جنوری میں نواز شریف کی وطن واپسی کے لیے تیاریاں تیز

نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف کی لندن سے واپسی کی تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ وہ جنوری میں وطن واپس لوٹ آئیں گے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے یہ تجویز دی گئی تھی کہ میاں صاحب 25 دسمبر کو اپنی سالگرہ کے روز وطن واپس لوٹیں لیکن اسے رد کر دیا گیا۔ مریم نواز اپنے والد کو پاکستان واپس لانے کے لیے پچھلے دو ماہ سے لندن میں مقیم ہیں اور اس دوران وزیراعظم شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔

ہی ڈی ایم حکمران اتحاد کی بڑی جماعت مسلم لیگ ن نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد سیاسی صورتحال بہتر ہوتے دیکھ کر پنجاب کے مختلف شہروں میں پارٹی ورکرز کے کنونشنز منعقد کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔ بظاہر تو یہ ایک عام سی سرگرمی ہے لیکن اس کے پیچھے بہت کچھ اور بھی ہو رہا ہے، پارٹی کے اندر جھانکا جائے تو ہر کوئی کسی نہ کسی تیاری میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔

ایک طرف سوشل میڈیا کی ٹیموں کو نئے سرے سے ترتیب دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف پارٹی ورکرز سے رابطہ مہم اور وفاقی حکومت میں بھی وزرا کو نئے ٹاسک دیے جا رہے ہیں اور نئے ٹارگٹ سیٹ ہو رہے ہیں۔مسلم لیگ ن کی سوشل میڈیا ٹیم کے ایک کارکن نے بتایا کہ ’ویسے تو سوشل میڈیا ٹیم میں آئے روز کچھ نہ کچھ تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں لیکن اب کچھ بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ جس سے نہ صرف ہمیں اپنی کمزوریاں سمجھنے میں مدد ملی ہے بلکہ اب سوشل میڈیا پر ن لیگ سے متعلق مواد منظم طریقے سے آرہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان دنوں ہمیں ٹاسک دیا گیا ہے کہ نواز شریف کی واپسی کے لیے حکمت عملی ترتیب دی جائے۔ ہم یہ تو نہیں بتا سکتے کہ ہم کن ایریاز میں کام کر رہے ہیں لیکن آپ کو نواز شریف کی واپسی پر اور اس کے بعد ن لیگ کا سوشل میڈیا ایک نئے روپ میں ابھرتا ہوا نظر آئے گا۔ انھوں نے بتایا کہ اب نواز لیگ نے دفاعی پوزیشن سے ہٹتے ہوئے سوشک میڈیا پر بھی جارحانہ رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا یے تاکہ تحریک انصاف کو منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن نے سیالکوٹ، راولپنڈی اور لاہور میں مرکزی کنونشنز منعقد کرنے شروع کر دیئے ہیں، پنجاب میں مسلم لیگ ن کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے نواز شریف کی وطن واپسی کی تیاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت پارٹی کی ساری توجہ اپنے قائد کے استقبال کی تیاریوں پر ہے۔ اس میں ہرسطح پر معاملات کو دیکھا جا رہا ہے۔ پارٹی نظم و نسق میں جہاں جہاں تبدیلی کی ضرورت ہے وہاں وہاں بدلاؤ لایا جا رہا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ نواز شریف کب واپس آرہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ حتمی فیصلہ تو قائد خود اور ان کے ڈاکٹر کریں گے لیکن ہم اپنی تیاری مکمل کر رہے ہیں چاہے وہ دسمبر کے آخر میں آئیں یا پھر جنوری میں اس حوالے سے پارٹی کے اندر کوئی اضطراب نہیں ہے۔

نواز لیگ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت نواز شریف کی واپسی کے لیے قانونی قدغنوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جب نواز شریف 2019 میں بیماری کے سبب لندن روانہ ہوئے تھے تو تب وہ عزیزیہ ملز کیس میں کوٹ لکھپت جیل میں سزا کاٹنے کے ساتھ ساتھ رمضان شوگر ملز کیس میں نیب کی حراست میں تھے۔ لاہور ہائی کورٹ نے ان دونوں مقدمات میں بیماری کے سبب ان کی مشروط ضمانت منظور کی تھی۔ دوسری جانب نواز شریف جس کیس میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے ساتھ شریک ملزم تھے اس میں دونوں میاں بیوی کو بری کردیا گیا ہے جس کے بعد یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ وطن واپسی پر اس کیس میں نواز شریف کی بریت بھی یقینی ہے۔

Back to top button