جنرل باجوہ اور فیض کی عملی سیاست کا راستہ بند؟

فوج میں حساس عہدوں پر تعینات رہنے والے ریٹائرڈ افسران کے 5 سال تک سیاست میں پابندی بارے قانونی ترمیم سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس ترمیم سے ماضی قریب میں ریٹائرڈ ہونے والے  آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید زد میں آئیں گے اور وہ آئندہ 5 سال تک عملی سیاست میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ آرمی ایکٹ میں ترمیم بارے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ نگار طلعت حسین کا کہنا ہے کہ جس طرح سینٹ میں آرمی ایکٹ میں ترامیم کو پاس کروایا گیا ہے بالکل اسی طرح یہ قومی اسمبلی سے بھی منظور کروا لیا جائے گا تاہم اس کا اصل مرحلہ اس وقت ہو گا جب یہ بل قانون بن کر نوٹیفائی ہو گا اور یہی وہ وقت ہو گا جب صورتحال مکمل طور پر واضح ہو جائے گی۔انھوں نے کہا کہ بظاہر تو ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے یہ قانون ’پرسن سپیسیفک‘ یعنی کسی شخصیت یا شخصیات کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا قانون ہے جس کا مقصد اُن ریٹائرڈ یا مستعفی ہونے والے فوجی افسران کو مستقبل قریب میں سیاست میں آنے سے روکنا ہے جو سابق وزیر اعظم عمران خان کے قریبی حلقوں میں سمجھے جاتے تھے۔

طلعت حسین کا کہنا تھا کہ جس قسم کا اس وقت ملک میں ماحول ہے اور بلخصوص نو مئی کے واقعے کے بعد، جس میں کچھ حاضر سروس فوجی افسران بھی ملوث تھے جنھیں فوج میں سزائیں بھی سنائی گئی ہیں، کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان ترامیم کا مقصد فوج میں ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو کہ اپنی ریٹائرمنٹ یا برطرفی کے بعد سیاست میں حصہ لینے کا سوچ رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہر ادارے کا اپنا ڈسپلن ہوتا ہے اور اس کی خلاف ورزی کوئی بھی برداشت نہیں کرتا۔

دوسری جانب کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم جنھوں نے فوج کی جج ایڈووکیٹ جنرل یعنی جیگ برانچ میں کام کیا ہے نے بی بی سی کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ آرمی ایکٹ میں یہ بات پہلے سے ہی ہے کہ کوئی بھی فوجی افسر یا اہلکار اپنی ریٹائرمنٹ یا برطرفی کے دو سال تک سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتا۔انھوں نے کہا کہ پہلے سے موجود اس قانون کے باوجود بدقسمتی سے ماضی میں افسران نے ان قواعد پر عمل درآمد نہیں کیا۔انھوں نے کہا کہ سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف جب سعودی عرب ملازمت کے لیے گئے تھے تو انھیں این او سی اس وقت کی سپریم کورٹ کے حکم پر جاری کیا گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ اسی طرح فوج اور آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ نے بھی فوجی نوکری ختم ہونے کے بعد دو سال کی مدت کا انتظار نہیں کیا اور بیرون ممالک نوکریاں شروع کر دیں۔ انھوں نے کہا یہ ایک وجہ ہو سکتی ہے کہ نئے مجوزہ قانون میں افسران کے سیاست کے ساتھ ساتھ اب ایسی فرمز میں بطور کنسلٹنٹ بھی کام کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے جو کہ پاکستانی فوج اور اس کے اداروں کے مفادات کے خلاف ہو۔

کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا تھا کہ فوجی افسر پر ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ عرصے تک سیاست میں حصہ لینے کی پابندی اس لیے لگائی جاتی ہے تاکہ وہ حساس معلومات جو کہ سروس کے دوران اس کے پاس تھیں وہ کسی کو جانے انجانے میں فراہم نہ سکیں۔ اور چونکہ وقت کے ساتھ یا چند برس گزرنے پر فوج کی پالیسی میں متعدد تبدیلیاں آ چکی ہوتی ہیں، اس لیے مخصوص مدت کے بعد انھیں اجازت دے دی جاتی ہے۔کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد دو سال تک سیاست میں حصہ لینے اور دوسری نوکری نہ کرنے کا قانون سول بیوروکریسی پر بھی عائد ہوتا ہے لیکن وہاں پر بھی اس کی پاسداری نہیں کی جاتی۔

