ہائیبرڈ نظام کے خالق باجوہ نے جوتے اور پیاز کیوں کھائے

چھ برس تک پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک رہنے والے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سیاست میں ملوث ہو کر اپنا منہ کالا کروانے اور فوج کی ساکھ کا جنازہ نکالنے کے بعد ریٹائر کیا ہوئے ان پر ہر جانب سے لعن طعن کی بارش ہو گئی جس میں بیگانوں کے علاوہ اب ان کے اپنے بھی شامل ہو گئے ہیں۔ لہذا فوجی قیادت کے لیے یہ مشورہ بے جا نہ ہوگا کہ جنرل باجوہ کے انجام سے اسے بھی سبق سیکھنا چاہیے۔

جنرل باجوہ کو پاکستانی سیاسی تاریخ کا متنازع ترین آرمی چیف کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ ان کے دور میں فوج نے بطور ادارہ جتنا سیاسی گند ڈالا اس کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی۔ جنرل باجوہ نے اپنے سیاسی گند کا آغاز خود کو آرمی چیف بنانے والے وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف سازش سے کیا۔ موصوف نے سپریم کورٹ کے ذریعے نواز شریف کو نااہل کروانے کے بعد 2018 کے جنرل الیکشن میں بدترین دھاندلی کروائی تاکہ پروجیکٹ عمران کے مطابق انہیں وزیراعظم بنوایا جا سکے۔ یوں جنرل باجوہ نے پہلی مرتبہ ایک ہائبرڈ نظام حکومت تشکیل دیا جس میں وزیراعظم تو عمران تھے لیکن بیک سیٹ ڈرائیونگ وہ خود کر رہے تھے۔ تاہم حسب توقع یہ ہائیبرڈ نظام حکومت منہ کے بل جا گرا اور عمران خان کے ساتھ ساتھ جنرل باجوہ کو بھی ڈبو دیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ جنرل باجوہ نہ صرف پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے وکن ہیں بلکہ اس تحریک انصاف کے سب سے بڑے ولن ہیں جسے اقتدار میں لانے کے لیے انہوں نے اپنا منہ کالا کیا تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں طاقت کو ہضم کرنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ ویسے تو یہ مسئلہ عالمگیر نوعیت کا ہے مگر ریاست اور جمہوریت نے انسان کی طاقت کو غلط استعمال کرنے کی جبلت کو کافی حد تک لگام دے رکھی ہے۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ پاکستان میں ریاست اور جمہوریت دونوں مل کر بھی طاقت کے استعمال کو ایک آئینی اور قانونی سانچے میں نہیں ڈھال سکے۔ پاکستان میں طاقت کا سرچشمہ ہمیشہ سے پاک فوج رہی ہے۔ پاکستانی آرمی چیف دنیا کے بااثر اور طاقتور ترین افراد کی فہرست میں شامل ہوتا ہے۔ اس عہدے پر جو بھی آتا ہے۔

اس کے لیے بڑا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ اس طاقت کو آئین اور قانون کی رُو سے استعمال کرنے کی کوشش کرے۔ اسی لیے جب بھی کوئی آرمی چیف آتا ہے تو اس طاقت کے ذریعے سے انقلاب برپا کرنے کی کوشش کرتا ہے یا پھر ملک و قوم کی بہتری کے لیے اتنا بے چین ہو جاتا ہے کہ اس کو اس طاقت کے ذریعے ضرور کچھ کرنا چاہئیے، نہیں تو تاریخ اس کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ مگر جب وہ ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے ملک اور قوم پر اتنے برے اثرات پڑتے ہیں کہ تاریخ اور قوم دونوں اس کو کبھی معاف نہیں کر پاتے۔

جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو 2016 میں وزیر اعظم نواز شریف نے آرمی چیف بنایا۔ باجوہ نے بھی اپنے عہدے اور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے سیاست کرنے کی ٹھان لی۔ ایک جمہوری اور منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی واردات باجوہ صاحب کی ناک کے نیچے ہوئی۔ جنرل صاحب بھی عوامی جذبات کے بہاؤ میں بہہ گئے، کیونکہ اس وقت عوام کا ایک بہت بڑا طبقہ یہ چاہتا تھا کہ عمران خقن کو ایک موقع ضرور ملنا چاہئیے۔ نواز شریف کا ویسے بھی فوج اور فوج کے سربراہوں کے ساتھ چلنے کا ٹریک ریکارڈ خاصا متنازعہ رہا ہے۔ مگر پاکستان کی سیاست میں ایک اور مسلمہ حقیقت ہے کہ جب بھی کوئی وزیر اعظم اپنے جمہوری اختیارات کو استعمال کرکے ‘واقعی وزیر اعظم’ بننے کی کوشش کرتا ہے تو آرمی چیف کو طاقت کے توازن کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔ جنرل صاحب بھی بُغضِ نواز شریف اور حُبِّ عمران خان کے پیش نذر یہ ماننے لگے کہ ‘عمران کو ایک موقع ملنا چاہئیے’۔

