پارٹیوں سے ناراض جیالے اورمتوالے ایک پلیٹ فارم پرکیوں؟

شاہد خاقان عباسی نے مسلم لیگ نون چھوڑنے کی افواہوں کو رد تو کر دیا ہے لیکن اسکے باوجود انہوں نے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور پیپلزپارٹی چھوڑنے والے سابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کے ساتھ مل کر ملک گیر سیمینارز کا سلسلہ مزید آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے جن سے ان افواہوں کو تقویت مل رہی ہے کہ یہ لوگ مل جل کر کوئی نئی سیاسی جماعت بنانے کی تیاری میں ہیں۔ دوسری جانب مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ ان سیمینارز کا بنیادی مقصد موجودہ معاشی اور سیاسی عدم استحکام کا حل تلاش کرنے کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ بہتر ہوتا کہ مفتاح اسماعیل بطور وزیر خزانہ پاکستانی معیشت کو سنبھال لیتے تاکہ انہیں سیمینارز نہ کرنے پڑتے۔ موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار پہلے ہی الزام عائد کر چکے ہیں کہ ملک کی ابتر معاشی صورتحال کے ذمہ دار عمران خان کے علاوہ مفتاح اسماعیل بھی ہیں۔

پیپلز پارٹی قیادت سے ناراض ہونے کے بعد سینیٹ سے مستعفی ہونے والے مصطفیٰ نواز کھوکر کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری دعوت نامے کے مطابق پہلا سیمینار 21 جنوری کو کوئٹہ میں ہو گا جس کا موضوع ’پاکستان پر دوبارہ غور و فکر’ ہے جس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر شاہد خاقان عباسی اہم خطاب کریں گے۔ اس حوالے سے شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسا پلیٹ فارم بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں جس پر ملکی مسائل کے حوالے سے کھل کر گفتگو کی جا سکے اور ان کا حل تلاش کیا جاسکے۔ کوئٹہ میں ہونے والے سیمینار میں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل ’پاکستان کے معاشی حقائق اور مستقبل کا روڈ میپ‘ پر ایک پریذینٹیشن بھی دیں گے۔ خیال رہے کہ یہ ساری کارروائی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے کہ جب سوشل میڈیا پر رپورٹس گردش کر رہی ہیں کہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے ناراض سیاست دان ایک نئی جماعت بنانے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ نئی سیاسی جماعت کے قیام کی افواہیں نون لیگ کے ناراض دھڑے سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں کی وجہ سے اڑ رہی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں پارٹی میں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے یہ اطلاع بھی آئی تھی کہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے عمران خان کے سابقہ ساتھی جہانگیر خان ترین اور سنٹرل پنجاب سے تعلق رکھنے والے سابق گورنر چوہدری محمد سرور مل کر ایک نئی جماعت بنا رہے ہیں۔ لیکن جہانگیر ترین اور چوہدری سرور دونوں نے اس افواہ کو سختی سے رد کر دیا تھا۔ اس کے بعد اسلام آباد میں یہ افواہ اڑنا شروع ہوگئی کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل، پارٹی قائد نواز شریف کی جانب سے مریم نواز کو نون لیگ کا چیف آرگنائزر اور سینئر نائب صدر بنائے جانے پر ناراض ہیں اور ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا سوچ رہے ہیں۔

لیکن شاہد خاقان عباسی نے وضاحت کی ہے کہ وہ نہ تو پارٹی چھوڑ رہے ہیں اور نہ ہی کسی نئی جماعت کا حصہ بننے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے اڑائی جانے والی افواہیں واھیات ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ کوئی نئی جماعت تشکیل دی جا رہی ہے کیونکہ میں اور میرے کچھ ہم خیال سیاست دان دوست اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں میں سیمینارز کا انعقاد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ان سیمینارز کے حوالے سے کوئی مخفی ایجنڈا نہیں ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ یہ سیمینارز اُن مسائل کے حوالے سے منعقد کیے جا رہے ہیں جو پاکستان کیلئے باعثِ تشویش بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کو مدعو کیا گیا ہے تاکہ ملکی مسائل پر اتفاق رائے حاصل ہو سکے۔

