یونیورسٹی طلبا میٹرو ٹرین میں مفت سفر کیوں نہیں کر سکتے؟

پنجاب کی نگران حکومت نے طلبا اور بزرگوں کے لیے میٹرو کا سفر مفت کر رکھا ہے، یونیفارم میں ملبوس طلبا ہی میٹرو میں مفت سفر کے اہل ہوں گے لیکن یونیورسٹی طلبا بغیر یونیفارم ہوتے ہیں، اس لیے ان کو مفت سفر کی سہولت میسر نہیں ہوگی۔لاہور کے کلمہ چوک پر میٹرو بس کے انتظار میں بیٹھی پنجاب یونیورسٹی میں بیچلرز کی طالبہ صبا اس حکومتی فیصلے کو مساوی نہیں سمجھتیں، اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ سہولت یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے نہیں ہے کیونکہ یونیورسٹی کے طلبہ یونیفارم نہیں پہنتے خاص طور پر سرکاری جامعات میں تو یونیفارم ہوتا ہی نہیں، نجی یونیورسٹیوں میں بھی بیچلرز اور ماسٹرز کے لیے یونیفارم کی کوئی قید نہیں، اس لیے حکومت کی یہ پالیسی صرف اور صرف بارہویں جماعت کے طلبہ و طالبات کے لیے ہے، سیکنڈ ایئر سے آگے جو طلبہ ہیں وہ زیادہ میٹرو بس پر سفر کرتے ہیں، میٹرک اور انٹر تک تو والدین خود ہی بچوں کو سکول کالج چھوڑتے ہیں۔صرف صبا ہی نہیں لاہور کے میٹرو بس سٹیشنز پر کھڑے متعدد طلبہ و طالبات محدود مفت سفر کی حکومتی سہولت کو تنقید کا نشانہ بناتے نظر آتے ہیں۔گورنمنٹ سائنس کالج کی بیچلرز کی طالبہ سحر جاوید کا کہنا ہے کہ ’ہمیں جب پتا چلا کہ حکومت نے طلبہ کے لیے میٹرو بس پر سفر مفت کر دیا ہے تاہم ہمیں میٹرو سٹیشن پر بتایا گیا کہ آپ کے لیے یونیفارم میں ہونا لازمی ہے تاہم اس اعلان پر محدود انداز میں عمل درآمد کے باعث یونیورسٹیوں کے اکثر طلبہ و طالبات ناخوش ہیں، ایک اور طالبہ سحر فیاض نے بتایا کہ میٹرو ٹرین کا کرایہ اب بڑھ چکا ہے اور اب 30 روپے لیے جاتے ہیں۔ان کے مطابق اب جس کسی نے روزانہ میٹرو بس پر سفر کرنا ہے اور وہ اتنا کرایہ دے بھی نہیں سکتا تو حکومتی پالیسی کو جامعات کے طلبہ و طالبات تک بڑھایا جائے تب ہی صحیح معنوں میں یہ پالیسی ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی، یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کے لیے میٹرو بس پر مفت سفر کی سہولت کیوں نہیں ہے؟ انہوں ںے بتایا کہ جب یہ فیصلہ کیا گیا کہ طلبہ و طالبات اور بزرگ افراد کو مفت سفر کی سہولت دی جائے تو اس حوالے سے یہ معاملہ زیر بحث آیا کہ اس کا طریقہ کار کیا ہوگا؟پھر یہ فیصلہ کیا گیا کہ طلبہ و طالبات کے لیے یونیفارم کی شرط رکھنا ضروری ہے تاکہ اس سہولت کا غلط استعمال نہ ہو، یہ ایک طرح سے قومی خزانے سے دی جانے والی سبسڈی ہی ہے، نگران وزیر اطلاعات عامر میر کے مطابق اگر یونیفارم کی شرط ختم کر دی جائے تو پھر کوئی بھی اپنے آپ کو طالب علم ظاہر کر کے اس سہولت کا غلط فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
