جسٹس عیسیٰ ریفرنس:منیر ملک کا توہین عدالت کے مقدمے کا مطالبہ

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر ملک نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں جاری کارروائی کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے تمام متعلقہ افراد کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ اور جسٹس عیسیٰ اور ان کے اہلِ خانہ کی نگرانی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے 17 فروری کے روز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس کے حوالے سے دائردرخواستوں کی سماعت کی لیکن جسٹس منیب اختر ناسازی طبعیت کے باعث عدالت نہ آسکے جس کی وجہ سے سماعت منگل تک لیے ملتوی کردی گئی۔
17 فروری کے روز ہوئی مختصر سماعت میں وزیر قانون فروغ نسیم اور اثاثہ جات جات ریکوری یونٹ (اے آر یو) کے سربراہ مرزا شہزاد اکبر بھی موجود تھے۔ اس موقع پر انور منصور نے عدالت کو بتایا کہ چونکہ درخواستوں کی سماعت کے دوران مختلف وکلا نے وزیر قانون کا نام لیا اس لیے وہ بھی اپنا بیان دیں گے۔ سماعت میں ایک درخواست گزار حسن عرفان خان نے سپریم جوڈیشل کونسل کے پروسیجر آف انکوائری 2005 پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مذکورہ قواعد لیگل فریم ورک آرڈر کے ذریعے 2005 میں بنائے گئے تھے لیکن 18 ویں ترمیم کے بعد لیگل فریم ورک آرڈر قابل عمل نہیں رہا اس لیے یہ قواعد بھی باقی نہیں رہے۔
اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نمائندگی کرنے والے وکیل منیر ملک نے عدالت کی گزشتہ ہدایات پر عمل کرتے ہوئے خلاصہ جمع کروایا اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں جاری کارروائی کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔ انہوں نے تمام متعلقہ افراد کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ اور جسٹس عیسیٰ اور ان کے اہلِ خانہ کی نگرانی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
اٹارنی جنرل انور منصور سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کو چیلنج کرنے کے لیے دائر درخواستوں میں لگائے گئے الزامات پر18 فروری کو جواب دیں گے۔18 فروری کے روز ہونے والی سماعت میں اٹارنی جنرل نہ صرف ریفرنس پر حکومتی موقف پیش کریں گے بلکہ اپنا بھی کا دفاع کریں گے کیوںکہ درخواست میں انہیں بھی فریق بنایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا۔ ریفرنس میں دونوں ججز پر اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔
سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو پہلا نوٹس برطانیہ میں اہلیہ اور بچوں کے نام پر موجود جائیدادیں ظاہر نہ کرنے کے حوالے سے جاری کیا گیا تھا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کیا گیا دوسرا شو کاز نوٹس صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے خطوط پر لاہور سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ کی جانب سے دائر ریفرنس پر جاری کیا گیا تھا۔ بعد ازاں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے سپریم کورٹ میں ریفرنس کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی جس پر عدالت عظمیٰ کا فل کورٹ بینچ سماعت کررہا ہے۔
