اصغر خان نے اپنا سیاسی کیرئیر کیسے داغدار کیا؟

1968 میں فوجی ڈکٹیٹر ایوب خان کے حکومت کے خلاف ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے اپنی سیاسی جماعت میں شامل ہونے کی دعوت ٹھکرانے اور بعد ازاں بھٹو ہی کی گرفتاری پر مجبوراً عملی سیاست میں قدم رکھنے والے پاک فضائیہ کے سابق سربراہ اصغر خان کے تمام تر زندگی اصول پسندی سے عبارت تھی لیکن جنرل ضیاء کا مارشل لاء لگوانے اور پھر ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل میں حصہ دار ہونے کا الزام اپنے سر لے کر اس دنیا سے رخصت ہوئے. یاد رہے کہ اصغر خان نے بھٹو کے خلاف قومی اتحاد کی تحریک کے دوران جنرل ضیا کو ایک خط لکھ کر ٹیک اوور کرنے کی دعوت دی اور پھر ایک تقریر میں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ بھٹو کو اقتدار سے نکال کر کوہالہ کے پل پر پھانسی دیں گے.
اصغر خان کو شاید بھٹو سے یہ گلہ تھا کہ وہ اپنی تقاریر میں ان کو آلو خان کے نام سے سے پکارتے تھا. پھر وہ وقت آیا جب جنرل ضیاء الحق نے قومی اتحاد کی تحریک کی آڑ میں بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ان کو قتل کے ایک جھوٹے الزام میں پھانسی پر لٹکا دیا. پھر تاریخ کا پہیہ گھوما اور اصغر خان کے اپنے بیٹے عمر اصغر نے پنکھے سے لٹک کر پھانسی لے لی. اصغر خان کو بھی قومی اتحاد کے دیگر رہنماؤں کی طرح ضیا مارشل لا کے نفاذ کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے مارشل لاء لگنے کے بعد ضیاالحق کے خلاف ایم آر ڈی کی تحریک میں بھی بساط بھر حصہ ڈالا. اس سے پہلے انہوں نے 1969 میں فوجی آمر ایوب خان کی ڈکٹیٹر شپ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہلال پاکستان اور ہلال امتیاز کے اعزازات فوجی حکومت کو لوٹا دیے.تھے.
اس سے پہلے 1957 سے 1965 تک پاک فضائیہ کی کمان اصغر خان کے پاس رہی، اس عرصے میں انہوں نے فضائی فوج کی تعمیر وترقی کےلیے بڑی تندہی سے کام کیا۔ اصغر خان نے اپنی کتاب ’دی فرسٹ راﺅنڈ:پاک و ہند جنگ 1965 میں اپنی پاک فضائیہ سے جذباتی وابستگی کی وجہ کچھ یوں بیان کیا: ’میرے دو بھائی آصف اور خالد، فضائیہ کی خدمت میں جان دے چکے تھے۔ ایک 1948 میں حادثے میں جان بحق ہوا، یہ ہماری ائیر فورس کا پہلا حادثہ تھا جس میں کوئی جانی نقصان ہوا۔
دوسرا بھائی دس برس بعد ایک فضائی حادثے میں شہید ہوگیا۔ ان سانحوں نے میرے دل پر جو داغ چھوڑے ان کی گہرائی کا پورا اندازہ میرے قریبی دوستوں تک کو نہیں۔ ذاتی صدمے سے قطع نظر، انہوں نے میرے اور فضائی فوج کے درمیان ایسا گہرا رشتہ قائم کردیا جسے وقت کی رفتار نہیں مٹا پائی.
