جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرنس کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
پاکستان کی سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے صدارتی ریفرنس سے متعلق درخواستوں پر جمعے کی صبح وکیل صفائی منیر اے ملک کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے 19 جون کی شام کوسنایا گیا۔ صدارتی ریفرنس مسترد کرنے کا فیصلہ تو بینچ نے نو کے مقابلے میں ایک کی اکثریت کے ساتھ دیا تاہم بینچ کے سات ارکان نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ ایف بی آر آئندہ دو ماہ میں ٹیکس کے معاملے کی تحقیقات مکمل کرے اور اس کی رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجی جائے۔حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر اس تحقیقات میں جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف کوئی چیز سامنے آتی ہے تو سپریم جوڈیشل کونسل اس معاملے پر آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت از خود نوٹس لے کر کارروائی کر سکتی ہے۔
جن ججز نے یہ معاملہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ان میں بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس منیب اختر، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس مظہر عالم، جسٹس قاضی امین، جسٹس منظور احمد ملک اور جسٹس فیصل عرب شامل ہیں۔اس معامملے کو ایف بی آر میں بھیجنے سے جن تین ججز نے اختلاف کیا ان میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحیٰ آفریدی شامل ہیں۔
سپریم کورٹ کے مختصر فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر اس معاملے میں درخواست گزار کے اہلخانہ کو سات روز میں نوٹس جاری کرے اور ان سے لندن میں جائیداد کے بارے میں تفیصلات اور آمدن کے ذرائع بھی پوچھے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر 60 دن میں کارروائی مکمل کرے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اس سے قبل اگر ایف بی آر کی طرف سے کوئی نوٹس جاری کیا گیا ہے تو اسے کالعدم سمجھا جائے۔اس کے علاوہ عدالت نے کہا ہے کہ کارروائی مکمل کرنے کے بعد ایف بی آر کے چیئرمین 75 دن میں رپورٹ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو جمع کرائیں۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر سو دن تک ایف بی آر کی طرف سے رپورٹ نہ آئی تو سپریم کورٹ کے رجسٹرار محکمے سے جواب مانگیں اور ایف بی آر کے چیئرمین کو اس حوالے سے وضاحت دینا ہوگی۔
فل بینچ کی جانب سے جو ریفرنس مسترد کیا گیا ہے اس میں جسٹس فائز عیسیٰ پر اپنے خاندان کے برطانیہ میں موجود اثاثے چھپانے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں ضابطہ کار کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا گیا تھا۔سپریم جوڈیشل کونسل نے اس ریفرنس پر جسٹس فائز عیسی کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا جسے جسٹس عیسی نے سپریم کورٹ میں چیلینج کر دیا تھا۔جسٹس فائز عیسی کی اہلیہ نے جمعرات کو سپریم کورٹ کے فل بینچ کے سامنے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے ان جائیدادوں سے جسٹس فائز عیسی کے کسی بھی تعلق کا انکار کیا تھا جس پر بینچ کے ارکان نے کہا تھا کہ وہ اس وضاحت سے مطمئن ہیں۔
جمعے کو سماعت سے پہلے وفاق کے وکیل فروغ نسیم نے ایف بی آر کی دستاویز سر بمہر لفافے میں عدالت میں جمع کرادیں جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ جج ابھی اس لفافے کا جائزہ نہیں لیتے اور نہ ہی کوئی آرڈر پاس کریں گے کیونکہ درخواست گزار کی اہلیہ تمام دستاویز ریکارڈ پر لا چکی ہیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے وفاق کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کی تصدیق کروائیں۔بعدازاں منیر اے ملک نے جمعے کو اپنے جواب الجواب میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل نے کبھی بھی اپنی اہلیہ کی جائیداد کو خود سے منسوب نہیں کیا۔اُنھوں نے کہا کہ ان درخواستوں میں وفاق کی نمائندگی کرنے والے وکیل فروغ نسیم نے اپنے دلائل میں برطانوی جج جسٹس جبرالٹر کی اہلیہ کے خط اور ان کی برطرفی کا حوالہ دیا اور حقیقت یہ ہے کہ جسٹس جبرالٹر نے خود کو اہلیہ کی مہم کے ساتھ منسلک کیا تھا۔
