جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کی کوشش کیسے ناکام ہوئی؟

دو وزرائے اعظم یعنی نواز شریف اور عمران خان کی چھٹی کروانے والے جنرل باجوہ کی جانب سے ایک اور توسیع کی کوششیں تب ناکام ہو گئیں جب ایوان صدر میں ان سے ایک خفیہ ملاقات کے بعد عمران خان نے جنرل باجوہ کو اگلے الیکشن کے بعد نئی حکومت کے قیام تک برقرار رکھنے کی تجویز دی جسے حکومت نے سختی سے رد کر دیا۔ جنرل باجوہ پہلے آرمی چیف ہیں جن کی فراغت سے صرف ایک ہفتہ پہلے ان کے خاندان کا اربوں روپے کا پراپرٹی سکینڈل بھی سامنے آ گیا۔

جس طرح جنرل فیض حمید کو پاکستانی سیاسی تاریخ کا متنازع ترین آئی ایس آئی سربراہ قرار دیا جاتا ہے اسی طرح جنرل باجوہ کو پاکستانی تاریخ کا متنازعہ ترین فوجی سربراہ سمجھا جاتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جنرل باجوہ نے فیض حمید کے ساتھ مل کر پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ہائبرڈ نظام حکومت تشکیل دیا۔ اس سے پہلے جنرل باجوہ نے خود کو جونیئر جرنیل ہونے کے باوجود آرمی چیف تعینات کرنے والے نواز شریف کو بھی عدلیہ کے ہاتھوں گھر بھجوا دیا۔ تاہم جب جنرل باجوہ کا اپنا تخلیق کردہ وزیر اعظم ان کو آنکھیں دکھانے لگا اور انکا بنایا ہوا ہائبرڈ نظام حکومت منہ کے بل زمین پر جا گرا تو انہوں عمران خان کا ساتھ چھوڑ کر ان کی بھی چھٹی کروا دی۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ جنرل باجوہ کے دور حکومت میں آئی ایس آئی کے نئے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نے فوجی ترجمان بابر افتخار کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کی جانے والی غلطیوں کا اعتراف کیا جن میں سب سے بڑی غلطی سیاست میں ملوث ہونا اور سیاسی انجینئرنگ کرنا تھی۔ یہ اسی غلطی کا نتیجہ ہے کہ آج عمران فوج کے گریبان پر ہاتھ ڈال کر اس کی عزت کا جنازہ نکال رہا ہے۔ لیکن موصوف کی فوج سے لڑائی اس بات پر نہیں کہ وہ سیاست میں مداخلت کرتی ہے بلکہ اس بات پر ہے کہ وہ سیاست چھوڑ کر غیر سیاسی کیوں ہوگئی۔

یاد رہے کہ عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کا خواب بھی جنرل باجوہ نے راحیل شریف، احمد شجاع پاشا، اور ظہیر الاسلام کے ساتھ مل کر دیکھا تھا جسکی تعبیر انہوں نے فیض حمید کے ساتھ مل کر کی۔ لیکن یہ ایک ڈراونا خواب ثابت ہوا جسکا خمیازہ پوری پاکستانی قوم نے بھگتا خصوصا ًافواج پاکستان نے۔ جنرل باجوہ نے 29 نومبر 2016 کو عہدے کو آرمی چیف کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا اور انہوں نے نومبر 2019 میں ریٹائر ہونا تھا۔ لیکن عمران خان نے اپنے محسن جنرل باجوہ کا احسان لوٹاتے ہوئے 2019 میں انکی مدت ملازمت میں توسیع کر دی۔ جنرل باجوہ دسویں آرمی چیف تھے۔  باجوہ نے 1980 میں فوج میں کمیشن لیا تھا اور وہ نواز شریف کے دور میں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی جگہ پر آرمی چیف بننے سے پہلے دسویں کور کے فیلڈ کمانڈر تھے۔  اس کور کے ذمے آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر سکیورٹی کی صورتِ حال پر نظر رکھنا ہوتی ہے۔

عمران خان نے جنرل باجوہ کے عہدے میں توسیع دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی ایک بنیادی وجہ مقبوضہ جموں اور کشمیر میں خراب ہوتی ہوئی صورتحال ہے۔ تاہم اب صورت حال یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر مودی حکومت اپنا فوجی قبضہ مکمل کر چکی ہے۔  سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سابق آرمی چیف راحیل شریف کی طرح جنرل باجوہ کو کسی اہم عہدے پر تعینات کرنے کا کوئی امکان نہیں۔ یاد رہے کہ باجوہ آرمی چیف بننے سے پہلے جی ایچ کیو میں انسپکٹرجنرل آف ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن تعینات تھے، یہ وہی عہدہ ہے جو آرمی چیف بننے سے قبل جنرل راحیل شریف کے پاس تھا۔

Back to top button