جنرل ضیاء کے جہاز کی تباہی، کوئی سازش تھی یا حادثہ؟

سترہ اگست 1988 کو ملک کا تیسرا فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق ایک طیارہ حادثے میں جہنم رسید ہو گیا لیکن 33 برس گزر جانے کے باوجود اسکے جہاز کی تباہی کی اصل وجوہات اسرار کے پردوں میں لپٹی ہوئی ہیں۔
1989 میں جنرل ضیاء الحق کی طیارہ حادثے میں موت بارے امریکی صحافی جے ایپسٹین نے وینٹی فیئر کے ایک شمارے میں تحقیقاتی رپورٹ میں لکھا تھا کہ صدر ضیا کی ’پاک ون فلائیٹ امریکی سفیر سمیت تمام سواریوں کی زندگی کی آخری پرواز ثابت ہوئی۔ بہاولپور کی بستی لال کمال کے باسیوں نے دیکھا کہ پاک ون فلائیٹ فضا میں ہچکولے کھا رہی ہے۔ کچھ ہی لمحوں میں طیارہ سیدھا زمین کی سمت آ کر ریت میں دھنس گیا جس کے بعد ایک دھماکا ہوا اور ایندھن کے جلنے کے سبب آگ کے گولے میں تبدیل ہوگیا۔ یوں پاکستان پر سب سے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والا فوجی آمر ضیاءالحق بھی جل کر بھسم ہو گیا۔
آنے والے دنوں میں کئی طرح کی افواہیں پھیلیں کہ کسی میزائل نے طیارے کو نشانہ بنایا، کسی نے کہا کہ بیچ فضا میں دھماکا ہوا، کسی نے ہلاکت خیز گیس کے اخراج تو کسی نے جہاز میں آگ بھڑکنے کا دعوی کیا۔ یہ تمام امکانات اخبارات میں بھی شائع ہوئے تاہم صدر غلام اسحٰق خان اور آرمی چیف جنرل اسلم بیگ سمیت سول اور فوجی حکام کی جانب سے اس واقعے کو تخریب کاری قرار دیا گیا۔
منظر عام پر آنے والی خفیہ امریکی دستاویزات کے مطابق جنرل اسلم بیگ نے جنرل ضیاء الحق کی موت کے حوالے سے 25 اگست 1988 کو فوجی افسران سے ایک گھنٹہ طویل خطاب کیا تھا اور روسی ترجمان کے حالیہ دھمکی آمیز بیان کی جانب بھی اشارہ کیا گیا جو کہ ضیا کے افغان جنگ میں کردار پر اس سے نالاں تھا۔تاہم بیگ نے واضح طور پر الزام لگانے سے گریز کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘غیر ملکی ایجنٹس کے علاوہ کچھ ہمارے اپنے لوگ بھی اس لرزہ خیز واردات میں ملوث تھے، اور کبھی کوئی سازش تب تک کامیاب نہیں ہوئی جب تک اس میں اندرونی طور پر لوگوں کا تعاون حاصل نہ ہو۔
طیارہ حادثے کے فوراََ بعد تحقیقات کا آغاز کردیا گیا تھا۔ 19 اگست کو امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اعلان کیا تھا کہ کریش کی وجوہات جاننے کے لیے انہوں نے اسلام آباد کی معاونت کرنے کے لیے ٹیم تشکیل دے دی ہے، جس کے بعد 6 رکنی ٹیم 22 اگست کو پاکستان پہنچی اور اسے حادثے کے مقام پر لے جایا گیا جس کو فوجی اہلکاروں نے واقع کے فوری بعد محفوظ کردیا تھا۔
23 اگست 1988 کو ڈان اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق غیر ملکی اور مقامی ماہرین کی سمجھ سے یہ بات سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کس طرح ایک ایسے طیارے میں، جسے بہاولپور آمد کے بعد اور روانگی سے قبل 14 تکنیکی ماہرین نے چیک کیا ہو، میں خرابی پیدا ہوسکتی ہے، جس کے بعد پرواز کے ٹکڑے ٹیسٹ کے لیے امریکا بھی لے جائے گئے۔
جنرل ضیاء الحق کی موت پر لکھے گئے محمد حنیف کے شہرہ آفاق ناول میں آموں کی پیٹیوں کو مرکزی کردار کے طور پر ظاہر کیا گیا جو بہاولپور میں مرحوم صدر کو بطور تحفہ دی گئیں تھیں، جنرل ضیاء الحق کو تحفہ دینے والے متعدد افراد، جن میں بہاولپور کے میئر اور ایک صوبائی وزیر بھی شامل تھے، تفتیش کے لیے 8 گھنٹے تک پولیس کی حراست میں رہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق زمینی عملے سمیت دیگر 80 افراد کو بھی تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا جبکہ ونگ کمانڈر مشہود حسن اور فلائٹ لیفٹننٹ ساجد کے لواحقین سے بھی تحقیقات کی گئیں جس کے بعد دونوں بے گناہ پائے گئے، کیپٹن مشہود کو ایک ایسا پائلٹ سمجھا جاتا تھا جس کے ساتھ سفر کرنا جنرل ضیاء الحق کافی پسند کرتے تھے۔
