جسٹس عظمت شیخ کی بطور کمیشن سربراہ تعیناتی متنازعہ ہوگئی


وفاقی حکومت کی جانب سے براڈ شیٹ سکینڈل کی تحقیقات کے لیے تین رکنی انکوائری کمیٹی کی سربراہی عدالت عظمیٰ کے سابق جج جسٹس عظمت سعید شیخ کو سونپنے کا فیصلہ نوازشریف کی جانب سے تنقید کی زد میں آنے کے بعد تنازعے کا شکار ہوگیا ہے کیونکہ جسٹس عظمت اس بینچ کا حصہ تھے جس نے نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کا فیصلہ دیا تھا۔ جسٹس عظمت ان ججوں میں شامل تھے جنھوں نے نواز شریف کے خلاف پاناما لیکس میں عمران خان کی درخواست کے فیصلے میں وزیراعظم کی فوری نااہلی کی بجائے انکے خلاف تحقیقات کے لیے ایک جے آئی ٹی کی تشکیل کا فیصلہ دیا تھا۔ تاہم یہ ایک حقیقیت یے کہ جب 2000 میں براڈ شیڈٹ اور نیب کے درمیان نواز شریف اور دیگر سیاستدانوں کی جائیدادوں کا سراغ لگانے کے لیے معاہدہ ہوا تھا تو اس وقت جسٹس (ر) شیخ عظمت سعید نیب میں ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل تھے.
اس کے علاوہ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ شوکت خانم ہسپتال کے بورڈ آف گورننس میں ممبر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ تاہم جسٹس عظمت شیخ اب براڈ شیٹ سکینڈل میں کمیشن اور کک بیک مانگے جانے کے الزامات کی تحقیقات کریں گے۔

کاوے موسوی کی طرف سے یہ الزامات تب سامنے آئے جب براڈ شیٹ ایل ایل سی نے پاکستانی حکومت کے خلاف برطانیہ میں ثالثی کا ایک مقدمہ جیتا ہے۔ اس کے بعد عدالتی حکم پر انھیں برطانیہ میں پاکستانی سفارتخانے کے بینک اکاؤنٹ سے لگ بھگ 29 ملین ڈالر کی رقم ادا کی گئی ہے۔ کاوے موسوی نے یہ دعوٰی کیا ہے کہ انھوں نے سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے خاندان سمیت کئی پاکستانی سیاستدانوں کے بیرونِ ممالک میں بنائے گئے لاکھوں ڈالر مالیت کے بینک اکاؤنٹس اور اثاثہ جات کا سراغ لگا لیا تھا لیخن کچھ سینئر پاکستانی حکام نے ان سے کک بیک اور کمیشن مانگی تھی جو انہوں نے دینے سے انکار کر دیا۔ ان الزامات پر اپوزیشن کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر حکومت پاکستان نے تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ عظمت شیخ کی تحقیقاتی کمیٹی کو یہ مینڈیٹ ہو گا کہ وہ ڈیڑھ ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیٹی کو وکلا کے علاوہ تحقیقات میں معاونت کے لیے ماہرین کی خدمات بھی حاصل ہوں گی۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن نے جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید شیخ کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جماعت کے جنرل سیکریٹری احسن اقبال نے کہا ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید نہ صرف نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے والوں میں شامل رہے ہیں بلکہ خود نیب کا حصہ رہے ہیں اور شوکت خانم ہسپتال کے بورڈ آف گورننس کے ممبر بھی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو بندہ اس معاملے سے منسلک رہا ہو اور جس کے فیصلے کو براڈ شیٹ نے اپنی تحقیقات میں شامل کیا ہو اسی کو اس معاملے کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی دی جائے۔

یاد رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید شیخ کا شمار پاکستان کی عدالتی تاریخ کے ان ججوں میں سے ہوتا ہے جن کے ہاتھوں سے ایسے فیصلے لکھے گئے جنہوں نے پاکستان کی سیاست پر گہرے نقوش چھوڑے۔ جسٹس عظمت سعید کا تعلق لاہور سے ہے اور انہوں نے 1980 میں وکالت کے شعبے میں قدم رکھا۔ بطور وکیل انہوں نے کارپوریٹ وکالت کی پریکٹس کی۔ قانوی ماہرین کے مطابق وہ ٹیکس اور کاروباری و قانونی معاملات پر ایک سند کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی وکالت میں پہلا موڑ اس وقت آیا جب انہوں نے 1997 میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کے بنائے گئے قومی احتساب بیورو میں خصوصی پراسیکیوٹر کے طور پر ذمہ داریاں سر انجام دیں۔ اس کے بعد سابق فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور میں جب قومی احتساب بیور یعنی نیب کا ادارہ بنایا گیا تو 2001 میں شیخ عظمت سعید نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر بنے۔ ق لیگ کے دور حکومت میں 2004 میں انہیں پہلی دفعہ لاہور ہائی کورٹ کا ایڈہاک جج مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں 2005 میں وہ لاہور ہائی کورٹ کے مستقل جج بن گئے۔ 2007 میں جب پرویز مشرف نے ایمرجنسی لگا کر چیف جسٹس افتخار چوہدری کو گھر میں نظر بند کیا تو اس وقت جن ججز نے ایل ایف او پر حلف نہیں اٹھایا تھا شیخ عظمت سعید ان میں سے ایک تھے۔ انہیں ڈیفنس ہاوسنگ سوسائٹی میں ان کے گھر پر ہی نظر بند کیا گیا۔ نومبر 2011 میں ان کو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ لگا دیا گیا۔ ایک سال چیف جسٹس رہنے کے بعد سال 2012 میں وہ سپریم کورٹ کے جج بنے۔