منیر اے ملک نے کہا کہ ان درخواستوں میں وفاق کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے اپنے دلائل میں یہ کہا کہ ان کا اصل کیس وہ نہیں جو ریفرنس میں ہے اور ان کے دلائل سے سمجھ نہیں آ رہی کہ حکومت کا اصل میں کیس ہے کیا۔اُنھوں نے کہا کہ صدارتی ریفرنس میں انکم ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی اور منی لانڈرنگ کا ذکر ہے۔منیر اے ملک نے کہا کہ الیکشن اور نیب قوانین میں شوہر اہلیہ کے اثاثوں پر جوابدہ ہوتا ہے۔درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل نے کہا کہ ان درخواستوں میں وفاق کی نمائندگی کرنے والے وکیل بدقسمتی سے غلط بس میں سوار ہو گئے ہیں۔اُنھوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے کو ایف بی آر میں لے جانے کی بجائے سپریم جوڈیشل کونسل آ گئی۔اُنھوں نے کہا کہ ایف بی آر اپنا کام کرے اور درخواست گزار نے اس میں کبھی رکاوٹ نہیں ڈالی۔
منیر اے ملک نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنی اور عدلیہ کی عزت کی خاطر ریفرنس چیلنج کیا اور درخواست گزار چاہتے ہیں کہ عدلیہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس کالعدم قرار دے۔اُنھوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے احکامات اور شوکاز نوٹس میں فرق ہے۔منیر اے ملک نے اپنے دلائل میں کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف صدارتی ریفرنس میں سپریم جوڈیشل کونسل پر بدنیتی کے الزامات تھے اور ‏سپریم جوڈیشل کونسل نے بدنیتی کے معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں دیا تھا۔اُنھوں نے کہا کہ توقع ہے کہ اُنھیں سپریم جوڈیشل کونسل کی بدنیتی پر بات نہیں کرنی پڑے گی۔منیر اے ملک نے کہا کہ اے آر یو کا قیام قانون کے خلاف ہے اور وزیر اعظم کو کوئی نیا ادارہ یا ایجنسی بنانے کا اختیار نہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی تشکیل کے لیے رولز میں ترمیم ضروری تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ سے ‏باضابطہ قانون سازی کے بغیر اثاثہ جات ریکوری یونٹ جیسا ادارہ نہیں بنایا جا سکتا۔
بینچ میں موجود جسٹس یحییٰ آفریدی نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے ان کے موکل کو ملنے والے شوکاز نوٹس کے جواب کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیوں کیا گیا جس پر درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ ‏جو ریلیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو چاہیے وہ سپریم جوڈیشل کونسل نہیں دے سکتی,
اُنھوں نے کہا کہ ‏لندن میں جائیدادوں کی تلاش کے لیے ویب سائٹ استعمال کی گئی جس کے لیے کسی کی خدمات حاصل کی گئیں۔ انھوں نے کہا کہ اس ویب سائٹ کو استعمال کرنے کے لیے ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ان لائن ادائیگی کی رسید ویب سائٹ متعلقہ فرد کو ای میل کرتی ہے ۔
منیر اے ملک نے اپنے دلائل میں کہا کہ ‏ضیاالمصطفی نے ہائی کمیشن سے جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کی تصدیق شدہ جائیداد کی تین نقول حاصل کیں۔ اُنھوں نے کہا کہ لندن میں جن سیاسی شخصیات کی سرچ کی گئی اس کی رسیدیں بھی ساتھ لگائی ہیں۔درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ حکومت رسیدیں دے تو سامنے آ جائے گا کہ ان کے موکل کی اہلیہ کی جائیدادیں کس نے تلاش کیں۔اُنھوں نے کہا کہ شکایت کنندہ وحید ڈوگر نے تو ایک جائیداد کا بتایا تھا اور اگر ان کے موکل کی اہلیہ کی جائیداد کی سرچ اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے کیں تو وہ رسیدیں دے۔