پاک فضائیہ سے سنہ 1965 ریٹائرمنٹ کے بعد اصغر خان تین برس پی آئی اے کے سربراہ رہے۔ سنہ 1968 میں ریٹائرمنٹ کے بعد ایبٹ آباد میں ان کے شب و روز گزرنے لگے۔
اس زمانے میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ رہا تھا۔ ایوب خان کے مخالف صف آرا ہو رہے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھ دی تھی۔ وہ ایوب خان کو للکار رہے تھے۔
بھٹو نے اصغر خان کو اپنی پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی جو انہوں نے قبول نہ کی۔ نومبر1968 میں بھٹو کی گرفتاری نے انہیں میدانِ عمل میں اترنے پر مجبور کیا۔
ان کے بقول ’بھٹو کی گرفتاری کے بعد میں نے محسوس کیا کہ عوام کے حقوق کےلیے کوئی آواز ضرور اٹھنی چاہیے۔‘
لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میں ان کے خطاب کا لوگوں پر بڑا اثر ہوا جس کے بعد ملک بھر سے بار ایسوسی ایشنز نے انہیں خطاب کی دعوت دی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایوب خان کے خلاف ان کی آواز بلند ہوتی چلی گئی۔
29 جنوری 1969کو انہوں نے ’ہلال پاکستان‘ اور ’ہلال امتیاز‘کے اعزازات، فوجی حکومت کو لوٹا دیے۔
اصغر خان کی اس دور میں مقبولیت کا کیا عالم تھا، اس کا اندازہ معروف براڈ کاسٹر رضا علی عابدی کی کتاب ’اخبار کی راتیں‘ کے اس اقتباس سے کیا جاسکتا ہے وہ لکھتے ہیں کہ ’مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس وقت ایوب خان کے خلاف تحریک بھٹو نہیں، اصغر خان چلا رہے تھے اور مقبول ہورہے تھے۔ اب پیپلزپارٹی والوں کو بتاتا ہوں تو وہ ماننے سے انکار کرتے ہیں۔‘
سنہ 1970 کے الیکشن میں اصغر خان کی پارٹی تحریک استقلال بری طرح ناکام ہوئی۔ البتہ مشرقی پاکستان کے بحران میں ان کا سیاسی کردار مثبت رہا۔ انہوں نے فوجی آپریشن کی مخالفت اور یحییٰ خان پر زور دیا کہ وہ مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے اقتدار شیخ مجیب الرحمٰن کو سونپ دیں۔
مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پیپلز پارٹی نے اقتدار سنبھالا تو اصغر خان ان کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے رہے، اس کی قیمت بھی ادا کی۔ انہیں انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ بھٹو نے ’آلو خان‘ کہہ کر ان کا تمسخر اڑایا۔
اصغر خان ان کی مخالفت میں اس حد تک گئے کہ انہیں کوہالہ پل پر پھانسی دینے کی ناروا بات کی۔
پیپلز پارٹی کے مقابلے میں پاکستان نیشنل الائنس بنا جس نے 1977 کے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف تحریک چلائی، اصغر خان اس اتحاد کے نمایاں لیڈر تھے۔
انہوں نے اس تحریک کے دوران مسلح افواج کے نام ایک خط لکھا جس میں انہیں بغاوت پر اکسایا گیا تھا۔ یہ خط ان کی سیاسی زندگی میں ایک ایسا سوال بن گیا جس کا وہ عمر بھر تشفی بخش جواب نہ تراش سکے۔