بطور سپریم کورٹ جج عظمت شیخ کے کیرئیر کا سب سے بڑا فیصلہ پانامہ کیس سے متعلق تھا۔ وہ انہی ججز میں شامل تھے جنہوں نے نواز شریف کے اثاثہ جات کی چھان بین کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دی۔ بعد ازاں اس جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں نواز شریف کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا حکم جاری کیا۔ ستمبر 2019 میں وہ بطور سپریم کورٹ جج ریٹائرڈ ہوئے۔ دوسری طرف وفاقی وزیر شبلی فراز کا۔کہنا ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید کارپوریٹ لا کے ایک بہترین وکیل بھی رہے ہیں اس لیے ان کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کے طور پر تعیناتی سے اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔

یاد رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے مطالبہ کیا تھا کہ چیئرمین نیب کو قومی اسمبلی اور سینٹ میں بلا کر براڈشیٹ کیس میں بطور جرمانہ ادا کیے جانے والے ساڑھے سات ارب روپے کے حوالے سے پوچھو جانا چاہیے۔ لیکن وفاقی اطلاعات شبلی فراز نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ چیئرمین نیب کو طلب کرنے کے لیے یہ مناسب فورم نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر چیئرمین نیب کو ہی بلانا ہے تو ان تمام کرداروں کو بھی طلب کیا جائے جو براڈ شیٹ کے معاملے میں ذمہ دار ہیں۔

دوسری طرف جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی پانچ حصوں کی جانچ کرے گی اور اس معاملے میں شامل اور اس سے مستفید ہونے والے افراد کا تعین کرے گی:

سب سے پہلے تحقیقاتی کمیٹی پتہ کرے گی کہ نیب کی جانب سے براڈ شیٹ اور دیگر انٹرنیشنل ایسٹ ریکوری فرمز کا انتخاب کیسے کیا گیا، ان فرمز کا تعارف کس نے کرایا، فرم سے معائدے کا ڈرافٹ کس نے تیار کیا۔

یہ بھہ پتہ کیا جائے گا کہ اکتوبر 2003 میں کن وجوہات کی بنا پر معاہدے کو منسوخ کیا گیا، نیب نے کب معاہدے کی منسوخی کا فیصلہ کیا، کیا معاہدے کی منسوخی سے قبل براڈ شیٹ کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا گیا۔

یہ بھی معلوم کیا جائے گا لہ جنوری 2008 میں آئی اے آر اور مئی 2008 میں براڈ شیٹ کے ساتھ تصفیے کی شرائط کیا تھیں، تصفیے کے وقت کس قسم کی قانونی مشاورت کی گئی، تصفیے کے لیے ادائیگی کا طریقہ کار کیا تھا۔

یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ حکومت پاکستان نے کس انداز میں لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آربیٹریشن کے سامنے کارروائی میں ثالثی کی اور لندن ہائی کورٹ آف جسٹس میں اپیل دائر کی، اور کیا قانونی چارہ گوئی کے عمل کی معقول نگرانی کی گئی۔

اسکے علاوہ دعویدار کو رقم کی ادائیگی کے عمل اور برطانیہ میں حکومت پاکستان کے اثاثوں کی حفاظت کے بارے میں بھی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ نکوائری کمیٹی کو کسی بھی فرد کو طلب کرنے اور کسی بھی محکمے سے ریکارڈ طلب کرنے کا اختیار بھی حاصل ہو گا۔

اسکے علاوہ موسوی کی جانب سے کک بیکس اور کمیشن مانگے جانے کے الزامات کی تحقیقات بھی کی جایئں گی۔
موسوی کا الزام یے کہ موجودہ حکومت کے اندر ہی سے ان کے ساتھ بات چیت کرنے والے چند افراد نے انھیں پیشکش کی تھی کہ ‘ہم اثاثے ڈھونڈنے کا آپ کا نیا کانٹریکٹ کروا دیں گے لیکن یہ بتائیں کہ اس میں ہمارا حصہ کتنا ہو گا۔’ ان کا کہنا تھا کہ اس کے فوراً بعد انھوں تمام تر بات چیت روک دی تھی۔ ’ہم نے ان سے کہا کہ ہم معاوضے کی اس رقم کو بھول جاتے ہیں اور آئیں مل کر اس پر پھر سے کام کرتے ہیں۔ ہم نے معاہدے کا ایک مسودہ بھی تیار کر لیا تھا لیکن عمران خان کی حکومت کے اندر ہی سے چند عناصر نے ایک مرتبہ پھر اس کوشش کو سبوتاژ کر دیا۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button