عامر لیاقت نے اپنا پوسٹ مارٹم نہ کروانے کی وصیت کیوں کی؟

سابق رکن قومی اسمبلی، مذہبی سکالر مرحوم ڈاکٹر عامر لیاقت کی سابق اہلیہ بشریٰ اقبال نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے سابقہ شوہر کا پوسٹ مارٹم کروانے کی مخالفت اسلئے کی کہ انہوں نے خود یہ وصیت اپنے ایک قریبی دوست کو تھی۔ حال ہی میں عامر لیاقت حسین کی تیسری اہلیہ دانیہ شاہ کی گرفتاری سے متعلق کیس میں عدالت میں پیشی کے موقع پر بشریٰ اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دانیہ کی والدہ کی جانب سے کہانیاں گھڑنے پر ہنسی آتی ہے، انہوں نے کہا کہ مجھ پر عامر کا پوسٹ مارٹم رکوانے کے الزامات لگائے گئے حالانکہ میرا اس میں کوئی کردار نہیں تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عامر لیاقت کی جائیداد پر کوئی تنازع تھا ہی نہیں، عامر لیاقت کا گھر آج تک سیل ہے، ان کی پراپرٹی کے ایشوز میں ہم آج تک نہیں پڑے، میں اپنے ذاتی خرچے پر اس کیس کو لڑ رہی ہوں۔
سابق اہلیہ کے مطابق عامر کا پوسٹ مارٹم اس لیے رکوایا گیا کیوں کہ ان کی وصیت تھی جو انھوں نے اپنے دوست ثاقب سے کی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اگر کبھی بھی مجھے کچھ ہو جائے تو میرا پوسٹ مارٹم مت کروانا، انتقال کے بعد جب عامر کی میڈیکل رپورٹ میں کوئی نشان یا انجری کے شواہد نہ ملے توان کے بچوں نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنے والد کو پوسٹ مارٹم کے عمل سے نہیں گزاریں گے تاکہ میت کی بے حرمتی نہ ہو۔ بشریٰ نے کہا کہ رہی بات عامر کی جائیداد کی تو آج انکی سب سے بڑی جائیداد ان کے بچے ہیں جو میرے پاس ہیں۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر بشریٰ اقبال نے عامر لیاقت حسین کی تیسری اہلیہ دانیہ شاہ کے خلاف اپنے سابقہ شوہر کی نازیبا ویڈیو وائرل کرنے کے الزام میں ایف آئی اے کراچی میں مقدمہ درج کروایا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد عامر لیاقت ذہنی دباؤ میں آکر انتقال کر گئے لہذا دانیہ کے خلاف کارروائی کی جائے۔ چنانچہ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے دانیہ شاہ کو گرفتار کرلیاتھا۔
جماعتِ اسلامی کی دھاندلی کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر
