی تحقیقات کرے گا۔ ماضی میں ان کیسز پر سپریم کورٹ اپنے فیصلے دی چکی ہے۔ حکومت کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ یہ کمیشن پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ سنہ2017 کے تحت کام کرے گا اور اس کمیشن کو وہ تمام اختیارات حاصل ہوں گے جو کہ اس ایکٹ میں بنائے گئے ہیں۔ تاہم اہم سوال یہ ہے کہ ایک متنازعہ شخص کی سربراہی میں قائم کردہ کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ کی ساکھ کیا ہوگی؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button