جنرل باجوہ میری رپورٹ چیلنج کریں، ہر فورم پر ثابت کروں گا

چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کے خاندان کی جانب سے مبینہ طور پر بیرون ملک اربوں روپے کی جائیدادوں اور بزنس ایمپایئرز کے بارے میں ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کرنے والے سینیئر صحافی احمد نورانی نے کہا ہے کہ اب انہیں غدار اور بھارتی ایجنٹ ثابت کرنے کی مہم شروع ہو چکی ہے جس کے بعد انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی ملنا شروع ہو گئی ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ فیکٹ فوکس میں شائع ہونے والی ان کی رپورٹ ٹھوس دستاویزی شواہد پر مبنی ہے اور وہ کھلا چیلنج دیتے ہیں کہ اس رپورٹ کو وہ کسی بھی عدالت میں ثبوتوں کے ساتھ سچ ثابت کر سکتے ہیں۔
یاد ریے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے خاندان کے مبینہ کاروبار کے بارے میں رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد سے سوشل میڈیا پراس بارے میں تند و تیز بحث کا سلسلہ جاری ہے جبکہ حسب توقع مین سٹریم پاکستانی میڈیا نے اس ایشو کا بلیک آؤٹ کر رکھا ہے۔
’فیکٹ فوکس‘ نامی ایک ویب سائٹ پر جاری کردہ تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم کے خصوصی مشیر برائے اطلاعات و نشریات اور سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم باجوہ کی اہلیہ اور بھائیوں کے کئی غیر ملکوں میں کروڑوں ڈالرز کے اثاثے ہیں جن کی پاکستانی روپوں میں مالیت 1000 کروڑ یا 100 ارب سے بھی زائد ہے۔ لیکن عاصم سلیم باجوہ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اس رپورٹ کی تردید کی ہے اور اسے شر انگیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی جھوٹی رپورٹ کا بنیادی مقصد پاک چین سی پیک پروجیکٹ کو نقصان پہنچانا ہے جس کی اس وقت وہ سربراہی کر رہے ہیں۔
تاہم عاصم سلیم باجوہ کی تردید کو رد کرتے ہوئے احمد نورانی نے کہا ہے کہ ان کی تحقیقاتی رپورٹ سو فیصد سچ ہے اور ایسے دستاویزی حقائق پر مبنی ہے جو کسی بھی عدالت میں پیش اور ثابت کیے جا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستانی صحافی احمد نورانی اس وقت امریکہ کی ریاست میزوری میں ایک سکالر شپ پر موجود ہیں جہاں انہوں نے چار ملکوں سے سرکاری دستاویزات اکٹھی کر کے عاصم سلیم باجوہ کے خاندان کے اثاثوں پر تحقیقاتی رپورٹ تیار کی ہے۔
احمد نورانی نے انڈیپنڈنٹ اردو کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’بطور صحافی مجھے علم تھا کہ اس رپورٹ پر شدید ردِ عمل آ سکتا ہے۔ لیکن اسے فائل کرنے سے پہلے میں نے فیصلہ کیا تھا کہ صرف انہی حقائق کا ذکر کیا جائے گا جن کے میرے پاس سرکاری شواہد موجود ہوں اور جنہیں کسی بھی عدالت میں پیش کر کے ثابت کیا جا سکتا ہو۔ چنانچہ اگر کسی کو شک ہے تو میری رپورٹ کو قانونی طور پر چیلنج کرکے اپنی تسلی کر لے۔میں انشاءاللہ اپنی رپورٹ کو ہر فورم پر سچا ثابت کروں گا۔جب احمد نورانی سے پوچھا گیا کہ کیا اس رپورٹ کے بعد ان کا پاکستان واپس آنا مشکل نہیں ہو جائے گا، تو انہوں نے کہا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ میرا پاکستان آنا مشکل ہو جائے گا۔ میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔ پاکستان میرا ملک ہے، میں اسے ’اون‘ کرتا ہوں، پاکستان کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے۔ ایک طرف ہم جیسے صحافی سچ کے ذریعے پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور دوسرے طرف ہمیں پاکستان سے بھگانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ایسا تو سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ کوئی ہمیں ہمارے وطن آنے یا رہنے سے روکے گا۔‘