خیال رہے کہ سینیٹ میں پیش کیے گئے بل میں کہا گیا ہے کہ اس کے قانون بنتے ہی اس کا فوری اطلاق ہو جائے گا یعنی ماضی کی بات نہیں کی گئی۔کرنل انعام کے مطابق وہ مجوزہ قوانین جن کا اطلاق ماضی سے کرنا مقصود ہوتا ہے وہاں واضح انداز میں تحریر کیا جاتا ہے کہ اس قانون کے پاس ہونے کے بعد اس کا اطلاق کب سے ہو گا۔انھوں نے کہا کہ چونکہ ماضی سے اطلاق سے متعلق کوئی بات بل میں موجود نہیں ہے اس لیے یہ اسی وقت سے نافذ العمل ہو گا جب یہ پارلیمان سے پاس ہونے کے بعد قانون کی شکل اختیار کر جائے گا۔

اس بل میں کہا گیا ہے کہ کوئی افسر جو ایسے عہدے پر فائز رہا ہو جسے’حساس‘ قرار دیا گیا ہے وہ اپنی ریٹائرمنٹ یا مستعفی ہونے اور یا پھر برطرفی کے پانچ سال مکمل ہونے تک سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتا۔ جبکہ دیگر افسران اور اہلکاروں کے لیے یہ مدت بدستور دو سال ہے۔کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے مطابق آرمی ایکٹ میں اس طرح کی کوئی وضاحت ان کے علم میں نہیں ہے جس میں واضح کیا گیا ہو کون سا عہدہ یا تعیناتی حساس ہو گی اور کون سی نہیں۔انھوں نے کہا کہ عمومی طور فوج میں بڑے عہدے اور تعیناتیاں ’حساس‘ ہی ہوتی ہیں مگر چونکہ اب یہ قانون بنایا گیا ہے تو ممکن ہے کہ حساس عہدوں اور تعیناتیوں کی بھی کوئی تعریف کی گئی ہو۔

پاکستان فوج کے سابق افسر لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ نعیم خالد لودھی کہتے ہیں کہ ان ترامیم کے ذریعے فوج کے اندر ڈسپلن کو مزید سخت کیا گیا ہے۔ وردی میں رہتے ہوئے فوج کے خلاف کوئی بات نہیں کر سکتا اور نہ ہی کرنی چاہیے۔اُن کا کہنا تھا کہ ایسے افراد جو حساس عہدوں پر فائز رہے ہوں وہ پانچ سال تک سیاست سے دُور رہیں گے یہ بھی اچھی ترمیم ہے۔جنرل لودھی نے کہا کہ فوج معاشرے کا ہی حصہ ہے، لہذا یہ نہیں ہو سکتا کہ معاشرے میں ہونے والی تقسیم کا اثر فوج پر نہ پڑے۔اُن کے بقول اس طرح کے اقدامات کرنا ضروری تھا تاکہ فوج کے اندر یہ پیغام جائے کہ کسی بھی قسم کی بغاوت برداشت نہیں کی جائے گی۔آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے استعمال کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس کا اطلاق آرمی کے علاوہ سویلین پر بھی ہونے جا رہا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ ماضی میں صرف آرمی آفیشل سیکرٹ ایکٹ تھا۔ لیکن اب اسے مزید سخت بنایا جا رہا ہے اور ایسے سویلین جو آرمی کے سیکرٹ کو آشکار کریں ان پر بھی اس ایکٹ کا اطلاق ہو سکے گا۔