اس پر بینچ میں موجود جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ آے آر یو نے بظاہر صرف سہولت کاری کا کام کیا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ وفاق کے وکیل کہتے ہیں کہ فیض آباد دھرنے کے فیصلے پر ایکشن لینا ہوتا تو دونوں ججوں کے خلاف لیتے۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت صرف فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ لکھنے والے جج کو ہٹانا چاہتی ہے اور یہ فیصلہ ان کے موکل نے لکھا تھا۔منیر اے ملک نے کہا کہ ان درخواستوں میں وفاق کی نمائندگی کرنے والے وکیل بدقسمتی سے غلط بس میں سوار ہو گئے ہیں.اُنھوں نے کہا کہ درخواست گزار کی اہلیہ نے لندن میں ان جائیدادوں سے متعلق منی ٹریل سے متعلق دستاویز جمع کروا دی ہیں اور اس کے علاوہ زرعی زمین کی دستاویزات اور پاسپورٹ کی نقول بھی جمع کروائی پیں۔
منیر اے ملک نے کہا کہ پاکستان سے باہر گئے پیسے کو واپس لانے کے لیے سپریم کورٹ کے حکم پر جو کمیٹی بنائی گئی تھی اس نے کہا تھا کہ آمدن اور اثاثوں کے فارم میں کئی ابہام ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‏الزام عائد کیا گیا کہ ان کے موکل جسٹس قاضی فائز عیسی نے جان بوجھ کر جائیدادیں چھپائیں جبکہ کمیٹی کہتی ہے غیرملکی اثاثے ظاہر کرنے سے متعلق قانون میں بھی ابہام ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا موقف تھا کہ ریفرنس سے پہلے جج کی اہلیہ سے دستاویز لی جائیں۔ اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ سماعت کے بعد آپ کے موقف کو تقویت ملتی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے اپنے دلائل میں یہ سوال اٹھایا کہ کیا ہم ایسا قانون چاہتے ہیں کہ ایک ادارہ دوسرے کی جاسوسی کرے۔؟منیر اے ملک کے جواب الجواب پر دلائل مکمل ہونے کے بعد سندھ بار کونسل کے وکیل سینیٹر رضا ربانی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر دیا گیا کہ آے ار یو لیگل فورس ہے اور حکومت کے مطابق وزیراعظم ادارہ بنا سکتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔اُنھوں نے کہا ‏قواعد میں جن ایجنسیوں کا ذکر ہے وہ پہلے سے قائم شدہ ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ جتنی بھی ایجنسیاں موجود ہیں ان کو قانون کی مدد بھی حاصل ہے۔
رضا ربانی نے کہا کہ اے آر یو یونٹ کو لامحدود اختیارات دیے گئے جبکہ ‏اے آر یو یونٹ کے لیے قانون سازی نہیں کی گئی۔
‏سپریم کورٹ نے دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ اس بارے میں بینچ کے ارکان شام چار بجے اکٹھے ہوں گے اور اگر ججوں کا کسی ایک معاملے پر اتفاق ہوا تو اس بارے میں مختصر فیصلہ سنایا جائے گا۔
سماعت ختم ہونے کے بعد جسٹس یحییٰ آفریدی نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ جسٹس فائز عیسی سپریم کورٹ آئے اور کیا انھوں نے بنیادی حق استعمال کر کے اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کی۔ اُنھوں نے کہا کہ کیا اس طرح جسٹس قاضی فائز عیسی کا عدالت آنا ضابطۂ اخلاق کے منافی نہیں جس پر منیر اے ملک نے جواب دیا کہ اس بات کا انحصار اس پر ہے جج صاحب اپنی ذات کے لیے آئے تھے یا عدلیہ کے لیے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’آج قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس دائر ہے تو کل نجانے کس کے خلاف ہو‘۔
سپریم کورٹ کے سینئر ترین ججز میں سے ایک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کا معاملہ مئی 2019 کے اواخر میں سامنے آیا۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں صدر مملکت کی جانب سے بھجوائے گئے ریرنس میں جسٹس عیسیٰ پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی ان جائیدادوں کو چھپایا جو مبینہ طور پر ان کی بیوی اور بچوں کے نام ہیں۔ صدارتی ریفرنس میں اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی تھی۔ یاد رہے کہ ججز کی بے ضابطگیوں اور دیگر شکایات درج کرانے کا واحد فورم سپریم جوڈیشل کونسل ہے۔ ریفرنس دائر ہونے کی خبر کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو خطوط لکھے تھے، پہلے خط میں انہوں نے کہا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی مختلف خبریں ان کی کردارکشی کا باعث بن رہی ہیں، جس سے منصفانہ ٹرائل میں ان کے قانونی حق کو خطرات کا سامنا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ اگر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاچکا ہے تو اس کی نقل فراہم کردی جائے کیونکہ مخصوص افواہوں کے باعث متوقع قانونی عمل اور منصفانہ ٹرائل میں ان کا قانونی حق متاثر اور عدلیہ کے ادارے کا تشخص مجروح ہو رہا ہے۔ صدر مملکت کو اپنے دوسرے خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ انہوں نے لندن میں موجود جائیدادوں سے متعلق کچھ نہیں چھپایا۔ دوسرے خط میں جسٹس قاضی فائز نے استفسار کیا تھا کہ آیا وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اپنے ٹیکس ریٹرنز میں اپنی بیویوں اور بچوں کی ملکیت میں موجود جائیدادوں کی تفصیلات فراہم کی ہیں، اگر وزیراعظم نے خود ایسا نہیں کیا تھا تو انہیں صدر کو ریفرنس دائر کرنے کی تجویز نہیں دینی چاہیے تھی۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ میں جسٹس عیسیٰ پر ریفرنس کے خلاف سماعتوں میں فیض آباد دھرنا کیس کا کئی مرتبہ ذکر کیا گیا تو یہ واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 6 فروری 2019 کو فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ سنایا تھا اور اس کیس میں عدالت عظمیٰ نے حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، خفیہ ایجنسیوں اور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کریں۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیجنے کے بعد 3 جون 2019 کو وزارت قانون و انصاف کے ترجمان اور وزیر اعظم کے دفتر کے اثاثہ جات وصولی یونٹ (اے آر یو) نے ایک مشترکہ بیان میں دعویٰ کیا کہ انہیں اعلیٰ عدالتوں کے ججز کی برطانیہ میں رجسٹرڈ جائیدادوں کی مصدقہ نقول موصول ہوگئیں جن کی بنیاد پر سپریم جوڈیشل کونسل ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔ تاہم اس کے جواب میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت کو دوسرا خط لکھا اور کہا کہ انہوں نے لندن میں موجود جائیدادوں سے متعلق کچھ نہیں چھپایا۔ بعد ازاں سپریم جوڈیشل کونسل میں [14 جون 2019 کو اس معاملے کو سننے کے لیے پہلا اجلاس ہوا، اس پہلی سماعت کی سربراہی اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کی جبکہ ان کے ہمراہ جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید، سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی محمد شیخ اور پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ پر مشتمل کونسل کے 5اراکین شامل تھے۔ 14 جون کی سماعت کے بعد جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کو صدارتی ریفرنس کی نقول فراہم کر کے ان سے الزامات پر جواب طلب کیا گیا تھا تاہم اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے اظہارِ وجوہ کا نوٹس نہیں جاری کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 12 جولائی کو ہونے والی سپریم جوڈیشل کونسل کی سماعت کے بعد ریفرنس کے حوالے سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیا تھا جس میں ان پر برطانیہ میں اہلیہ اور بچوں کے نام پر جائیداد رکھنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ تاہم جسٹس عیسیٰ جو یہ نوٹس 17 جولائی کو موصول ہوا تھا جس میں انہیں 15 روز میں جواب دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔ 27 جولائی کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان سے درخواست کی تھی کہ ان کے خلاف ثبوت مہیا کیے جائیں تا کہ اظہارِ وجوہ کے نوٹس کے جواب میں وہ اپنا جواب تیار کرلیں۔ بعد ازاں 7 اگست 2019 جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کو ذاتی طور پر عدالت عظمیٰ میں چیلنج کردیا۔ جسٹس قاضیٰ فائز عیسیٰ کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں 300 سے زائد صفحات پر مشتمل تفصیلی درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ میرے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ میری درخواست پر فیصلہ آنے تک سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکی جائے۔ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کی کارروائی کو رکوانے کے دیگر درخواست گزاروں نے بھی متفرق درخواستیں دائر کی تھیں۔ جس کے بعد 26 اگست کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدارتی ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواست جمع کرائی تھی۔ اس درخواست میں جسٹس عیسیٰ نے سپریم کورٹ سے استدعا کی تھی ان کی درخواست کے ساتھ دیگر درخواست گزاروں کی درخواستوں پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔ جس کے بعد مذکورہ معاملے پر پہلے 7 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا تھا، جس میں جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس طارق مسعود، جسٹس فیصل عرب، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل شامل تھے۔ تاہم یہ بینچ 17 ستمبر کو اس وقت تحلیل ہوگیا تھا جب مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے ججز پر اعتراض اٹھایا تھا جس کے ساتھ ہینئے بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس پاکستان کو بھیج دیا گیا تھا۔ منیر اے ملک کی جانب سے ججز پر اعتراض اٹھایا گیا تھا کہ ‘جن ججز نے چیف جسٹس بننا ہے، ان کی دلچسپی ہے، اس بینچ کے 2 ججز ممکنہ چیف جسٹس بنیں گیے اور ان دو ججز کا براہ راست مفاد ہے’، بعد ازاں اس وقت بینچ میں شامل جسٹس طارق مسعود نے کہا تھا کہ ہم پہلے ہی ذہن بنا چکے تھے کہ بینچ میں نہیں بیٹھنا، اس کے ساتھ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے تھے کہ ہم نے جو حلف اٹھایا ہے تمام حالات میں اس کا پاس رکھنا ہوتا ہے، ہمارے ساتھی جج کی جانب سے ہمارے بارے میں تحفظات افسوسناک ہیں۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے دونوں ججز جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس سردار طارق مسعود نے خود کو بینچ سے الگ کردیا تھا اور بینچ تحلیل ہوگیا تھا۔ جس کے بعد 20 ستمبر 2019 کو اس وقت کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے لیے نیا 10 رکنی فل کورٹ تشکیل دیا تھا۔ عدالت عظمیٰ کے اس 10 رکنی بینچ کا سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال کو بنایا گیا تھا جبکہ ان کے علاوہ جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس فیصل عرب، جسٹس مظہر عالم خان، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس قاضی امین احمد اس کا حصہ تھے۔ بعد ازاں اس معاملے پر فل کورٹ نے کیس کی سماعت کی تھی جہاں حکومت کی جانب سے اس وقت کے اٹارنی جنرل برائے پاکستان انور منصور خان جبکہ جسٹس عیسیٰ کی جانب سے ان کی قانون ٹیم کے رکن اور سینئر وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیے تھے جبکہ ان کی غیر موجودگی میں دیگر ٹیم کے رکن نے مؤقف عدالت کے سامنے رکھا تھا۔ بعد ازاں فل کورٹ مذکورہ معاملے کو سن رہا تھا اور رواں سال فروری میں سپریم کورٹ نے جسٹس عیسیٰ کی صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران اثاثہ جات برآمدی یونٹ کے اختیارات سمیت 2 قانونی نکات اٹھائے تھے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا تھا کہ پہلا نکتہ ہے کہ جج کے خلاف انکوائری کا اختیار اثاثہ جات برآمدی یونٹ کو کس نے دیا جبکہ دوسرا یہ کہ کس قانون کے تحت حکومتی حکام نے ریفرنس کو پبلک کیا۔ منیر اے ملک نے ابتدائی طور معاملے پر دلائل دیے تھے اور یہ کیس طویل سماعتوں کے ساتھ جاری رہا تھا جبکہ رواں سال کے آغاز میں انور منصور کے دلائل دینے کی باری آئی تھی۔ تاہم اس کیس میں صورتحال اس وقت ایک ڈرامائی موڑ اختیار کرگئی تھی جب اس وقت کے اٹارنی جنرل انور منصور خان نے عدالت عظمیٰ کے سامنے ایسا بیان دیا تھا کہ اسے حذف کردیا گیا تھا۔ 18 فروری کو اپنے دلائل کے آغاز کے پہلے روز ہی صورتحال اس وقت ناخوشگوار ہوگئی تھی جب اٹارنی جنرل نے شعلہ بیانی سے دلائل کا آغاز کیا تھا۔ اٹارنی جنرل نے فل کورٹ کے سامنے ایک بیان دیا تھا، جس پر ججز نے انہیں استثنیٰ دیتے ہوئے بیان سے دستبردار ہونے کا کہا تھا، ساتھ ہی مذکورہ بیان کو ’بلاجواز‘ اور ’ انتہائی سنگین‘ قرار دیا تھا۔ اس بیان سے متعلق عدالت نے میڈیا کو رپورٹنگ سے روک دیا تھا۔ اسی روز کی سماعت میں اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ انہیں احساس ہے کہ انہوں نے کچھ ایسا کہا تھا کہ جو عدالتی بینچ کے لیے خوشگوار نہیں تھا، جس کے جواب میں بینچ کے رکن جسٹس مقبول باقر نے ردعمل دیا تھا کہ ’یہ بلاجواز’ تھا۔ ساتھ ہی عدالت کے ایک اور رکن جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے تھے کہ انور منصور کو اپنے بیان سے دستبردار ہونا چاہیے۔ تاہم اس وقت اٹارنی جنرل نے بیان واپس لینے سے انکار کردیا تھا جس کے ساتھ ہی عدالت نے میڈیا کو بیان شائع کرنے سے منع کردیا تھا کیونکہ بعدازاں یہ رپورٹ ہوا تھا کہ ’اٹارنی جنرل اپنے بیان سے دستبردار ہوگئے تھے‘۔ بعد ازاں 19 فروری کو جسٹس عیسیٰ کیس کی جب دوبارہ سماعت ہوئی تھی تو جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے تھے کہ کل آپ نے اتنی بڑی بات کردی ہے، یہ دلائل کا طریقہ کار نہیں، تحریری طور پر اپنے دلائل دیں۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ تحریری دلائل نہیں دے سکتا، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ اٹارنی جنرل نے بینچ کے حوالے سے گزشتہ روز کچھ بیان دیا، اٹارنی جنرل اپنے بیان کے حوالے سے مواد عدالت میں پیش کریں، اگر اٹارنی جنرل کو مواد میسر نہیں آتا تو تحریری معافی مانگیں۔ تاہم یہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ اٹارنی جنرل کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں ججز کی جاسوسی سے متعلق کوئی بات کی گئی تھی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ میں ‘متنازع بیان’ دینے کے بعد 20 فروری کو انور منصور خان نے اٹارنی جنرل فار پاکستان کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جبکہ حکومت کا کہنا تھا کہ ان سے استعفیٰ مانگا گیا تھا۔ حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ عدالت عظمیٰ میں دیے گئے بیان سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں نہ ہی اس بارے میں حکومت کو پتہ تھا بلکہ یہ انور منصور کی ذاتی رائے تھی تاہم سابق اٹارنی جنرل انور نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ میں دیے گئے بیان سے حکومت آگاہ تھی۔ بعد ازاں حکومت نے خالد جاوید خان کو نیا اٹارنی جنرل مقرر کیا تھا تاہم انہوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں حکومت کی نمائندگی کرنے سے انکار کردیا تھا۔ مذکورہ معاملے کی 24 فروری کو ہونے والی سماعت میں عدالت نے حکومت کو اس معاملے کے ایک کُل وقتی وکیل مقرر کرنے کا کہا تھا، جس کے بعد معاملے کو طویل وقفے تک ملتوی کردیا گیا تھا، جس کے بعد مذکورہ معاملے میں وفاق کی نمائندگی کے لیے فروغ نسیم نے وزیر قانون کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور وہ پیش ہوئے تھے، ایک طویل وقفے کے بعد اس کیس کی سماعت جون کے آغاز سے دوبارہ شروع ہوئی تھی اور گزشتہ 2 ہفتوں سے روزانہ کی بنیاد پر اس کیس کی سماعت ہورہی تھی اور آج کی سماعت میں کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا جسے بعد میں سناتے ہوئے ریفرنس کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔
1 1
2
3
4
5
6

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button