پاکستانی تعلیمی اداروں میں استاد جنسی بھیڑیے کیوں بن گئے؟

پاکستانی تعلیمی اداروں میں مرد اساتذہ کے ہاتھوں طالبات کے جنسی استحصال کے واقعات میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے جو ہماری معاشرتی اخلاقیات میں گراوٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ استاد کو ہمارے معاشرے میں والد کا درجہ دیا جاتا ہے لیکن جب استاد ہی بھیڑیا بن جاتا ہے تو پھر پیچھے کیا رہ جاتا ہے۔
ایسے ہی ایک تازہ واقعے میں خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی گومل یونیورسٹی میں ایک طالبہ کی جانب سے ایک پروفیسر پر عائد کیے گئے ہراسانی کے الزامات کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد مذکورہ پروفیسر کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ شعبہ سیاسیات کی ایم فل کی ایک طالبہ نے وائس چانسلر کو لکھے گئے ایک خط میں مذکورہ پروفیسر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے اور شکایت کی تھی کہ ان کے پروفیسر ان سے فحش گفتگو کرتے ہیں اور انھیں عریاں ویڈیوز دکھانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ غلط راہ پر چل نکلیں۔ اس پروفیسر کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا ہے مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ طاکبات کی جنسی ہراسانی کے مسئلے کا حل صرف برطرفی میں نہیں ہے اور استاد کے روپ میں چھپے ایسے بھیڑیوں کو عبرت کی مثال بنا دینا چاہیے۔
گوم یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ نے شعبہ پولیٹیکل سائنس کے اسسٹنٹ پروفیسر زبیر کو انکوائری رپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے صرف ملازمت سے برخاست کیا۔ تاہم اس کے خلاف کسی قسم کی کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔
رجسٹرار گومل یونیورسٹی کے دستخط سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کی تفصیلات کو مدِنظر رکھتے ہوئے میجر پینلٹی لگا کر اسسٹنٹ پروفیسر محمد زبیر کو نوکری سے برخاست کیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے بھی گومل یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی کی شکایات موصول ہوتی رہی ہیں جن پر ایکشن لیے گئے اور یہاں تک کہ شعبہ اسلامیات کے ایک پروفیسر صلاح الدین کو نوکری سے برخاست بھی کیا گیا ہے۔ مگر ماہرینِ قانون، تعلیم، سماجی کارکنان اور خود مبینہ ہراسانی کا نشانہ بننے والی خواتین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے قوانین کی موجودگی کے باوجود سماجی روایات سمیت مختلف مسائل اب بھی ہراسانی کے مسئلے کے خاتمے میں رکاوٹ ہیں۔‘
حالیہ معاملے میں شعبہ سیاسیات ہی کی ایم فل کی ایک طالبہ نے وائس چانسلر کو لکھے گئے ایک خط میں مذکورہ پروفیسر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔ خود کو ایم فل کی طالبہ ظاہر کرتے ہوئے خاتون نے شکایت کی تھی کہ ان کے پروفیسر ان سے ایسی فحش گفتگو کرتے ہیں جو ان کے لیے قابل برداشت نہیں۔۔اسکے علاوہ وہ اکیلے میں انھیں عریاں ویڈیوز دکھانے کی کوشش بھی کرتے ہیں تاکہ وہ بھٹک کر غلط راہ پر چل نکلیں۔ اس درخواست میں انھوں نے وائس چانسلر سے کہا تھا کہ اس بارے میں حقائق جاننے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی جائے اور اس بارے میں مکمل تفتیش کی جائے۔ خاتون نے اس خط میں اپنا نام ظاہر نہیں کیا تھا۔ یہ خط سوشل میڈیا پر جاری ہوا جس کے بعد اس معاملے کو حل کرنے کے لیے دباؤ بڑھتا گیا۔ گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اس بارے میں ایک انکوائری کمیٹی قائم کر دی تھی اور کمیٹی نے مکمل چھان بین کے بعد اپنی رپورٹ وائس چانسلر کو پیش کردی تھی۔ اس کمیٹی کی سربراہ یونیورسٹی کی ایک خاتون پروفیسر کو مقرر کیا گیا تھا۔
پاکستانی تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کے واقعات ایک عرصے سے سامنے آ رہے ہیں لیکن اب ان واقعات اور جنسی ہراسانی کی شکایات میں بہت ذیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ تعلیمی اداروں میں اسطرح کے واقعات کبھی تو رپورٹ کر دیے جاتے ہیں لیکن ذیادہ تر خوستین خاموش رہنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ سوات یونیورسٹی کی ایک خاتون پروفیسر بھی اسی طرح کے ایک مسئلے کا شکار رہی ہیں۔ انھوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے مبینہ واقعے کی شکایت اپنی یونیورسٹی سے لے کر ہر فورم پر اٹھائی۔
یونیورسٹی آف سوات کی پروفیسر ڈاکٹر ذکیہ کے مطابق جنسی ہراسانی کے معاملے میں اگر خواتین کو ان کے خاندان کی طرف سے مکمل حمایت حاصل ہو تو کسی کو بھی کسی خاتون سے ہراسانی کی جرات نہیں ہو سکے گی۔ ڈاکٹر ذکیہ خود مبینہ جنسی ہراس کی شکار ہوئیں اور پھر انھوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ ڈاکٹر ذکیہ کے مطابق ان کے دو بچے ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ انھیں ان کے خاندان کی جانب سے اعتماد اور مکمل تعاون حاصل رہا ہے، اس لیے انھوں نے اس کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انھوں نے مبینہ ہراسانی کے واقعے کے خلاف یونیورسٹی کی انتظامیہ کو آگاہ کیا، پولیس میں رپورٹ درج کروائی اور وفاقی تحقیقاتی ادارے سے بھی رابطہ کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا کیس ابھی زیرِ سماعت ہے جسے مقامی عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کو بھیج دیا ہے۔ انھوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والی صورتحال کے بارے میں بتایا کہ یہ ایک مشکل وقت ہے اور وہ ذہنی دباؤ کی شکار ہیں لیکن وہ اس بات پر مطمئن ہیں کہ اگر کوئی حق پر ہے تو اسے اپنی بات آگے تک لے جانے میں گھبرانا نہیں چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں تو گھر سے اور خاندان والوں سے حمایت حاصل رہی ہے لیکن ایسی لڑکیاں اور خواتین ہیں جنھیں اپنے خاندان کی طرف سے حمایت حاصل نہیں ہوتی اور وہ خوفزدہ رہتی ہیں اور یا کسی مجبوری کے تحت خاموش رہی ہیں کیونکہ انھیں ایسا لگتا ہے کہ کہیں ان کی عزت پر آنچ نہ آئے۔
ڈاکٹر ذکیہ کے مطابق وہ اس لیے بھی سامنے آئی ہیں کہ ان کی وجہ سے دیگر لڑکیوں کو بھی حوصلہ ملے گا اور وہ آواز اٹھائیں گی جس سے اس جرم میں ملوث افراد کو معلوم ہو سکے گا کہ ایسی حرکت ان کے گلے پڑ سکتی ہے۔ ڈاکٹر ذکیہ احمد نے مبینہ ہراسانی کی رپورٹ یونیورسٹی وائس چانسلر کو دی اور پھر پانچ اکتوبر کو کانجو پولیس تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی۔ یونیورسٹی کی سطح پر ایک کمیٹی قائم کی گئی جس میں انھیں سنا گیا۔ اس کمیٹی میں محکمہ تعلیم کی ایک خاتون لیکچرر اور اسی یونیورسٹی کے اساتذہ شامل ہیں۔ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کے واقعات پر کام کرنے والے قانون دانوں اور ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کے واقعات تو بڑی تعداد میں پیش آتے ہیں لیکن ان میں منظر عام پر کم ہی واقعات آتے ہیں جن پر کارروائی کی جاتی ہے۔ اکثر لوگ شرم، روایات اور بدنامی کے خوف سے سامنے نہیں آتے۔ بظاہر تو اس بارے میں قوانین موجود ہیں اور ان کے تحت اگر ہراسانی ثابت ہو جاتی ہے تو قانون کے مطابق سزا دی جا سکتی ہے۔
ماہر تعلیم اور ملتان کی بہاؤ الدین ذکریا یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر منصور اکبر کنڈی سے جب رابطہ قائم کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان واقعات اور شکایات میں اضافہ ہوا ہے اور یہ ایک تشویشناک بات ہے۔ انھوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور طالبات کے علاوہ اساتذہ اور اساتذہ اور طلبا اور طالبات کے درمیان ہراسانی کی شکایات آتی رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس بارے میں اداروں میں ہراسمنٹ کمیٹی یا اس سے ملتی جلتی کمیٹیاں قائم ہیں لیکن اصل بات ان کمیٹیوں کی کارکردگی ہے کیونکہ سارا انحصار ان کمیٹیوں پر ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ کمیٹیاں صحیح ہوں اور ان کی تحقیق صحیح ہو تو اس واقعات کو روکا جا سکتا ہے۔
ڈیجیٹل حقوق پر کام کرنے والی ایک تنظیم ’بولو بھی‘ کی عہدیدار اور ہراسانی کے واقعات پر کام کرنے والی سول سوسائٹی کراچی کی رکن فریحہ عزیز نے بتایا کہ ایسے واقعات تو پہلے بھی ہو رہے تھے لیکن اب رپورٹ زیادہ ہو رہے ہیں اور اب ان کی نوعیت بھی تبدیل ہوئی ہے، اور اس کی ایک وجہ سوشل میڈیا کی بھی ہے جہاں سے ان واقعات کے بارے میں معلوم ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہراسانی کے بارے میں 2010 میں ایک قانون منظور کیا گیا تھا اور اس میں قواعد و ضوابط ہیں جن میں کمیٹیوں کا قیام شامل ہے لیکن دیکھا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں جب کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے تب یہ کمیٹی قائم کی جاتی ہے۔ اس قانون میں صرف کمیٹی کا قیام ہی نہیں بلکہ ضابطہ اخلاق کا مشتہر کرنا بھی ضروری ہے اور اس ضابطے میں معلوم ہونا چاہیے کہ کیا درست ہے اور کیا درست نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملے کو پالیسی کا حصہ ہونا چاہیے اور تعلیمی اداروں میں طلبہ اور طالبات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایسی پالیسی یا ایسا نظام ہونا ضروری ہے جس سے ان واقعات کی روک تھام ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہراسانی کی شکایت کرنے والی خاتون کے لیے یہ سلسلہ بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس کے نتائج کچھ بھی ہو سکتے ہیں طالبات کو خوف ہوتا ہے کہ انھیں فیل کردیا جائے گا اور اگر فیکلٹی ممبر ہیں تو انھیں نوکری جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ اعلیٰ حکام کی جانب سے انتقامی کارروائی کا مسئلہ بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اس سارے نظام کو بہتر کرنے اور آسان انصاف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے جس میں کسی کو یہ خوف نہ ہو کہ اس شکایت کے نتیجے میں اس کے لیے مسائل پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ ہراسانی کے واقعات پر قابو پانے کے لیے 2010 میں قانون منظور کیا گیا جسے خواتین کے خلاف ہراسانی سے تحفظ کا قانون کہا جاتا ہے۔ اس میں جرم کے مرتکب افراد کے لیے سزائیں مقرر کی گئی ہیں اور ایسے افراد کو تین سال تک قید کی سزا اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے لیکن اس بارے میں جو شکایات منظر عام پر آئیں اور اس پر قانون کے تحت کارروائی کی گئی تو بظاہر یہی معلوم ہو سکا کہ ایسے افراد کو صرف ملازمت سے فارغ کر دیا جاتا ہے۔
لاہور سے تعلق رکھنے والی کچھ طالبات نے کچھ عرصہ قبل لاہور گرامر سکول میں پڑھانے والے ایک استاد کے خلاف شکایت درج کی تو انھیں تو اس تعلیمی ادارے سے نکال دیا گیا لیکن مذکورہ استاد اب ایک دوسرے ادارے میں پڑھا رہے ہیں۔ اُس تعلیمی ادارے کی ایک سینیئر طالبہ نے ان واقعات کو اپنے سوشل میڈیا پیج پر ڈالا تو ان کے مطابق بڑی تعداد میں ایسی لڑکیوں نے انھیں پوسٹس بھیجیں جن کے ساتھ اس طرح کے واقعات پیش آچکے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ لگ بھگ 40 کے قریب ایسی شکایات صرف ایک استاد کے خلاف سامنے آئیں تو اس معاملے کو وزیر تعلیم پنجاب مراد راس کے نوٹس میں لایا گیا جنھوں نے یقین دہانی کروائی کہ اس بارے میں ضرور کارروائی ہوگی، لیکن افسوس کی بات ہے کہ اب تک اس بارے میں کچھ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ استاد اب ایک دوسرے تعلیمی ادارے میں پڑھا رہے ہیں اور اس بارے میں کچھ لوگوں نے ویڈیو پیغامات بھی جاری کیے۔
جنسی ہراسانی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ پشاور کی تاریخی درسگاہ اسلامیہ یونیورسٹی سے بھی حال ہی میں جنسی ہراسانی کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ اس حوالے سے چند ماہ قبل طلبا اور طالبات نے مشترکہ احتجاج کیا اور ہراسانی کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس مظاہرے کے دوران طالبات نے دعویٰ کیا تھا کہ اب تک ہراسانی کے تین ایسے واقعات اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں پیش آچکے ہیں جس میں یونیورسٹی کے استاد نے لڑکیوں کے ساتھ ہراسانی کی کوشش کی ہے۔ شعبہ قانون کی ایک سینیئر طالبہ نے بتایا تھا کہ انھوں نے اس بارے میں یونیورسٹی انتظامیہ کو شکایات درج کروائی ہیں لیکن اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اس احتجاجی مظاہرے کے بعد گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے گورنر کمپلینٹ سیل قائم کیا اور ان واقعات کی تحقیقات کا حکم دیا تھا لیکن ابھی تک جنسی ہراسانی کے واقعات میں ملوث کسی ایک بھی پروفیسر کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔
