جنگی ہیرو ایم ایم عالم کو ضیاء نے PAF سے جبری ریٹائر کیوں کیا؟

https://youtu.be/EpH35C0Vbog
ایم ایم عالم کہلوانے والے محمد محمود عالم پاکستان کے وہ نامور جنگی ہواباز تھے جنہوں نے ستمبر 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران صرف 45 سیکنڈزمیں دشمن کے 5 طیارے مار گرانے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا جو ابھی تک نہیں ٹوٹ سکا۔ تاہم دو فوجی ڈکٹیٹرز جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف نے اس قومی ہیرو کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا اس کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے ہیں اور تاریخ کی کتابوں میں تو یہ حقیقت کہیں بھی پڑھنے کو نہیں ملے گی کہ جنرل ضیاء الحق نے اس قومی ہیرو کو ایئر فورس سے صرف اس لیے جبری ریٹائر کر دیا تھا کہ ایم ایم عالم فوج کی سیاست میں مداخلت کے مخالف تھے۔
ایم ایم عالم کے خاندان نے پٹنہ سے کلکتہ ہجرت کی تھی جہاں اس بہاری کم بنگالی خاندان کے ہاں 6 جولائی 1935ء کو محمود نامی بچے کی پیدائش ہوئی جو بعد ازاں ایم ایم عالم کے نام سے مشہور ہوا۔ ایم ایم عالم خاندان کے سب سے بڑے بچے تھے۔ والد کثیر الاولاد تھے چنانچہ ان کے 11 بہن بھائی تھے، پاکستان بنا تو یہ لوگ کلکتہ سے ڈھاکا شفٹ ہو گئے، یوں ملک تو اپنا تھا لیکن یہ اپنے ملک میں بنگالی بن گئے، ایم ایم عالم ڈھاکا کے گورنمنٹ ہائی اسکول میں داخل ہوئے، 1952ء میں پاکستان ائیر فورس جوائن کی، 1953ء میں کمیشن مل گیا، والد فوج کی نوکری کے خلاف تھے، کیوں خلاف تھے؟ وجہ خاندان کا پس منظر تھا، خاندان میں کسی شخص نے کبھی فوجی ملازمت نہیں کی تھی، والد کی خواہش تھی یہ پڑھیں لکھیں، سی ایس ایس کریں اور اعلیٰ سرکاری عہدہ حاصل کریں۔وہ فوجی سروس میں جان لینے اور جان دینے کے خلاف تھے لیکن یہ ڈٹ گئے اور یوں ان کا ائیر فورس کا کیریئر شروع ہو گیا۔
ایم ایم عالم کی شادی کی عمر ہوئی تو شادی سے انکار کر دیا، ان کا کہنا تھا، میرے کندھوں پر خاندان کے گیارہ لوگوں کی ذمے داری ہے، میں جب تک یہ ذمے داری پوری نہ کر لوں میں شادی نہیں کروں گا، 1965ء کی پاک بھارت جنگ شروع ہوئی، بھارت نے 6 ستمبر کو لاہور پر حملہ کر دیا، پاک فضائیہ کو 7 ستمبر کو بھارت پر حملے کا حکم ہوا، وہ اس وقت اسکواڈرن لیڈر تھے اور پی اے ایف سرگودھا میں تعینات تھے، وہ بھی حملے کے لیے روانہ ہوئے، بھارتی سرحد پر پہنچے تو ان کی مڈ بھیڑ بھارت کے پانچ ہنٹر طیاروں سے ہو گئی۔ بھارتی طیارے ان کے ایف 86 سیبر پر پل پڑے، اس حملے نے انھیں جرأت، بہادری، دانش مندی اور مہارت کا آسمان چھونے کا موقع دے دیا، انھوں نے دس سیکنڈ میں بھارت کا پہلا طیارہ گرایا اور پھر صرف تیس سیکنڈ میں بھارت کے باقی چار طیارے بھی مار گرائے، یہ پورا آپریشن صرف 45 سیکنڈ پر محیط تھا، اسکواڈرن لیڈر محمد محمود عالم نے 45 سیکنڈ میں بھارت کے پانچ طیارے گرائے اور اطمینان سے سرگودھا ائیر بیس پر اتر گئے۔ یہ ورلڈ ریکارڈ تھا جو آج بھی ورلڈ ریکارڈ ہے، بنگال کا بیٹا پاکستان کا ہیرو بن چکا تھا، بنگال کا وہ بیٹا آج بھی پاکستان اور پاکستانیوں کا ہیرو ہے لیکن پھر اس ہیرو کے ساتھ کیا ہوا، یہ کہانی ہمارے اجتماعی ضمیر اور ہماری قومی نفسیات کا مکمل اور جامع ڈاکومنٹ ہے۔
ایم ایم عالم نڈر تھے، بے باک تھے، جرأت مند اور کھرے تھے لہٰذا ان کی اڑان روکنا بھی مشکل تھا اور زبان بھی ۔ وہ بڑی سے بڑی بات منہ پر دے مارتے تھے، یہ جرأت مندی آہستہ آہستہ اس قومی ہیرو کو نگل گئی، وہ مشرقی پاکستان کے حالات سے دل برداشتہ تھے، وہ ببانگ دہل کہتے تھے کہ بنگالیوں کے ساتھ بہتر سلوک نہیں ہو رہا لیکن ان کے خیالات کو لسانیت قرار دے کر مسترد کر دیا جاتا تھا، وہ 1969ء میں اسٹاف کالج میں تھے لیکن ان کے ’’باغیانہ‘‘ خیالات کی وجہ سے انھیں اسٹاف کالج سے فارغ کر دیا گیا، 1971ء میں پاکستان ٹوٹا تو ایم ایم عالم کا خاندان ڈھاکا میں تھا، ان کے ساتھیوں کا خیال تھا ، ایم ایم عالم ائیر فورس چھوڑ کر بنگلہ دیش چلے جائیں گے لیکن وہ ایک سچے پاکستانی تھے۔انھوں نے نہ صرف پاکستان چھوڑنے سے انکار کر دیا بلکہ وہ اپنے خاندان کو بھی بنگلہ دیش سے پاکستان لے آئے۔ یوں خاندان نے سو سال میں تین ہجرتوں کے دکھ سہے، پہلی ہجرت پٹنہ سے کلکتہ تھی، دوسری ہجرت کلکتہ سے ڈھاکا تھی اور تیسری ہجرت دوسری ہجرت سے محض 26 برس بعد ایک پاکستان سے دوسرے پاکستان کی طرف تھی۔
چونکہ تب تک راشد منہاس شہید اور انکے بنگالی انسٹرکٹر والا واقعہ ہو چکا تھا چنانچہ ملک سے اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے ایم ایم عالم نے رضاکارانہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ وہ جنگ کے دوران کوئی جہاز نہیں اڑائیں گے کیونکہ وہ بھی بنیادی طور پر بنگالی تھے۔ اس دوران پاکستان 1971 کی جنگ ہار گیا اور دو ٹکڑے ہو گیا۔ مشرقی پاکستان کے سانحے نے ایم ایم عالم کے ذہن پر دو اثرات مرتب کیے، پہلا اثر ان کی زبان پر ہوا، ان کی زبان کی کڑواہٹ میں اضافہ ہو گیا، وہ پاکستان کے نام پر لڑنے مرنے کے لیے تیار ہو جاتے تھے۔ دوسرا اثر ان کے ذہن پر ہوا، وہ مذہبی ہو گئے اور وہ اپنا زیادہ وقت دینی کتابوں اور عبادت کو دینے لگے، جنرل ضیاء الحق نے 1977ء میں مارشل لاء لگا دیا اور بھٹو کو پھانسی دے دی۔ ایم ایم عالم ضیا اور اسکے مارشل لاء کے خلاف تھے، وہ بار بار کہتے تھے، ہماری انہی غلطیوں کی وجہ سے مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو گیا، ہم نے اگر یہ غلطیاں جاری رکھیں تو ہم باقی ماندہ پاکستان بھی کھو دیں گے، وہ جنرل ضیاء کو ضیاء کانا اور دیگر ایسے القابات سے نوازتے تھے جو تحریر میں نہیں لائے جا سکتے، خفیہ ادارے ان کی گفتگو ریکارڈ کرتے تھے۔
1982ء میں ائیر مارشل انور شمیم پاکستان ائیر فورس کے چیف تھے اور جنرل ضیاء کے دوست بھی تھے۔ دونوں اردن میں اکٹھے رہے تھے۔ مشہور تھا کہ ائیر مارشل انور شمیم اپنی بیگم کے زیر اثر تھے، جب انکی بیگم پر کرپشن کے الزامات لگنے شروع ہوئے تو ایم ایم عالم نے ائیر فورس کے میس میں ان الزامات کا ببانگ دہل ذکر کرنا شروع کر دیا۔ وہ بار بار کہتے تھے، جنرل ضیاء الحق اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ملک کو تباہ کر رہے ہیں، خفیہ اداروں نے یہ گفتگو ٹیپ کر کے چیف آف ائیر اسٹاف کو پہنچا دی، انور شمیم یہ ٹیپ لے کر جنرل ضیاء کے پاس چلے گئے۔ ضیاء نے ٹیپ سنی اور ایم ایم عالم کو ائیر فورس سے فارغ کرنے کا حکم دے دیا اور یوں پاکستان کے ہیرو اور ائیر فورس کے ہسٹری کے ورلڈ ریکارڈ ہولڈر ایم ایم عالم کو 1982ء میں قبل از وقت ریٹائر کر دیاگیا، وہ اس وقت ائیر کموڈور تھے، ایم ایم عالم کی پنشن سمیت تمام مراعات روک لی گئیں، وہ درویش صفت انسان تھے، ان کا کوئی گھر نہیں تھا، شادی انھوں نے کی نہیں تھی لہٰذا وہ ریٹائرمنٹ کے بعد چک لالہ ائیر بیس کے میس میں مقیم ہو کر ایک کمرے تک محدود ہو گئے، بس اب انکی زندگی میں کتابیں تھیں، عبادت تھی اور ان کی تلخ باتیں تھیں۔
سرکار کوشش کر کے نوجوان افسروں کو ان سے دور رکھتی تھی لیکن اس کے باوجود بھی اگر کوئی جوان افسر ان تک پہنچ جاتا تھا تو اس کے کوائف جمع کر لیے جاتے تھے اور بعد ازاں اس پر خصوصی نظر رکھی جاتی تھی چنانچہ نوجوان افسر بھی ان سے پرہیز کرنے لگے، جنرل ضیاء کی ایک طیارہ حادثے میں عبرتناک موت کے بعد ائیر فورس نے ایم ایم عالم کو پنشن اور دیگر مراعات دینے کی کوشش کی لیکن انھوں نے صاف انکار کر دیا، وہ خوددار انسان تھے، وہ دس دس دن فاقہ کاٹ لیتے تھے لیکن کسی سے شکایت نہیں کرتے تھے، لیکن پھر مدت بعد ایک ایسا شخص ائیر چیف بن گیا جس نے ان کی کمان میں کام کیا تھا۔ اس نے ان کے تمام دوستوں کو درمیان میں ڈالا، دو درجن لوگوں نے ان کی منت کی اور یوں وہ ریٹائرمنٹ کی طویل مدت بعد صرف پنشن لینے پر رضا مند ہوئے۔
لیکن جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا اور آئین توڑ ڈالا تو ایم ایم عالم نے ان پر بھی تنقید شروع کر دی، وہ فوج کے سیاسی کردار اور کرپشن کو ملک کی تباہی کا اصل ذمے دار قرار دیتے تھے، وہ کہتے تھے، جنرل مشرف اور ان کے ساتھی کرپٹ بھی ہیں اور یہ ہوس اقتدار کے شکار بھی ہیں، یہ لوگ ملک کو تباہ کر دیں گے، خفیہ ادارے پھر ایکٹو ہوئے، ایک بار پھر ان کی گفتگو ٹیپ ہوئی اور پرویز مشرف کو پیش کر دی گئی۔ مشرف نے ائیر چیف کو طلب کیا، ٹیپ سنائی اور ان سے کہا، چک لالہ حساس علاقہ ہے، یہ شخص ہماری ناک کے نیچے بیٹھ کر ہمارے خلاف گفتگو کر رہا ہے، اس سے بغاوت پھیلنے کا خدشہ ہے، آپ اسے راولپنڈی سے کہیں دور بھجوا دیں، چیف کا حکم تھا چنانچہ ایم ایم عالم کا سامان باندھا گیا اور انھیں راولپنڈی سے کراچی پہنچا دیا گیا، ان کا اگلا ٹھکانہ فیصل بیس تھا، یہ انتقال تک فیصل بیس میں رہے۔
دسمبر 2012ء میں ان کی طبیعت خراب ہوئی، انھیں نیوی کے اسپتال شفاء میں منتقل کیا گیا، یہ وہاں 18 مارچ 2013ء تک داخل رہے، 18 مارچ کو جب انھوں نے آخری سانس لی تو ان کی شجاعت اور بہادی کے نغمے گانے والوں میں سے کوئی شخص ان کے سرہانے موجود نہیں تھا، وہ پاکستانی تھے، وہ پوری زندگی پاکستان کے لیے لڑتے رہے اور یہ لڑائی لڑتے لڑتے خاموشی سے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ آپ ایم ایم عالم کے کردار کی عظمت ملاحظہ کیجیے،اس مجاہد نے پوری زندگی پاکستان کے لیے وقف کر دی، ملک کے لیے دو ہجرتوں کا دکھ سہا، وہ 1971ء میں بنگلہ دیش چلے جاتے تو وہ یقینا بنگلہ ائیر فورس کے چیف ہوتے لیکن انھوں نے پاکستان چھوڑنا گوارہ نہ کیا، وہ پوری زندگی ان لوگوں کے دیے دکھ سہتے رہے جنھوں نے پاکستان کو تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا، کیا یہ حقیقت نہیں، جنرل ضیاء الحق نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے پاکستان کو افغان وار میں جھونک دیا تھا اور اس کے نتیجے میں ملک نے ناقابل تلافی نقصان اٹھایا اور کیا یہ بھی حقیقت نہیں جنرل پرویز مشرف نے امریکا اور یورپ سے اپنی یونیفارم تسلیم کرانے کے لیے ملک کو دہشت گردی کی اس جنگ میں دھکیلا جس کے نتیجے میں 60 ہزار پاکستانی شہید ہو چکے ہیں۔
ملک 80ارب ڈالر کا نقصان اٹھا چکا ہے اور پاکستان کا شمار دنیا کے خطرناک ترین ملکوں میں ہو رہا ہے،کیا یہ حقیقت نہیں، ہم نے جنرل مشرف کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے فوجیوں کی اتنی لاشیں اٹھائیں جتنی ہم نے جنگوں میں نہیں اٹھائیں اور کیا یہ بھی حقیقت نہیں جرنیلوں کی ہوس اقتدار نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا؟ اگر یہ ساری باتیں درست ہیں تو پھر ایم ایم عالم نے پوری زندگی کیا غلط کہا اور کیا جس کی انھیں ضیا اور مشرف سزا دیتے رہے؟ ہمیں کم از کم یہ تو ماننا ہوگا کہ ہم ایک ایسی قوم ہیں جو اپنے ہیروز کے منہ سے بھی اصل سچ سننے کے لیے تیار نہیں، ہمارے ملک میں دو طرح کے سچ بولے جاتے ہیں۔ اصل سچ اور سرکاری سچ اور جناح کے پاکستان کی بد قسمتی یہ یے کہ یہاں ہمیشہ اصل سچ ہارتا اور سرکاری سچ جیتتا ہے۔
