پاکستانیوں کیلئے آن لائن انٹرنیشنل ادائیگیاں مشکل

بینکوں کی جانب سے انٹرنیشنل ادائیگیوں کیلئے ڈالر کے من مانے ریٹس نے پاکستانی صارفین کو مشکل سے دوچار کر دیا ہے، بینکوں کی جانب سے صارفین سے انٹرنیشنل ادائیگیوں پر ڈالر ریٹ مارکیٹ سے کئی گنا زائد وصول کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں کمرشل بینکوں کی جانب سے کریڈٹ کارڈ پر بیرون ملک ادائیگیاں اوپن مارکیٹ ڈالر ریٹ پر کرنے کے اعلان کے باوجود صارفین نے شکایت کی ہے کہ پاکستانی بینک ان سے کارڈ کے ذریعے کی گئی انٹرنیشنل ٹرانزیکشن کے اوپن مارکیٹ ریٹ سے بھی زائد وصول کر رہے ہیں۔

دوسری طرف یہی کمرشل بینک بیرون ملک سے ڈالر میں آنے والی رقوم انٹربینک ریٹ یا اس سے بھی چھ سات روپے کم ریٹ کے حساب پر صارفین کو ادا کرتے ہیں، بلکہ اس پر اضافی فیس کی مد میں مزید کٹوتی بھی کی جاتی ہے۔ پاکستانی سینیٹ کے اقلیتی رکن دنیش کمار پالیانی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان سے بین الاقوامی خریداری پر بینک نے بلیک مارکیٹ ریٹ وصول کیا ہے، اگر پاکستان میں انٹربینک میں ڈالر ریٹ 228 روپے ہے تو اوپن مارکیٹ میں 236 ہے مگر بلیک مارکیٹ میں 260 روپے میں ڈالر بیچا جاتا ہے۔ ان کے مطابق کچھ دن قبل وہ بیرون ملک تھے تو اپنے کریڈٹ کارڈ پر کچھ خریداری کی جس کا بل وہاں 70 ہزار روپے دکھایا گیا مگر جب وہ پاکستان پہنچے تو کریڈٹ کارڈ پر 89 ہزار روپے چارج ہو چکے تھے۔ سینیٹر دنیش کمار نے بتایا کہ جب انہوں نے بینک کو فون کر کے پوچھا تو جواب ملا کہ ہم انٹرنیشنل ٹرانزیکشن اوپن مارکیٹ سے ڈالر لے کر مکمل کرتے ہیں، اسلئے ڈالر میں کی گئی انٹرنیشنل ٹرانزیکشن کی پاکستانی روپے میں وصولی اوپن مارکیٹ کے ریٹ سے کی جائے گی۔سینیٹر پالیانی نے کہا کہ سٹیٹ بینک نے بینکوں کو اختیار دے دیا ہے کہ بلیک مارکیٹ سے ڈالر خرید لیں۔ ایسا کر کے پاکستانی عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، وزیرخزانہ اس کا نوٹس لیں۔

یاد رہے کہ چند دن قبل میزان بینک اور حبیب بینک کی جانب سے اعلان سامنے آیا تھا کہ کریڈٹ کارڈ پر بیرون ملک ادائیگیاں اب اوپن مارکیٹ ڈالر ریٹ پر ہوں گی۔ اس اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ کریڈٹ کارڈ پر بیرون ملک سے اشیا خریدنے پر تمام ادائیگیاں اوپن مارکیٹ ریٹ پر ہوں گی اور خریداری کے وقت ڈالر کا جو بھی ریٹ اوپن مارکیٹ میں ہو گا وہی چارج کیا جائے گا۔ راولپنڈی کے ایک صنعت کار مسعود خان نے بتایا کہ انہیں ڈالر کے دو تین ریٹس ملتے ہیں، ڈالر کا ایک ریٹ پڑوسی ملک سے ملتا ہے اور ایک پشاور سے جبکہ ایک کمرشل بینکوں سے ملتا ہے جس کی وجہ سے ملک میں ڈالر کی مزید قلت ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان تینوں کی جگہ پاکستان میں ڈالر کا ایک ریٹ یقینی بنایا جائے تو امریکی کرنسی کی قلت 30 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے ترجمان عابد قمر نے اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بینکوں کی جانب سے اوپن مارکیٹ ریٹ پر ادائیگیوں کی وصولی نئی بات نہیں بلکہ گذشتہ پندرہ 20 سال سے یہ پریکٹس جاری ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ ہمیشہ بین الاقوامی ٹرانزیکشن کے لیے صارفین سے اوپن مارکیٹ ریٹ کے حساب سے وصولی کرتے ہیں اور سٹیٹ بینک کی جانب سے ایسا کرنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے، بینک خود سے طے کرتے ہیں کہ ڈالر کا اوپن مارکیٹ ریٹ کیا ہے اور اسی کے مطابق صارف سے وصولی کرتے ہیں۔ اس سوال پر کہ کیا سٹیٹ بینک نے کوئی نیا ہدایت نامہ جاری کیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی ہدایت نامہ جاری نہیں ہوا مگر چونکہ اس وقت ڈالر کا انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ ریٹ خاصا مختلف ہو چکا ہے، اس لیے کچھ دن قبل چند بینکوں نے عوامی آگاہی کے لیے پیغام جاری کیا تھا کہ وہ بین الاقوامی ادائیگیوں کے لیے اوپن مارکیٹ ریٹ کے حساب سے وصولی کریں گے۔

پاکستانیوں کیلئے آن لائن انٹرنیشنل ادائیگیاں مشکل

Back to top button