365 صفحات پر مشتمل اس طیارہ حادثے کی سرخ جلد والی تکنیکی رپورٹ کابینہ کے اجلاس میں 16 اکتوبر 1988 کو صدر غلام اسحاق خان کے سامنے پیش کی گئی۔ یہ ایئر کموڈور عباس ایچ مرزا کی سربراہی میں بورڈ آف انکوائری نے تیار کی تھی اور اس میں گروپ کیپٹن صباحت علی خان (سی 130 کے پائلٹ/اسپیشلسٹ) اور گروپ کیپٹن ظہیر الحسن زیدی (حادثات کے تحقیقاتی ماہر) اور امریکی تکینکی اور ہوا بازی ماہرین کی ایک ٹیم بھی شامل تھی۔ رپورٹ کے مطابق ملبے کے جائزے سے واضح ہوا کہ طیارہ ہوا میں بکھرا نہیں تھا، اسے کسی میزائل سے نشانہ نہیں بنایا گیا تھا، نہ ہی طیارے کے اندر آگ لگی تھی۔ جو اکلوتا پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا، وہ امریکی بریگیڈیئر ویسم کا تھا کیونکہ صرف انہی کا جسم اس قابل تھا کہ اس کا پوسٹ مارٹم کیا جا سکتا۔ باقی تمام لوگ جل کر بھسم ہو چکے تھے۔ امریکی بریگیڈئیر کی سانس کی نالی میں کوئی راکھ یا کاربن کے ذرات برآمد نہیں ہوئے تھے، جس کا مطلب تھا کہ وہ طیارہ گرنے سے لگنے والی آگ سے پہلے ہی ہلاک ہو چکے تھے۔ برقی نظام کی خرابی کا کوئی بھی ثبوت نہیں ملا، پروپیلر بلیڈز کی حالت سے واضح تھا کہ انجن پوری رفتار سے کام کر رہے تھے۔ تمام برقی نظام اور ایندھن کے پمپ نارمل انداز میں کام کر رہے تھے۔ مکینیکل ناکامی کا امکان بھی زیرِ غور آیا، مگر سی 130 میں ایک دوسرے سے علیحدہ کام کرنے والے دو ہائیڈرالک سسٹم تھے اور دونوں ہی کریش کے وقت کام کر رہے تھے۔
مختصراً یہ ایسی طرز کا طیارہ تھا جسے انتہائی قابلِ اعتماد گھوڑا تصور کیا جاتا ہے اور یہ ایک صاف موسم والے دن توقعات کے عین مطابق کام کر رہا تھا۔ مگر ناقابلِ توجیہہ انداز میں آسمان سے نیچے آگرا تھا۔
جہاز کے ملبے کا کیمیائی تجزیہ جب پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں کیا گیا تو اس میں طیارے کے لیے اجنبی کیمیکلز غیر معمولی مقدار میں پائے گئے۔ مثال کے طور پر اس میں پینٹائریتھیریٹول ٹیٹرا نائٹریٹ کی کچھ مقدار ملی۔ یہ ایک دھماکا خیز مواد ہے جو تب سے اب تک کئی دہشت گرد حملوں میں استعمال ہو چکا ہے، بشمول 2 ایسے حملوں کے جن کا مقصد کسی نہ کسی طیارے کو گرانا تھا۔ اینٹیمونی اور فاسفورس ایسے کیمیکلز ہیں جو عام طور پر طیاروں کے ڈھانچے یا ایندھن میں موجود نہیں ہوتے، مگر کیمیائی تجزیے میں ان کی موجودگی بھی سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق پائے گئے عناصر کو زہریلی گیسوں سے بھری پریشرائزڈ بوتلیں پھاڑنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا جن کے پھٹنے سے پائلٹس اور طیارے میں موجود دیگر افراد جزوی یا مکمل طور پر بے جان ہو سکتے تھے۔ گیسوں کو فوری طور پر انتہائی شدید انداز میں اثر انداز ہونا ہوگا تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ طیارے میں موجود کسی بھی شخص کو آکسیجن ماسک پہننے کا موقع نہ ملے’۔
تحقیقاتی رپورٹ اس نتیجے پر پہنچی کہ ‘تکنیکی وجہ کی عدم موجودگی میں اس حادثے کی دوسری واحد ممکنہ وجہ مجرمانہ کارروائی یا سبوتاژ کی کارروائی ہو سکتی ہے’۔ رپورٹ نے ذمہ داران کو بے نقاب کرنے کے لیے تحقیقات کی سفارش بھی کی تھی۔ تاہم اس معاملے کی مزید تحقیقات نہ ہو پائیں کیونکہ اس وقت جنرل مرزا اسلم بیگ آرمی چیف بن چکی ہے اور ان پر بھی یہ پوزیشن حاصل کرنے کے لیے طیارہ حادثے کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام لگایا جا رہا تھا۔