دوسری جانب مفتاح نے اس بارے میں ایک ٹوئیٹ بھی کی تھی اور اعلان کیا تھا کہ شاہد خاقان عباسی، مصطفیٰ نواز کھوکھر، فواد حسن فواد، خواجہ محمد ہوتی، حاجی لشکری رئیسانی، اسد شماد اور کئی دیگر لوگ بڑے ایشوز پر اتفاق رائے کیلئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ’’ہم لوگ پاکستان بھر میں سیمینارز کا انعقاد کر رہے ہیں تاکہ عام پاکستانیوں کے مسائل کو اجاگر کیا جا سکے اور ساتھ ہی ان کا حل بھی تلاش کیا جا سکے۔ لہذا ہمارے رہنماؤں کو چاہئے کہ وہ مل بیٹھیں اور مسائل کا حل تلاش کریں۔ ہمارا پہلا سیمینار21؍ جنوری کو ہوگا جو اس اتفاق رائے کی جانب ایک قدم ہوگا۔ براہِ کرم اس کوشش کی حمایت کیجیے گا۔‘‘ اس سے پہلے مفتاح نے شکایت کی تھی کہ بحیثیت وزیر خزانہ انہیں شہباز شریف کابینہ سے نکلنے کیلئے پارٹی قیادت کی جانب سے شائستہ موقع فراہم نہیں کیا۔ وہ موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی معاشی پالیسیوں کے نقاد رہے ہیں اور ڈار کی جانب سے مالی معاملات سے نمٹنے کے طرز عمل پر بھی تنقید کرتے رہے ہیں، وہ یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ جب وہ وزیر خزانہ تھے تو ڈار بھی ان پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ ایسے میں اب دیکھنا یہ ہے کہ ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کے حوالے سے اڑنے والی افواہوں میں کتنا وزن ہے۔

دوسری جانب رابطہ کرنے پر سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ ان کا پارٹی بنانے یا کسی اور پارٹی میں جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے کیونکہ انہوں نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ وہ آزاد امیدوار کے طور پر آئندہ انتخابات میں حصہ لیں گے۔ انہوں کہا کہ وہ معاشی بحران اور سیاست میں تنزلی کے تناظر میں ملک کو دلدل سے نکالنے کا طریقہ تلاش کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن کسی کا نام لیے بغیر انہوں نے سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ صرف اقتدار کی سیاست کرتی ہیں اور اپنی تمام توجہ صرف اور صرف اقتدار حاصل کرنے پر مرکوز کرتی ہیں۔ معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مصطفیٰ نے کہا کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام پہلے ہی موجود ہے مگر اب ملک معاشی دیوالیہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر اپنی متعدد ٹوئٹس میں کہا کہ ’ ایک غیر جانبدارانہ کوشش کرتے ہوئے میں دوستوں اور ساتھیوں سے پاکستان کے موجودہ معاشی، سیاسی اور سماجی بحرانوں کے بارے میں رابطہ کر رہا ہوں جو اب ریاست اور معاشرے کی بنیادوں کے لیے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔’ سابق سینیٹر نے کہا کہ امتحان کی اس گھڑی میں ہمیں پاکستان کے بارے میں دوبارہ سوچنے کی ضرورت ہے، لہٰذا ہم سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے ملک بھر میں سیمینارز کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

سیمینارز کے لیے مالی اخراجات بارے سوال پر انہوں نے کہا کہ حاجی لشکری رئیسانی کوئٹہ میں میزبانی کر رہے ہیں، خواجہ محمد ہوتی پشاور اور مفتاح اسمٰعیل کراچی میں میزبانی کریں گے جبکہ وہ خود اسلام آباد میں سیمینار کی میزبانی کریں گے۔

تحریک انصاف کا کراچی میں نئے بلدیاتی انتخابات کرانے کا مطالبہ

Back to top button