جسٹس فائز عیسیٰ کو دھمکی دینے والے نے خود کو پاگل قرار دے دیا؟


سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف انتہا کا فتوی دینے والے ملزم مرزا افتخار الدین نے سپریم کورٹ کے سامنے خود کو پاگل اور ذہنی مریض قرار دیتے ہوئے معافی کی استدعا کر دی ہے۔ تاہم سپریم کورٹ یہ جاننا چاہتی ہے کہ اس نے یہ ویڈیو کیوں اور کس کے کہنے پر تیار کی؟
سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے معافی نامے میں ملزم کا کہنا ہے کہ وہ دل کی بیماری کی باقاعدگی سے ادویات لیتا ہے اور اسے پاگل پن کے دورے پڑتے ہیں جس وجہ سے وہ کبھی کبھار بے عقلی کی باتیں کرنا شروع کر دیتا ہے۔ عدالت سے معافی کی استدعا کرتے ہوئے اس نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مارنے کا فتوی بھی اسنے پاگل پن کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے دیا تھا۔ اس نے موقف اختیار کیا کہ عدالت اس کی عمر اور صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے معافی کر دے۔
خیال رہے کہ گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں علامہ آغا افتخارالدین مرزاکی جانب سے اعلیٰ عدلیہ اور ججز کے بارے میں توہین اور دھمکی آمیز زبان استعمال کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا جب کہ ملزم افتخارالدین کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر کےجواب طلب کیا تھا۔
راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے نام نہاد مذہبی عالم مرزا افتخارالدین نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا ہے کہ گزشتہ 29 سالوں سے مورگاہ راولپنڈی میں امام بارگاہ میں پیش امام ہوں، 14جون 2020 کو میری زبان پھسل گئی اور جسٹس قاضی فائزعیسٰی اورسپریم کورٹ کے بارے میں میں نے جو کہا اس پر مجھے ندامت ہے۔ ملزم افتخار الدین نے اپنے وکیل ایڈووکیٹ سرکار عباس کے ذریعے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے 3 صفحات پر مشتمل معافی نامے میں کہا ہے کہ ’میں بہت عاجزی سے سپریم کورٹ سے درخواست کرتا ہوں کہ میری معافی قبول کی جائے اور انہیں توہین آمیز ریمارکس کے الزام سے بری کیا جائے۔ اسنے یہ بھی یقین دہانی کروائی کہ مستقبل میں کبھی اس طرح کی بیان بازی نہیں کرے گا۔
اپنے معافی نامے میں مرزا افتخارالدین کا مزید کہنا ہے کہ اس کی عمر 67 سال ہے اور وہ امراضِ قلب میں مبتلا ہے جبکہ اس کے دل کی مرکزی شریانیں بھی بند ہیں، ڈاکٹروں نے اسے دل کے آپریشن کا کہا ہے جبکہ اسے بلڈ پریشر اور دیگر بیماریاں بھی لاحق ہیں۔ معافی نامے میں یہ کہا گیا ہے کہ دل کی ادویات لینے سے بعض اوقات اس کی ذہنی صحت شدید متاثر ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں وہ کبھی کبھار شدید برہم، غیر معقول، پریشان اور مایوس کن ہو باتیں کرتا ہے اور جستس قاضی فائز عیسیٰ کے بارے میں بھی اس نے جو ریمارکس دیئے وہ اسی حالت میں دیے۔ معافی نامے میں کہا گیا کہ وہ ان ریمارکس پر دل سے معافی مانگتا ہے اور عدالت سے رحم کی امید رکھتا ہے۔ معافی نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ اکثر مغرب کی نماز کے بعد اپنے طلبہ سے حالاتِ حاضرہ پر گفتگو کرتے ہیں اور 14 جون کو ان کی زبان سے ججز اور عدلیہ کے معزز ادارے کے بارے میں کچھ ریمارکس ادا ہوگئے جس پر انہیں سخت ندامت ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جیسے ہی انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا وہ 26 جون کو سپریم کورٹ میں معافی نامہ جمع کروانے آئے لیکن انہیں انٹری کارڈ جاری ہونے کے باوجود کمرہ عدالرت میں داخل نہ ہونے دیا گیا، 29 جون کو انہوں نے تفتیش میں حصہ لیا جہاں انہیں قید کیا گیا تھا اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ ملزم نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بھی معاف کرنے کا کہا ہے، عہد کرتا ہوں مستقبل میں کبھی ایسی بات نہیں کروں گا، سپریم کورٹ معافی نامہ قبول کرکے توہین عدالت کی کارروائی ختم کردے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینہ عیسیٰ نے 24 جون کو اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ میں ایک درخواست دی تھی کہ ان کے شوہر کو قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، اس لیے ان کی اور ان کے اہلِ خانہ کی زندگی خطرے میں ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک جج کو قتل کی دھمکیاں دینا دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے طاقتور لوگ‘ ان کے خاوند سے خوش نہیں ہیں اور اس طرح کی قتل کی دھمکیاں اُن حالات کا تسلسل ہیں جس کا وہ سامنا کر رہے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے مزید کہا تھا کہ ایک شخص نے ویڈیو میں کہا تھا کہ ان کے شوہر کو سرعام گولی ماری جائے۔ پولیس کو اپنی درخواست میں انھوں نے انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کا حوالہ دیا تھا جس میں ایک خطیب نے کہا تھا کہ ’جو شخص بھی ملک میں بدعنوانی یا غبن میں ملوث پایا جائے، چاہے وہ نواز شریف ہو، آصف زرداری ہو، یا جسٹس فائز عیسیٰ ہو، انھیں سیدھا فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر دیا جائے۔‘ جسٹس فائز عیسی کی اہلیہ نے پولیس کو دی گئی درخواست کے ساتھ خطیب کی ویڈیو بھی منسلک کی تھی۔
بعد ازاں اگلے ہی روز چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے آغا افتخار الدین کی ججز، عدلیہ کے خلاف اس ویڈیو کلپ کا نوٹس لیا تھا۔ جس کے بعد 26جون کو پہلی سماعت پر عدالت نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیا اور آغا افتخار مرزا کو طلب کیا تھا اور اٹارنی جنرل نے بتایا تھا کہ ایف آئی اے نے الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کردی ہے۔ بعدازاں 30 جون کو انسداد دہشت گردی عدالت نے راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے آغا افتخار الدین مرزا کو 7 روز کے جسمانی ریمانڈ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حوالے کردیا تھا۔ دوسری جانب افتخار الدین مرزا کی جانب سے سپریم کورٹ میں ایک بیان حلفی بھی جمع کروایا گیا تھا جس میں غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ ایک ’نجی تقریب‘ میں انہوں نے ’غیر دانستہ‘ طور پر معزز ججز کے خلاف کچھ الفاظ ادا کیے۔ ساتھ ہی ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ ویڈیو ان کی مرضی کے بغیر ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی۔
واضح رہے کہ کیس کی 2 جولائی کو ہونے والے سماعت میں سپریم کورٹ نے مولوی آغا افتخار الدین مرزا کی غیر مشروط معافی مسترد کرتے ہوئے توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا اور 7 روز میں جواب جمع کروانے کا حکم دیا تھا جس پر ملزم نے سپریم کورٹ میں معافی نامہ جمع کرا دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button