جماعت اسلامی PPPکیساتھ جائے گی یا PTIکے؟

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے نتائج سامنے آنے کے بعد حیدرآباد کی میئر شپ تو واضح طور پر پیپلز پارٹی کے پاس جا رہی ہے لیکن کراچی میں میئر کے لیے سیاسی جوڑ توڑ اور مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی، دونوں ہی میئر شپ سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نظر نہیں آتیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے جماعت اسلامی سے زیادہ نشستیں جیتیں ہیں اور اس حساب سے اگر دونوں جماعتوں میں اتحاد ہوتا ہے تو میئر کا عہدہ پیپلز پارٹی کے پاس ہی جاتا ہے۔ ایسے میں جماعت اسلامی کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ پیپلز پارٹی سے ہاتھ ملائے گی یا پھر تحریک انصاف کے ساتھ جائے گی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جماعت اسلامی تحریک انصاف کے ساتھ ہاتھ ملاتی ہے تو وہ میئر شپ تو حاصل کر لے گی لیکن اس کا رول اپوزیشن کا ہو گا چونکہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جس نے تمام بلدیاتی فنڈز جاری کرنے ہیں۔

یاد رہے کہ کراچی میں تقریبا ًڈھائی سال کے بعد بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے تھے جن میں الیکشن کمیشن کے مطابق ٹرن آؤٹ 20 فیصد تک رہا۔نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی 93 یونین کمیٹیوں سمیت پہلے، جماعت اسلامی 86 یوسیز کے ساتھ دوسرے جبکہ تحریک انصاف 40 یوسیز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ مسلم لیگ ن کے پاس سات، جے یو آئی کے پاس 3، تحریک لبیک کے پاس 2، تین آزاد اور ایم کیو ایم حقیقی کو ایک نشست پر کامیابی حاصل ہوئی۔ 11 یونین کمیٹیوں پر امیدواروں کے انتقال کی وجہ سے انتخابات ملتوی کر دیے گئے تھے۔ کراچی میٹرو پولیٹن میں 246 عام نشستیں ہیں جبکہ خصوصی نشستوں میں 33 فیصد خواتین، 5 فیصد نوجوانوں، 5 فیصد مزدوروں، ایک فیصد معذوروں اور ایک فیصد نشستیں خواجہ سراؤں کے لیے مختص ہیں۔ اس حساب سے مخصوص نشستوں پر انتخاب مکمل ہونے کے بعد پیپلز پارٹی 143، جماعت اسلامی 133 اور تحریک انصاف 65 سیٹیں حاصل کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

کراچی میں 1979 سے لیکر اب تک جماعت اسلامی کے تین منتخب میئر رہ چکے ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ایم کیو ایم کے میئر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے فہیم الزمان اور مرتضیٰ وہاب ایڈمنسٹریٹر تو رہ چکے ہیں لیکن کبھی منتخب میئر نہیں ہوئے۔ کراچی میں بلدیاتی انتخابات سے کئی ماہ قبل پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اعلان کر چکے تھے کہ کراچی کا میئر جیالا یعنی ان کی جماعت سے ہو گا۔ الیکشن کمیشن کے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت تو ہے تاہم یہ اکثریت اتنی نہیں کہ مئیر کی نشست کسی دوسری جماعت کے ساتھ اتحاد کے بغیر حاصل کی جا سکے۔

پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے مابین مذاکرات شروع ہو چکے ہیں لیکن صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا ہے کہ ’میئر شپ جماعت اسلامی کو دینے کی اطلاعات غلط ہیں، اور پی پی پی میئر شپ سے دستبردار نہیں ہو گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جماعت اسلامی کے ساتھ بات چیت جاری ہے اورراستہ نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سعید غنی کا دعویٰ تھا کہ اگر جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد نہ بھی ہو تو حکمران اتحادی پی ڈی ایم میں شامل جے یو آئی اور مسلم لیگ ن سمیت چھوٹی جماعتوں پیپلز پارٹی کے ساتھ ملنے کو تیار ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ان کی ’پہلے سے انڈرسٹینڈنگ ہے، کئی یوسیز میں مشترکہ امیدوار کھڑے کیے تھے، اور وہ اکثریت میینج کر لیں گے۔‘ یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے ممکنہ اتحادیوں کی تعداد 16 بنتی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کو مخصوص نشستوں میں بھی ایک بڑا حصہ ملنے کی امید ہے۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کا مسلسل یہی دعویٰ ہے کہ وہ کراچی کی اکثریتی جماعت ہے۔ جماعت اسلامی اس وقت ریٹرننگ افسران کے دفتر کے باہر دھرنے بھی دیے ہوئے ہے کیونکہ اس کا دعویٰ ہے کہ 10 یونین کمیٹیوں میں مبینہ طور پر نتائج تبدیل ہوئے۔ جماعت اسلامی کے میئر کے امیدوار حافظ نعیم کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پریذائیڈنگ افسران کے دستخطوں کے ساتھ کاغذات موجود ہیں، جو نشستیں ہم نے جیتی ہیں۔جب ہمارے نمبر صحیح ہو جائیں گے تو پھر ہر کسی سے بات چیت ہو جائے گی۔ اس سے پہلے اگر ہم میئر شپ کی بات پر چلے جاتے ہیں تو پھر ہمارا دعویٰ ختم ہو جاتا ہے۔‘ حافظ نعیم کا کہنا ہے کہ ایک اچھا ماحول بنانے اور کراچی کی ترقی کے لیے سندھ حکومت سے بات ہو گی، ان کے ساتھ مل کر کام ہو گا، اس میں کوئی دو رائے نہیں لیکن جو مینڈیٹ ملا ہے وہ فراہم کریں۔‘ لیکن انکا کہنا تھا کہ ’ہماری اکثریت ہے، میئر ہمارا بنے گا کیونکہ اگر ہم شہر کی نمبر ون جماعت ہیں تو پھر میئر سے دستبردار کیوں ہوں گے۔‘

لیکن سندھ کے بلدیاتی الیکشن میں ایک بات واضح ہوگئی کہ تحریک انصاف کا تقریباً صفایا ہو گیا ہے جس نے 2018 کے الیکشن میں کراچی سے 14 قومی اسمبلی کی نشستیں جیتی تھیں۔ اس وقت کے نتائج کے مطابق اس کے پاس کراچی کی یونین کمیٹیوں کی 40 نشستیں ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما خرم شیر زمان کا کہنا ہے کہ پارٹی نے ابھی فیصلہ نہیں کیا کہ کس جماعت کی حمایت کرنی ہے تاہم جماعت اسلامی کی میئر شپ کے امیدوار حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے انہیں غیر مشروط پیشکش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی والے ان کے دوست ہیں اور ان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔‘ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد کے امکان کو مسترد کیا ہے۔ صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا ہے کہ ’پہلے پی ٹی آئی والے خود کو ایک سیاسی جماعت اور اپنا ڈسپلن ثابت کریں، اس کے بعد وہ اپنی قیادت کو سفارش کریں گے، ان سے بھی بات چیت کی جائے۔‘

سندھ کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کراچی سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی مظہر عباس کا کہنا ہے کہ اگر تحریک انصاف اور جماعت اسلامی میں اتحاد ہو جاتا ہے تو پیپلز پارٹی کے لیے میئر منتخب کروانا مشکل ہو جائے گا۔ اگر پیپلزپارٹی مینیج کر کے اپنا میئر منتخب کروا بھی لیتی ہے تو اس کو تگڑی اپوزیشن ملے گی اور وہ نہیں چاہیں گے کہ ایسی تناؤ والی صورتحال پیدا ہو لہذا انھیں جماعت اسلامی سے بات کرنا ہو گی۔ مظہر عباس کا کہنا ہے کہ اگر جماعت اسلامی تحریک انصاف کے ساتھ جاتی ہے تو وہ میئرشپ تو حاصل کر لیں گے لیکن اس طرح سے مؤثر میئر نہیں بن سکے گا۔ ظاہر ہے کہ اس کو اپوزیشن کے میئر کے طور پر دیکھا جائے گا اور صوبائی حکومت سے بھی مسئلے مسائل ہوں گے۔ ایسے میں زیادہ امکان یہی ہے کہ حتمی اتحاد پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کےمابین ہوگا۔

Back to top button