پی این اے کی تحریک کے نتیجے میں بھٹو اقتدار سے ہٹا.دیے گئے۔ سادہ لوح اصغر خان یہ سمجھ رہے تھے کہ ضیاالحق الیکشن کروا دیں گے۔ ملکی سیاست میں مائنس بھٹو ہونے پر ان کا خیال تھا کہ امکانات کے نئے دریچے کھلیں گے۔ لیکن پھر ان پر کھلا کہ ضیا اقتدار منتخب نمائندوں کو منتقل کرنے میں سنجیدہ نہیں تو وہ ان کی مخالفت پر کمربستہ ہوگئے۔ ضیا کی ڈکٹیر شپ کے خلاف مختلف پارٹیوں نے جن میں پیپلز پارٹی بھی شامل تھی تحریک بحالی جمہوریت یعنی ایم آر ڈی کے نام سے اتحاد بنایا تو اصغر خان اس کا حصہ بنے۔
اس سیاسی ملاپ کا بنیادی مقصد تھا کہ مارشل لا ختم کرکے ملک میں آزادانہ انتخابات کے ذریعے اقتدار عوامی نمائندوں کے حوالے کیا جائے۔ ضیاالحق کے دور میں وہ پانچ سال گھر میں نظر بند رہے۔
اصغر خان کا شمار بھٹو کے کٹر مخالفین میں ہوتا تھا لیکن حالات نے پیپلز پارٹی اور تحریک استقلال کو ایم آر ڈی کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کردیا۔
1990 میں پیپلزپارٹی کے ساتھ ان کا انتخابی اتحاد ہوگیا۔ اصغر خان لاہور سے نواز شریف کے مقابلے میں قومی اسمبلی کا الیکشن ہار گئے۔ یہ وہی نواز شریف تھے جن کے سیاسی کیرئیر کا آغاز تحریک استقلال سے ہوا تھا۔
سنہ 1993 میں انہوں نے صدارتی امیدوار کے طور پر کاغذات جمع کرائے لیکن بعد ازاں انہیں واپس لے لیا۔
اصغر خان سیاست میں ایجنسیوں کے کردار کے سخت ناقد رہے۔ سنہ 1996میں پیپلز پارٹی کے دور میں وزیر داخلہ نصیراللہ بابر نے قومی اسمبلی میں بیان دیا کہ 1990 کے انتخابات میں صدر غلام اسحاق خان کے کہنے پر آئی ایس آئی نے سیاستدانوں میں پیسے تقسیم کیے۔
اس پر اصغر خان نے چیف جسٹس سے اس غیرقانونی فعل پر ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
اس کیس کی سماعت شروع تو ہوگئی لیکن اس کا فیصلہ آنے میں ’صرف‘ سولہ برس لگے۔ عمل درآمد کی نوبت کا مرحلہ ہنوز نہیں آیا۔ پاکستانی کی عدالتی تاریخ میں اس کیس کو بہت شہرت حاصل ہوئی۔ اسے اصغر خان کیس کے نام سے جانا جاتا ہے۔
سیاسی زندگی کے آخری حصے میں اصغر خان کی عمران خان کے ساتھ بہت ذہنی قربت رہی۔1997 اور 2002 میں تحریک انصاف کی بری طرح ناکامی پر لوگوں نے عمران خان کو پاکستانی سیاست کا اصغر خان بھی قرار دیا۔
اصغر خان کی کتاب ’تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا‘ کی لاہور میں تقریب رونمائی ہوئی تو اس میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ انہیں طنزاً اصغر خان کہا جاتا ہے لیکن وہ اس پر برا نہیں مانتے بلکہ یہ بات ان کےلیے باعث فخر ہے۔ اصغر خان کا عمران خان پر یہ بے پناہ اعتماد ہی تھا کہ انہوں نے 2012 میں اپنی پارٹی کو تحریک انصاف میں ضم کردیا۔
اصغر خان کے بیٹے عمر اصغر بھی سیاست میں حصہ لیتے رہے۔ جنرل پرویز مشرف کی کابینہ میں وزیر رہے۔ قومی جمہوری پارٹی بھی قائم کی لیکن اس سے پہلے کہ وہ جڑ پکڑتی 2002 میں انہیں موت کا بلاوا آگیا۔ اصغر خان کے بقول، عمر اصغر ان کی جدوجہد اور امیدوں میں شامل تھے۔
اصغر خان جدوجہد سے بھرپور زندگی گزارنے کے بعد 97 برس کی عمر میں، پانچ جنوری 2018 کو راولپنڈی میں انتقال کرگئے۔