پاکستان فوج کی جیگ برانچ کے سابق افسر اور وکیل کرنل ریٹائرد انعام الرحیم کا کہنا تھا کہ کچھ ایسے واقعات پیش آئے ہیں جس کی وجہ سے یہ قوانین بنانا پڑے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ان قوانین کے ذریعے ریٹائر ہونے والے افسران کو آرمی کے ڈسپلن میں لایا گیا ہے، اب حساس پوسٹنگ پر کام کرنے والے پانچ سال تک سیاست میں نہیں آسکیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بعض سابق فوجی افسران کا ایک گروپ حالیہ عرصے میں ایک سیاسی جماعت کا حصہ بنا کر ان کے ساتھ شامل ہوا جس سے فوج کی ساکھ اور مورال کو نقصان پہنچا۔اُن کے بقول بعض ریٹائرڈ افسران نے کتابیں لکھیں اور اہم انکشافات کیے جو ملک کے لیے نقصان دہ تھے۔ اس وجہ سے حکومت اور فوج نے یہ قانون سازی کی ہے جس کے تحت ان افسران کو مزید پابند بنایا جاسکے گا۔

دوسری جانب دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ ادارے کے نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے لئے آرمی ایکٹ میں ترمیم ایک اچھا اقدام ہے مگر اس میں کچھ سوال ہیں کہ کیا یہ صرف فوجیوں پر لگے گا یا عام شہریوں کو بھی پکڑا جائے گا اور یہ بھی کہ کون فیصلہ کرے گا کون سی بات فوجی مفادات کے خلاف جاتی ہے؟ اس وقت پاکستان کا کوئی تھنک ٹینک ایسا نہیں جس میں کوئی فوجی نہ بیٹھا ہو۔ ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست میں آنے پر پانچ سال کی پابندی کی لپیٹ میں خاص طور پر جنرل باجوہ اور جنرل فیض آئیں گے۔ آرمی ایکٹ میں جو ترامیم کی گئی ہیں وہ خوش آئند ہیں، ان معاملات پر جی ایچ کیو میں پہلے سے کام جاری تھا تاہم قانون سازی سے متعلق پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہئیے تھی۔ خفیہ معلومات افشا کرنے کی شق کا اطلاق صرف حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجیوں پر ہو گا۔ فوج کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے کی اجازت تو نہیں دی جا سکتی مگر جو لوگ ادارے میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرنا چاہیں، ان کے لئے بھی کوئی راستہ رکھنا چاہئیے۔

خیال رہے کہ سینیٹ نے آرمی ترمیمی ایکٹ 2023 منظور کر لیا ہے جس کے تحت فوج کو بدنام کرنے پر دو برس کی سزا ہو سکتی ہے۔بل میں تجویز کردہ ترامیم کے مطابق ملک کی سلامتی اور مفاد میں ملنے والی سرکاری معلومات کے غیر مجاز انکشاف پر پانچ برس تک سخت قید کی سزا دی جائے گی۔تاہم بل میں واضح کیا گیا ہے کہ آرمی چیف یا کسی بھی با اختیار عہدہ دارکی اجازت سے معلومات سامنے لانے والے کو سزا نہیں ہوگی۔پاکستان اور افواج پاکستان کے مفاد کے خلاف کسی بھی قسم کی معلومات سامنے لانے والے شخص کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی ہو گی۔بل کے مطابق پاکستان آرمی ایکٹ جن ٖفوجی اہل کاروں پر لاگو ہوتا ہے انہیں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہو گی۔آرمی ترمیمی ایکٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ فوجی افسران کو ریٹائرمنٹ، مستعفی ہونے یا برطرفی کی صورت میں کم از کم دو برس تک کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہو گی۔بل میں تجویز کردہ ترامیم کے مطابق حساس منصب پر تعینات رہنے والے فوجی افسران کو پانچ برس تک سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی ہوگی۔ اس پابندی کی خلاف ورزی پر دو برس تک سخت سزا ہوگی۔بل کے مطابق فوج کو بدنام کرنے یا اس کے خلاف نفرت انگیزی کے مرتکب شخص کو دو برس تک قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔

Back to top button