جسٹس گلزار احمد نے چیف جسٹس پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ترین جج جسٹس گلزار احمد نے پاکستان کے 27ویں منصف اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حلف برداری کی تقریب کے دوران صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس گلزار احمد سے چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف لیا۔
ایوان صدر میں ہونے والی تقریب حلف برداری میں صدر مملکت کے علاوہ وزیراعظم عمران خان، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وفاقی وزرا، صوبائی گورنرز سمیت سپریم کورٹ کے موجودہ اور سابق ججز، سینئر وکلا اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب کے شروع میں قومی ترانے کی دھن بجائی گئی جس کے بعد تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا ، اس کے بعد صدر مملکت نے جسٹس گلزار سے منصف اعلیٰ پاکستان کی حیثیت سے حلف لیا۔
واضح رہے کہ ملک کے 26ویں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی گزشتہ روز سبکدوشی کے بعد جسٹس گلزار احمد 27ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے فرائض انجام دیں گے۔چیف جسٹس گلزار احمد 2سال سے زائد عرصے تک اس عہدے پر رہیں گے اور فروری 2022 میں بطور چیف جسٹس آف پاکستان سبکدوش ہوجائیں گے۔
اگر جسٹس گلزار احمد کی بات کی جائے تو سپریم کورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق وہ 2 فروری 1957 کو کراچی میں معروف وکیل نور محمد کے گھر میں پیدا ہوئے تھے۔انہوں نے ابتدائی تعلیم کراچی میں گلستان سکول سے حاصل کی اور نیشنل کالج سے بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایس ایم لا کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری مکمل کی۔اس کے بعد وہ 18 جنوری 1986 میں ایڈووکیٹ کی حیثیت سے رجسٹرڈ ہوئے اور پھر 4 اپریل 1988 کو ہائیکورٹ کے ایڈووکیٹ کی حیثیت سے ان کا اندراج ہوا جس کے بعد 15 ستمبر 2001 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایڈووکیٹ بنے۔اس کے علاوہ جسٹس گلزار احمد سن 1999 سے 2000 کے دوران سندھ ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے اعزازی سیکریٹری کے عہدے کے لیے بھی منتخب ہوئے۔2002 میں سندھ ہائیکورٹ کے جج منتخب ہونے سے قبل وہ کراچی کے 5 سرفہرست وکلا میں شامل رہے اور اپنے کیرئیر میں سول، لیبر، بینکنگ، کمپنی قوانین اور کارپوریٹ سے متعلق کیسز میں وکالت کی۔جسٹس گلزار احمد 27 اگست 2002 کو سندھ ہائی کورٹ کے جج منتخب ہوئے جبکہ 16 نومبر 2011 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کی حیثیت سے ترقی حاصل کی۔
