جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کیوں خارج ہوا؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی جانب سے بیرون ملک موجود اپنی جائیداد جائز ذرائع آمدن سے بنائے جانے کے مصدقہ ثبوت پیش کرنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر جسٹس عیسی کے خلاف دائر کردہ صدارتی ریفرنس بڑی طرح پنکچر ہوتا نظر آتا ہے۔
سپریم کورٹ میں 18 جون 2020 کو ریکارڈ کروائے گئے اپنے بیان میں جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے بتایا کیا ہے کہ وہ ہسپانوی شہریت رکھتی ہیں اور لندن میں خریدی گئی ان کی دونوں جائیدادیں ان کے اپنے ذاتی ذرائع آمدن سے بنائی گئی جن کا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ امریکن سکول سسٹم میں ملازمت کرتی رہی ہیں اور جس رقم سے انہوں نے برطانیہ میں جائیداد بنائی ہے وہ دراصل اس سینکڑوں ایکڑ زرعی زمین پر کاشت کاری کی آمدن سے بنائی ہے جو کہ بلوچستان میں واقع ہے اور ان کے والد نے ان کے نام کر دی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ویسے بھی یہ جائیداد انہوں نے جسٹس فائز عیسی کے بلوچستان ہائی کورٹ کا جج بننے سے بھی پہلے 2004 میں بنائی تھی۔ جوں جوں جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ اپنے بیان میں حقائق کا انکشاف کر رہی تھیں توں توں حکومتی وکیل فروغ نسیم کا چہرہ اترتا چلا جا رہا تھا۔
سرینا عیسیٰ کا بیان سننے کے بعد سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ کے سربراہ نے کہا ہے کہ عدالت اس حوالے سے ان کے بیان اور جائیداد کی خریداری کے ذرائع سے بھی مطمئن ہے۔
سرینا عیسی نے 18 جون کو کو سکائپ پر اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ الزام لگایا گیا کہ اُنھوں نے اپنے جج کے دفتر کا غلط استعمال کیا لہذا وہ عدالت کو بتانا چاہتی ہیں کہ جب ان کے شوہر وکیل تھے تو انھیں صرف پانچ برس کا پاکستانی ویزہ دیا گیا اور جنوری 2020 میں اُنھیں صرف ایک سال کا ویزا جاری کیا گیا ہے۔ سرینا عیسیٰ کا کہنا تھا کہ وہ کراچی میں امریکن سکول میں ملازمت کرتی رہی ہیں اور ان کے وکیل ان کے ٹیکس گوشوارے جمع کرواتے رہے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اگرچہ وہ کراچی کی رہائشی ہیں لیکن ان کا ٹیکس ریکارڈ کراچی سے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا اور اس ضمن میں جب ایف بی آر سے ریکارڈ کی منتقلی کا پوچھا گیا تو کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اُنھوں نے کہا کہ ان کا ٹیکس ریکارڈ کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے سے متعلق ایف بی آر کو دو خط بھی لکھے گئے۔ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ ہسپانوی شہریت رکھتی ہیں اور خود ان کے پاس بھی ہسپانوی پاسپورٹ ہے. ان کا کہنا تھا کہ ان کے بارے میں ایسا کیس بنایا گیا جیسے وہ کسی جرم کی ماسٹر مائنڈ ہیں۔
