جسٹس عیسیٰ کیخلاف بینچ سے تین ججز کو الگ کرنیکی درخواست خارج

سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر صدارتی ریفرنس کے خلاف تشکیل دئیے گئے لارجر بنچ سے تین ججوں کو الگ کرنے کی درخواست عدم پیروی کی بنا پر خارج کر دی گئی ہے۔
عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے چیمبر میں کرنل انعام الرحیم کی جانب سے 3 ججوں کو صدارتی ریفرنس کے خلاف لارجر بینچ سے الگ کرنے کی درخواست کی سماعت کی۔ درخواست میں جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منظور ملک کو لارجر بینچ نے الگ کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ چیمبر میں درخواست گزار کی جگہ طارق اسد ایڈووکیٹ اور انوار ڈار ایڈووکیٹ پیش ہوئے، جہاں بعدازاں چیف جسٹس نے عدم پیروی کی بنا پر مذکورہ درخواست کو خارج کردیا۔
واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیجا تھا۔ ریفرنس میں دونوں ججز پر اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔
سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کیا گیا پہلا نوٹس برطانیہ میں اہلیہ اور بچوں کے نام پر موجود جائیدادیں ظاہر نہ کرنے سے متعلق تھا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کیا گیا دوسرا شو کاز نوٹس صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے خطوط پر لاہور سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ کی جانب سے دائر ریفرنس پر جاری کیا گیا تھا۔
ریفرنس دائر ہونے کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو خطوط لکھے تھے، پہلے خط میں انہوں نے کہا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی مختلف خبریں ان کی کردارکشی کا باعث بن رہی ہیں، جس سے منصفانہ ٹرائل میں ان کے قانونی حق کو خطرات کا سامنا ہے۔
بعد ازاں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے سپریم کورٹ میں ریفرنس کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی جس پر عدالت عظمیٰ کا 10 رکنی لارجر بینچ سماعت کررہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button