اب تو یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ کس طرح 2018 کے الیکشن میں عمران خان اور ان کی پارٹی تحریک انصاف کو اسٹیبلشمنٹ اور پاک فوج کے اداروں کی طرف سے خاص لطف و کرم حاصل تھے۔ آر ٹی ایس کے بیٹھ جانے اورسیاسی وفاداریاں خریدنے کے لیے جہانگیر ترین کے جہاز کی اڑان تک سب طاقتور حلقوں کی ایما پر ہو رہا تھا۔ جیسے تیسے عمران خان کی حکومت بنا دی گئی۔ جیسے جیسے حکومت کے دن گزرتے جا رہے تھے ویسے ویسے اس حکومت کو لانے والوں کے گرد گھیرا تنگ ہوتا جا رہا تھا۔ کیونکہ اس حکومت اور اس کی لیڈرشپ کے بارے میں جن معجزات کی امید عوام اور مقتدر حلقوں نے لگائی تھی۔

 وہ سب ایک سراب کی مانند ثابت ہوئے۔ اس حکومت کا توقعات پر پورا نہ اترنا دراصل حکومت سے زیادہ ان کو لانے والوں کی پریشانی میں اضافہ کر رہا تھا۔ عوام کے اندر عام تاثر یہی پایا جا رہا تھا کہ سارا قصور فوج اور اس کے اداروں کا ہے جنہوں نے اس حکومت کو ان کے اوپر مسلط کیا ہے۔ مخالف سیاسی جماعتوں کو بھی موقع ملا کہ وہ کھل کر اسٹیبلشمنٹ کی اس ‘اجتہادی غلطی’ پر تنقید کریں۔ عمران کی حکومت کو واضح اور واشگاف الفاظ میں ‘سیلیکٹڈ’ کہا گیا اور اس پروجیکٹ میں شامل جنرل شجاع پاشا، جنرل ظہیر الاسلام اور جنرل فیض حمید کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا۔ نواز شریف نے اکتوبر 2020 میں گوجرانوالہ میں ایک جلسے سے ویڈیو لنک کے ذریعے سے خطاب کرتے ہوئے جنرل باجوہ کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے بھی وہی باتیں کیں جو اس وقت عوام کے اند ہو رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو نہیں بلکہ باجوہ صاحب آپ کو جواب دینا ہوگا۔

عوام اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے تنقید اور تذلیل کا نشانہ بننے کے بعد جنرل باجوہ نے اپنے 2018 میں کیے گئے بلنڈر کو درست کرنے کے بارے میں ذہن بنانا شروع کر دیا۔ مگر ابھی حالات اس نہج پر نہیں آئے تھے کہ پھر سے اتنا بڑا قدم اٹھایا جاتا۔ کیونکہ ابھی تک حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر تھے اور وزیر اعظم عمران خان کے مطابق جنرل باجوہ انتہائی سنجیدہ جمہوری مزاج کی حامل شخصیت تھے۔ مگر حالات اس وقت سنگین صورت حال اختیار کر گئے جب آرمی کی قیادت نے اس وقت کے ڈی جی آئی آیس آئی جنرل فیض حمید کو ان کے عہدے سے ہٹا کر کورکمانڈر پشاور تعینات کر دیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے فیض حمید کے ٹرانسفر کو روکنے اور ‘واقعی وزیر اعظم’ بننے کی کوشش کی جو حسب معمول جنرل باجوہ کو مناسب نہ لگی۔

خود عمران بھی اس بات کو مانتے ہیں کہ یہ ان کی غلطی تھی جس کی وجہ سے انکے اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات خراب ہونے شروع ہوئے۔ عمران اور ان کی حکومت کے خلاف مارچ 2022 میں تحریک عدم اعتماد آئی تو عمران 2018 والا استحقاق کھو چکے تھے۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور جنرل باجوہ نے ‘نیوٹرل’ رہنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ پاکستان کی اپوزیشن تو پہلے سے ایسے ہی کسی وقت اور موقعے کے انتظار میں تھی۔ عمران خان کی حکومت تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں چلی گئی۔ جنرل باجوہ اپنے ہی پروجیکٹ کو بظاہر ان ڈو Un-do کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

عمران خان کی حکومت جانے کے بعد جنرل قمر باجوہ کی ساکھ، عزت اور شخصیت کے ساتھ جو ہوا وہ جہاں افسوس ناک ہے وہیں سبق آموز بھی ہے۔ کون سا ایسا الزام نہیں ہے جو جنرل باجوہ اور آرمی کی باقی لیڈرشپ پر نہیں لگایا گیا۔ اس کے بعد ان کی توہین اور تذلیل کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جو ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی تھمتا نظر نہیں آ رہا۔

سوال یہ ہے کہ جنرل باجوہ کو آخر کس بات کی سزا ملی؟ جنرل صاحب نے اپنی کرسی کی طاقت کے ذریعے سے اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کی اور ایک منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹا۔ اس انقلاب سے مطلوبہ نتائج نہ ملنے کے بعد انہوں نے ایک اور ‘انقلاب’ کے ذریعے اپنی ماضی کی غلطی کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی۔ لیکن جنرل باجوہ اس دوران مسلسل ڈبل گیم بھی کھیلتے رہے تاکہ ایک اور توسیع بھی حاصل کر سکیں۔ اپنے سیاسی کردار کی وجہ سے آج جنرل باجوہ کو پاکستانی سیاسی تاریخ کا داغی آرمی چیف قرار دیا جا رہا ہے جس نے اپنا منہ تو کالا کیا ہی لیکن پاک فوج کے ادارے کو بھی عوام کی نظروں داغدار کر دیا۔ لہذا جنرل قمر باجوہ کی مثال سے نئی فوجی قیادت کو عبرت پکڑنے کی ضرورت ہے۔

Back to top button