جناح کے پاکستان میں چوکیدار علاقے کے چودھری کیسے بن گئے؟

کہاوت ہے کہ ایک چودھری ایک نئے علاقے میں آ کر آباد ہو گیا۔ علاقہ کیا تھا جنت کا ٹکڑا تھا، ایک طرف بلند و بالا پہاڑ تو ایک طرف گہرا نیلا سمندر۔ چودھری کو اپنے ہمسایوں سے خطرہ محسوس ہوا، سو اس نے چار چوکیدار رکھ لیے۔
چوکیدار گھر کی حفاظت پر معمور ہوئے تو چودھری بھی مطمئن ہو گیا۔ چوکیداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے چودھری نے ان کی تنخواہیں بھی خوب مقرر کیں اور ہر سال اس میں اضافہ بھی کرتا رہا۔ گھر کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ ان چوکیداروں پر لگایا جاتا رہا۔ اس دوران چوکیداروں نے علاقے میں بدمعاشی شروع کردی اور یوں آہستہ آہستہ وہ چوکیدار اس علاقے کے سب سے طاقتور محافظ بن گئے۔
ہمسایوں میں بھی چوکیداروں کی بہادری کے چرچے ہوئے تو انہوں نے بھی اپنی حفاطت کے لیے چوکیدار رکھ لیے۔ اس پر امن علاقے میں اپنی نوکری بچانے کے لیے چوکیداروں نے آپس میں گٹھ جوڑ کر لیا اور علاقے میں چھوٹے موٹے فساد بھی کروانے لگے۔ چیونٹی کو ہاتھی سے لڑوانا ہو، ہاتھی کو شیر ثابت کرنا ہو یا شیر کو گیڈر، سب ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ ان کی اجازت کے بغیر علاقے میں چڑیا پر بھی نہیں مار سکتی تھی۔ ان ہی کی ہلکے سے اشارے پر علاقے کے مکین ایک دوسرے کے خلاف صف آرا بھی ہو جاتے۔
پھر چوکیدار اتنی ترقی کر گئے کہ پہلے انہوں نے علاقے میں خوبصورت بنگلے بنائے، پھر سمینٹ کی فیکٹریاں لگا لیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہر منافع بخش کاروبار اپنا لیا۔ چوکیداروں نے ہر بڑے عہدے پر نظر رکھنے کے لیے اپنے جاں نشین بھی مقرر کر لیے۔ اپنی مشہوری کے لیے فلمی دنیا میں بھی چوکیداروں نے قدم رکھ دیا۔
چودھری کے چار بیٹے تھے۔ پنجو، سندھو، پی کے اور بلو۔ یوں تو سب ہی ذہین تھے لیکن چودھری کا بڑا بیٹا بلو زیادہ لائق تھا۔ علاقے کے چوکیدار یہ بات بھانپ گئے، انہوں نے اس بیٹے کو چودھری کی نظر میں باغی ثابت کر دیا اور یوں چودھری نے اس کی جانب سے اپنی توجہ ہی ہٹا لی۔ چودھری سب سے کم وسائل بلو پر خرچ کرنے لگا جبکہ پنجو ،سندھو اور پی کے کو پھر بھی کہیں نہ کہیں برابری دے دی جاتی لیکن بلو ہوتے ہوئے بھی نہ ہونے کے برابر ہو گیا۔
ہر سال جب چودھری گھر کا بجٹ بنانے لگتے تو چوکیدار علاقے کی بدامنی کی آڑ میں اپنا حصہ بڑھا لیتے۔ اس صورتحال کے پیش نظر چودھری کے معاشی حالات اتنے خراب ہوئے کہ وہ برائے نام ہی چودھری رہ گیا، شدید مالی بحران سے چودھری کے بچوں کا اسکول بھی چھوٹ گیا اور اسے گھر کا خرچ پورا کرنے کے لیے بھی قرض لینا پڑ گیا ۔ یوں چوکیداروں کو چھوڑ کر چودھری سمیت علاقے کے ہر فرد کا بال بال قرض میں ڈوب گیالیکن چوکیداروں کے تو وارے نیارے ہو چکے تھے۔ دوسری طرف چودھری کے گھر کے کئی خوبصورت حصے چوکیداروں نے قبضے میں کر لیے۔ وہاں کن عزائم کو پایا تکمیل تک پہنچایا جاتا تھا، چودھری مر کر بھی سوال کرنے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔ چودھری کے بیٹوں درمیان لڑائیاں بڑھنے لگیں اور وہ گنوار بن گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے آس پاس کے گھر ترقی کر گئے۔ کسی کے بچے اعلی تعلیم یافتہ ہو گئے تو کوئی خوشحالی میں تمام علاقے کو پیچھے چھوڑ گیا لیکن بیچارا چودھری سات دہائیوں سے صرف اپنے چوکیدار ہی پال رہا ہے۔ وقت کی ستم ظریفی یہ کہ بیچارے چودھری کا کوئی بیٹا بھی اس قابل نہیں کہ گھر کا بوجھ ہی بانٹ لے۔ چودھری کے اپنے بچے پڑھیں یا نہ پڑھیں لیکن چوکیداروں نے عہد کر لیا ہے کہ وہ ”دشمن کے بچوں کو پڑھائیں گے۔‘‘ اب صورتحال یہ یے کہ چوکیدار علاقے کے چودھری ہیں اور چودھری چوکیدار بن چکے ہیں، دیکھیں یہ سلسلہ کب تک چلتا ہے۔