ایک اور سوال کے جواب میں احمد نورانی نے کہا کہ ’آپ کو سسٹم کو بدلنے کے لیے اس کے اندر رہنا پڑتا ہے۔ میری بھی کچھ حدیں ضرور ہیں۔ لیکن جب غلط بات ہو تو اس کے خلاف بولنا پڑتا ہے، چاہے کچھ بھی ہو جائے، میں نے سچ بولنے سے باز نہیں آنا، لیکن ساتھ ہی ساتھ کوئی ایسا طریقہ بھی اختیار کرنا ضروری ہے کہ آپ اپنی اور خاندان کی سلامتی کو یقینی بنا سکیں۔ یاد رہے کہ اکتوبر 2017 میں احمد نورانی کو اسلام آباد میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے حملہ کر کے شدید زخمی کر دیا۔ وہ ہسپتال میں رہے، اور انہیں مکمل طور پر صحت یاب ہونے میں کئی ماہ لگ گئے۔ 2018 میں احمد نورانی نے ایک اور تہلکہ خیز خبر بریک کی، جس میں عمران خان کے بھی ’بےنامی‘ آف شور اکاؤنٹ کا انکشاف کیا گیا تھا۔ اس سے قبل عمران بارہا کہہ چکے تھے کہ آف شور بےنامی اکاؤنٹ وہی بناتا ہے جو چور ہو۔ تاہم 2019 میں انہوں نے امریکہ کا رخ کر لیا اور اس وقت ریاست میزوری میں ’سکالرز ایٹ رسک نیٹ ورک‘ نامی ایک نان پرافٹ ادارے کی ایک فیلو شپ کے تحت مزوری کالج آف جرنلزم سے صحافتی کورس کر رہے ہیں۔
دوسری طرف پاکستان میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کے بیرون ملک اربوں روپوں کے اثاثوں کے حوالے سے خبر منظر عام آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بحث جاری ہے۔ زیادہ تر صارفین کا یہ موقف ہے کہ اگر سیاستدانوں اور اور ججوں سے ان کے اثاثوں کی منی ٹریل مانگی جا سکتی ہے تو پھر یہی قانون عاصم سلیم باجوہ پر بھی لاگو ہونا چاہیے جو اس وقت ایک اہم ترین قومی ادارے کی سربراہی کر رہے ہیں جس کا اربوں روپوں کا بجٹ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے خاندانی اثاثوں کی منی ٹریل دیں اور ثابت کریں کہ ان پر لگنے والے الزامات جھوٹے ہیں۔ لیکن لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اس مہم کے پیچھے نون لیگ ہے اور لازمی بات ہے جب پاکستان آرمی کے خلاف بات ہوتی ہے تو غیر ملکی ایجنسیاں اس کا فائدہ اٹھاتی ہیں، میرے خیال میں نون لیگ احمد نورانی کی پشت پر ہے کیونکہ لیگ کی تاریخ آرمی مخالفت کی تاریخ ہے۔ انہوں نے یاد دلوایا کہ نواز شریف نے ماضی میں سر عام کہا تھا کہ ہمارے جہادیوں نے کیوں ممبئی جا کر دھماکے کئے۔ یہ بھی سب جانتے ہیں کہ ڈان لیکس کس کی پیشکش تھی اور اب یہ عاصم سلیم باجوہ کے خلاف بیہودہ الزامات لے آئے ہیں جن کا مقصد صرف آرمی کو بدنام کرنا ہے۔
تاہم امجد شعیب کو سابقہ فوجی ہونے کی وجہ سے اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ میرٹ پر بات کرتے اور عاصم سلیم باجوہ کے اثاثوں کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے۔ امجد شعیب نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو میں مزید کہا کہ ان کی عاصم سلیم سے بات ہوئی ہے اور باجوہ کا کہنا تھا کہ ان کے دو بھائی 25 برس پہلے امریکا گئے تھے جہاں انہوں نے محنت مزدوری کی اور بعد میں بزنس شروع کیا اور جائیدادیں بنائیں لیکن ان کا اپنا اس بزنس سے کوئی لینا دینا نہیں اور نہ ہی ان کے بیٹے کا ہے، جو وہاں پڑھنے کے لیے گیا تھا۔ لیکن دوسری طرف احمد نورانی نے دستاویزی حقائق کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ عاصم باجوہ کا ایک بیٹا اس بزنس میں باقاعدہ حصہ دار ہے۔
فیکٹ فوکس میں شائع ہونے والی رپورٹ میں دستاویزی حقائق کے ساتھ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ عاصم سلیم باجوہ اور ان کی بیوی، بیٹوں اور بھائیوں کی بیرون ملک اربوں روپے کی جائیدادیں اور بزنس ایمپایئرز ہیں جو کہ عاصم باجوہ کی مختلف فوجی عہدوں پر ترقی کے ساتھ ساتھ بڑھیں۔ احمد نورانی نے رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ عاصم سلیم باجوہ کے بھائیوں، اہلیہ اور بچوں کی ‘ چار ممالک میں 99 کمپنیاں، 130 سے زیادہ فعال فرینچائز ریسٹورنٹس، اور 13 کمرشل جائیدادیں ہیں جن میں سے امریکہ میں دو شاپنگ مال بھی شامل ہیں۔’ دوسر طرف اسکے برعکس عاصم باجوہ نے وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی بننے کے بعد جمع کروائی گئی اپنے اثاثہ جات کی فہرست میں اپنی بیوی کے پاکستان سے باہر بزنس کیپیٹل کا ذکر نہیں کیا۔ عاصم باجوہ نے معاون خصوصی بننے کے بعد 22 جون 2020 کو اپنے اثاثہ جات کی ڈیکلیریشن پر حلفیہ دستخط کیے اور اپنی اہلیہ کے نام پر ‘خاندانی کاروبار’ میں صرف 31 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری ظاہر کی۔
تاہم لیفٹینینٹ جنرل ریٹایئرڈ امجد شعیب کے مطابق عاصم باجوہ کا کہنا ہے کہ عاصم باجوہ کے خلاف تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور انہیں آگے پھیلانے میں نون لیگ کی حمایتی گل بخاری، پی ٹی ایم کی حمایتی گلالئی اسماعیل اور حسین حقانی جیسے ملک دشمن لوگ شامل ہیں۔ امجد شعیب نے کہا کہ نون لیگ اس لیے یہ سب کر رہی ہے کیونکہ وہ سی پیک اتھارٹی کے خلاف ہے۔ اس کی قیادت کا خیال تھا کہ اپنے لوگوں کو ٹھیکے دے گی اور اربوں روپے کمائے گی۔ لیکن اب سی پیک اتھارٹی میں ہر چیز شفاف ہے اس لئے انہیں تکلیف ہے۔‘‘
تاہم عاصم باجوہ کے اثاثوں کے بارے میں رپورٹ شائع ہونے کے بعد کئی سوشل میڈیا صارفین یہ سوال پوچھتے دکھائی دے رہے ہیں کہ آیا فوج کے ریٹائرڈ جنرل کے خلاف تحقیقات کی جائیں گی یا کم از کم ان سے خاندان کی منی ٹریل مانگی جائے گی؟ تاہم ابھی تک اس معاملے پر نہ تو وزیراعظم کی جانب سے کوئی ردعمل آیا ہے جنہوں نے عاصم باجوہ کو اپنا معاون خصوصی مقرر کیا تھا اور نہ ہی فوج کے ادارے کا کوئی ردعمل سامنے آیا ہے۔ دوسری طرف عاصم باجوہ کی حمایت کرنے والے صارفین احمد نورانی کی رپورٹ اور اس کے بعد پوچھے جانے والے سوالات کو فوج، ملک اور سی پیک کے خلاف مبینہ ‘بھارتی سازش’ قرار دے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ عاصم باجوہ نے اپنے بارے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا اور کہا تھا کہ ایک غیر معروف ویب سائٹ پر میرے اور میرے خاندان کے خلاف پراپیگنڈہ کہانی شائع کی گئی، جس کی پرزور تردید کی جاتی ہے۔‘‘
اسی ٹویٹ کے جواب میں پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے لکھا، ”جنرل صاحب معذرت۔ رپورٹ کو مسترد کرنا تو ٹھیک ہے لیکن عوامی عہدیدار ہونے کے ناطے ایک سطری انکار کافی نہیں ہے۔‘‘ اس معاملے پر معروف مصنفہ عائشہ صدیقہ نے کہا ہے کہ زیادہ بہتر یہ ہو گا کہ عاصم باجوہ اپنے ان تمام اثاثوں کی، جو قانونی طور پر ان کے نام ہیں یا نہیں ہیں، تفصیلات پارلیمان میں پیش کریں۔‘‘ گلالئی اسماعیل نے لکھا کہ، ”عمران خان نے کرپشن کے خاتمے کے بیانیے پر الیکشن لڑا تھا، تو کیا اب وہ عاصم سلیم باجوہ سے منی ٹریل مانگیں گے؟‘‘ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم عاصم سلیم باجوہ کے سکینڈل پر کیا مؤقف اختیار کرتے ہیں؟
