جنسی طاقت کےحصول کے لیے سانڈھے کا قتل عام جاری ہے

جنسی کمزوری کا علاج کرنے کے لئے یے پاکستان کے کئی شہروں میں سانڈھے کی چربی کا تیل استعمال کیا جاتا ہے تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی ایسی خاص چیز نہیں جو مردانہ کمزوری کو دور کرسکے۔ یہ سب محض پیسے کمانے کا ڈھونگ ہے۔
سانڈھا پاکستان کے گرم صحرائی علاقوں میں ریت پر رینگنے والا بے ضرر سا جانور ہے۔ تقریباً ایک فٹ لمبا سانڈھا سبزی خور جانور ہے، یہ پرندوں اور درندوں سے خود کو بچانے میں گزار دیتا ہے لیکن لاکھ کوشش کے باوجود انسان سے نہیں بچ پاتا۔ اسے سانڈھے کی بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ دوسرے جانوروں کی طرح اس میں بھی چربی پائی جاتی ہے جس پر انسان کی خاص نظر ہے۔ اس لیے یہ آپ کو لاہور کے گلی کوچوں اور چوراہوں میں سڑک کنارے یا پھر ٹھیلوں اور دکانوں میں بیٹھا ملے گا مگر سانڈھا وہاں خود سے نہیں آتا، صحراؤں سے پکڑ کر لایا جاتا ہے۔ یہاں یہ چل پھر نہیں سکتا کیونکہ اس کی کمر کی ہڈی توڑ دی جاتی ہے۔ اس کے بعد اس کی زندگی کے دن گنے چنے ہوتے ہیں۔
فٹ پاتھوں پر مجمع لگائے یا پھر بڑی بڑی دکانوں پر ’سانڈھے کے خالص تیل‘ کی شیشیاں سجائے سانڈھے کے ان شکاریوں کو گاہک ملنے کی دیر ہے، وہ چاقو کی مدد سے اس کا نرم پیٹ چاک کرتے ہیں اور اندر موجود چربی نکال لیتے ہیں۔ یہ سب کچھ گاہک کی آنکھوں کے سامنے کیا جاتا ہے تا کہ اس کی تسلی ہو کہ وہ اصلی سانڈھے کا تیل لے کر جا رہا ہے۔ سانڈھے کے عام تیل کی شیشی 150 سے 500 روپے کے درمیان بکتی ہے۔ لاہور میں موہنی روڈ، بلال گنج، بھاٹی دروازہ، مچھلی منڈی اور پیر مکّی بازار جیسے علاقوں میں سانڈھے کے تیل کا کاروبار کھلے عام ہوتا ہے۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے کئی علاقوں کے علاوہ سانڈھوں کو دنیا کے دیگر کئی علاقوں میں بھی ان ہی غلط مفروضوں کی بنا پر مارا جا رہا ہے جبکہ پاکستان سے اس کا تیل عرب ممالک اور دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی بھیجا جاتا ہے۔
کئی جگہ پر اس کے جنسی اعضا بھی کھائے جاتے ہیں اور اس کا گوشت بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سب کے پیچھے یہی سوچ کارفرما ہے کہ سانڈھا جنسی کمزوری کا علاج ہے۔ اس کاروبار میں ملوث افراد زیادہ تر خود بھی ان پڑھ ہوتے ہیں اور کم پڑھے لوگوں کو بیوقوف بنا کر پیسے کماتے ہیں۔ صدیوں سے سانڈھے کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ چھوٹا سا جانور ہے جس میں بے پناہ طاقت پائی جاتی ہے اور یہ صحرا کے انتہائی گرم حالات میں بھی زندہ رہ لیتا ہے۔ یہی اس مفروضے کی بنیاد بنا کہ اس کی چربی میں بے مثال طاقت ہو گی۔ بس جو بات صدیوں سے چل پڑی ہے اس کو یہ لوگ چلائے جا رہے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق اس پر بہت تحقیق ہو چکی ہے جس نے یہ ثابت کیا ہے کہ سانڈھے کی چربی میں ایسی کوئی خصوصیات نہیں ہیں۔
تاہم دوسری طرف سانڈھے کے تیل کو پسند کرنے والے سمجھتے ہیں کہ سانڈھے کے تیل میں ایفروڈیسیاک خصوصیات ہیں یعنی یہ مرادنہ جنسی طاقت میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کاروبار سے وابستہ افراد دعوٰی کرتے ہیں کہ یہ تیل جسم کے درد، فالج اور پٹھوں کی کمزوری کے علاوہ مردانہ کمزوری کے علاج کے لیے مفید ہے۔ ان کے مطابق یہ معلومات ان کے باپ دادا سے ان تک منتقل ہوئی ہیں۔ ان کا خاندان یہی کاروبار کرتا رہا ہے۔ سانڈھے کے تیل میں شیر، ریچھ، سانپ، مینڈک اور دگر جانوروں کی چربیاں ملا کر ایک خاص قسم کا طلا بھی تیار کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان سے سانڈھے کے تیل کی تاثیر بڑھ جاتی ہے۔ طلا کی قیمت تین سے چار ہزار روپے کے درمیان ہوتی ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق اگر سانڈھے میں نکلنے والی چربی کا کیمیائی تجزیہ کریں تو یہ کسی بھی جاندار میں پائی جانے والی دوسری چربی کی طرح ہے اور اس میں کوئی خاص بات نہیں ہے۔ سانڈھے کے تیل کے مبینہ فوائد کے حوالے سے کی جانے والی تمام باتیں محض داستانیں اور وہمی باتیں ہیں۔ سانڈھے کو بلا وجہ مار دیا جاتا ہے اور لے دے کر یہ سب پیسے کا کھیل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button