جسٹس منصور علی شاہ نے عمرانڈو ججز کو بے نقاب کر دیا؟

سپریم کورٹ میں نیب ترمیمی کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ کے رکن جسٹس منصور علی شاہ نے عمرانڈو ججز کی بینڈ بجا دی۔ سپریم کورٹ کے تین دو کی اکثریت سے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ معاملہ نیب ترمیمی قانون میں سقم کا نہیں بلکہ 24 کروڑ عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل پارلیمنٹ کی بالا دستی کا ہے کیونکہ منتخب پارلیمینٹ کی بالادستی سپریم کورٹ کے غیر منتخت ججوں پر مقدم ہے۔

 خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں شہباز شریف کی اتحادی حکومت کی جانب سے کی جانے والی نیب ترامیم سے متعلق عمران خان کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا تھا فیصلے کے مطابق عمران خان کی درخواست کو قابل سماعت قرار دے دیا گیا اور نیب ترامیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے عوامی عہدے رکھنے والے افراد کے نیب میں موجود تمام مقدمات کو بھی دوبارہ بحال کر دیا گیا۔ تین رکنی بینچ میں  شامل جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن نے فیصلے سے اتفاق کیا تھا جبکہ جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔

 جسٹس سید منصور علی شاہ نے اپنے علیحدہ اختلافی نوٹ میں عمران خان کی آئینی درخواست کو خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ یہ معاملہ نیب قوانین میں کی گئی غلط ترامیم کا نہیں بلکہ پاکستان کے کروڑوں عوام کی جانب سے منتخب کی گئی پارلیمنٹ کی بالادستی کا ہے، پارلیمنٹ کی قانون سازی کی طاقت کبھی ختم نہیں ہوتی ہے وہ نیب کا قانون بنا بھی سکتی ہے اور پورے قانون کو منسوخ بھی کر سکتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے مزید لکھا کہ اکثریتی ججوں یعنی چیف جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن نے خود کو ایک سیاستدان عمران خان کے ایسے غیر آئینی جال میں پھنسا لیا ہے جسکے تحت پارلیمنٹ کے منظور شدہ قانون کے مقصد اور پالیسی پر ہونے والی سیاسی بحث کو سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت میں گھسیٹ لایا گیا ہے جمعہ کی شب جاری کئے گئے دو صفحات کے اختلافی نوٹ میں فاضل جج نے قرار دیا ہے کہ میں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن کے اکثریتی فیصلے کے ساتھ اتفاق نہیں کر تا لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے، میں اس وقت اختلاف کی مکمل وجوہات قلمبند نہیں کرسکتا ہوں، جوکہ بعد میں کی جائیں گی، تاہم میری رائے میں، اس معاملے میں بنیادی سوال، نیب قانون میں مبینہ یکطرفہ ترامیم کے بارے میں نہیں بلکہ پارلیمنٹ کی اہمیت سے متعلق ہے، جوکہ پاکستان کے تقریبا 240 ملین لوگوں کے منتخب نمائندوں پر مشتمل ہوتی ہے، فاضل جج نے قرار دیا ہے کہ یہ سوال پارلیمانی جمہوریت کی اہمیت اور آئین کے تین ستونوں یعنی مقننہ ،انتظامیہ اور عدلیہ کے بیچ اختیارات کی تقسیم کا ہے، یہ سوال ان غیرمنتخب ججوں پر مشتمل عدالت کے اختیارات کا ہے جو پارلیمنٹ کے بنائے گئے قانون کے مقاصد اور پالیسی پر بادی النظر میں بغیر کسی معقول وجہ کے نظرثانی کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو جواز بنا رہے ہیں، جس کا عدالت میں شکوک سے بالاتر کوئی ثبوت بھی پیش نہیں کیا گیا ہے، فاضل جج نے قرار دیا ہے کہ اکثریتی فیصلے نے آئین کے اس واضح حکم کو بھی نظر انداز کیا ہے جس میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ریاست اپنا اختیار منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کریگی، فاضل جج نے قرار دیا ہے کہ اکثریتی فیصلے نے آئین کے تین ستونوں کے بیچ اختیارات کی تقسیم جیسے پارلیمانی جمہوریت کے بنیادی اصول کو بھی نظر انداز کردیا ہے، اکثریتی ججوں یعنی چیف جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن نے خود کو ایک سیاستدان یعنی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے ایسے غیرآئینی جال میں پھنسا لیا ہے۔

اکثریتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا ہے کہ کس طرح اراکین پارلیمنٹ کا احتساب آئین میں درج بنیادی حقوق کا حصہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ اکثریتی فیصلے میں 2 جج صاحبان نے اس مفروضے کو بنیادی حقوق کے معاملے سے جوڑنے کے لیے ایک لمبا راستہ اختیار کیا ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ جسٹس بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن کے تحریری فیصلے میں یہ بھی سقم ہے کہ انہوں نے اس بات کا ادراک نہیں کیا کہ جو پارلیمنٹ قانون بنا سکتی ہے وہی اس کو ختم کر سکتی ہے اور پارلیمنٹ کے پاس قانون سازی سے متعلق لامتناہی اختیارات ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ چونکہ پارلیمنٹ نے یہ قانون بنایا ہے اس لیے وہی اس کو ختم بھی کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ان وجوہات کی بناء پر میں اس فیصلے سے اختلاف کرتا ہوں جس کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی‘۔

Back to top button