سرینا عیسیٰ نے کہا کہ اُنھوں نے پہلی جائیداد 2004 میں برطانیہ میں خریدی اور اس خریداری کے ان کے پاسپورٹ کو بطور دستاویز قبول کیا گیا تھا۔اُنھوں نے کہا کہ انھوں نے کراچی میں کلفٹن بلاک چار میں بھی جائیداد خریدی جو کچھ عرصے کے بعد فروخت کر دی گئی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ان کی زرعی اراضی ان کے نام پر ہے اور اس اراضی سے ان کے خاوند کا کوئی تعلق نہیں ہے۔اُنھوں نے کہا کہ یہ زرعی زمین انھیں اپنے والد کی طرف سے ملی ہے اور یہ ضلع جیکب آباد میں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ڈیرہ مراد جمالی بلوچستان میں بھی زرعی زمین ہے اور زرعی اراضی کی دیکھ بھال ان کے والد کیا کرتے تھے۔ سرینا عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ان کے وکیل نے اُنھیں بتایا تھا کہ زرعی اراضی ٹیکس کے نفاذ کے قابل نہیں ہے۔ سرینا کے مطابق انھوں نے اپنے وکیل کے مشورے سے فارن کرنسی اکاؤنٹ کھلوایا تھا۔ بیان کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے فارن کرنسی اکاؤنٹ کا ریکارڈ بھی دکھایا اور کہا کہ انھیں یہ ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اُنھوں نے کہا کہ 2003 سے سنہ 2013 تک اس اکاؤنٹ سے رقم لندن بھجوائی گئی۔ اُنھوں نے کہا کہ جس اکاؤنٹ سے پیسہ باہر گیا وہ ان کے نام پر ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ایک نجی بینک سٹینڈرڈ چارٹرڈ کے فارن کرنسی اکاؤنٹس میں سات لاکھ برطانوی پاؤنڈ کی رقم ٹرانسفر کی گئی اور جس اکاؤنٹ میں رقم ٹرانسفر کی گئی وہ بھی ان کے نام پر ہے۔
اُنھوں نے 2016 لے کر اب تک برطانیہ میں ٹیکس گوشواروں کا ریکارڈ بھی دکھایا۔ سرینا عیسیٰ کا کہنا تھا کہ برطانیہ نے زیادہ ٹیکس دینے پر ٹیکس ریفنڈ کیا جبکہ اس کے برعکس جب وہ پاکستان میں ایف بی آر سے ریکارڈ لینے گئی تو اُنھیں کئی گھنٹے انتظار کرایا گیا اور محض ریکارڈ لینے کے لیے ایک شخص سے دوسرے شخص کے پاس بھیجا جاتا رہا۔
درخواست گزار کی اہلیہ نے عدالت کو بتایا کہ وہ 2018 کے مالیاتی گوشواروں میں لندن کی جائیداد کے بارے میں بتا چکی ہیں جس پر عدالت نے ان سے سنہ 2018 میں مالیاتی گوشواروں کا ریکارڈ بند لفافے میں طلب کر لیا۔
بینچ کے سربراہ نے کہا کہ ان کے پاس دو فورم ہیں ایک یہ کہ یہ معاملہ ایف بی آر میں بھیجا جائے اور دوسرا سپریم جوڈیشل کونسل کا ہے۔ اُنھوں نے درخواست گزار کی اہلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس سوالوں کے مضبوط جواب ہیں۔ اس پر سرینا عیسیٰ کا کہنا تھا کہ وہ ایک جج کی شریکِ حیات ہیں اور انھوں نے جو جواب دیا وہ قانون کا تقاضا ہے۔ بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عدالت اس حوالے سے ان کے بیان اور جائیداد کی خریداری کے ذرائع کے حوالے سے بھی مطمئن ہیں تاہم اس پر فیصلہ متعلقہ اتھارٹی نے ہی کرنا ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ سماعت کے دوران درخواست گزار یعنی جسٹس قاضی فائز عیسی نے عدالت کی طرف سے ان کی اہلیہ کی لندن میں جائیداد کے معاملات فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بھیجنے کی تجویز کی مخالفت کی تھی اور اُنھوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کی اہلیہ ایف بی آر جانے کے بجائے رکنی بینچ کے سامنے اس معاملے کو رکھنا چاہتی ہیں اور اپنا بیان ریکارڈ کروانا چاہتی ہیں۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی جانب سے پیش کردہ موقف کے بعد حکومت کی طرف سے دائر کردہ صدارتی ریفرنس کے چیتھڑے اڑ گئے ہیں اور اب اس کے خارج ہونے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔
