لاہور: موٹروے کے قریب خاتون کے ساتھ زیادتی

لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر 2 ڈاکوؤں نے مبینہ طور پر ایک خاتون کو اس وقت ریپ کا نشانہ بنادیا جب وہ موٹروے پر اپنی گاڑی میں کچھ خرابی کے بعد مدد کا انتظار کر رہی تھیں۔
لاہور موٹروے پر خاتون کو دوران زیادتی اور اس سے قبل تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا۔پولیس کے مطابق خاتون کی ٹانگوں اوربازوؤں پرڈنڈے مارے جانے کے نشانات ملے ہیں۔
پولیس نے ایک خاتون کو موٹروے کے قریب مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنائے جانے اور ان سے لوٹ مار پر مقدمہ درج کر کے واقعے کی چھان بین شروع کر دی ہے۔ لاہور کے تھانہ گجرپورہ میں درج کروائی گئی ایف آئی آر کے مطابق گوجرانوالہ کے رہائشی درخواست دہندہ کی رشتے دار خاتون کی گاڑی کا جنگل کے قریب پیٹرول ختم ہوگیا تھا اور وہ مدد کے انتظار میں کھڑی تھیں۔ ایف آئی آر کے مطابق درخواست دہندہ کی عزیزہ نے بتایا کہ جب وہ پیٹرول کے انتظار میں کھڑی تھیں تو 30 سے 35 سال کی عمر کے دو مسلح اشخاص آئے، انہیں اور ان کے بچوں کو گاڑی سے نکال کر ان کا ریپ کیا اور ان سے نقدی اور زیور چھین کر فرار ہو گئے۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اس واقعے کا نوٹس لے کر آئی جی پولیس پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
دوسری طرف سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے بکواس پر مبنی مؤقف اپناتے ہوئے زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون پر ہی سوالات اٹھا دیے اور اسے ہی قصور وار قرار دے دیا.جس پر انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہاہے۔عمر شیخ نے اس واقعے پر ایک نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ یہ خاتون رات 12 بجے لاہور ڈیفنس سے گجرانولہ جانے کے لیے نکلی ہیں، حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں ہے، اکیلی ڈرائیور ہونے کے باجود وہ جی ٹی روڈ کیوں گجرانوالہ نہیں گئیں؟ان کا کہنا تھا کہ اکیلی خاتون کو آدھی رات میں موٹروے سے جانے کی ضرورت کیا تھی ، وہ جی ٹی روڈ سے کیوں نہ گئيں جہاں آبادی تھی؟عمرشیخ کے بیان پر وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے شدید رعمل کااظہار کیا۔شیریں مزاری نے کہا ہے کہ ایک پولیس افسر کی طرف سے ایسا بیان ناقابل قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس افسر کا توجیہات پیش کرنا اور زيادتی کا شکار خاتون پر ہی سوال اٹھانا افسوسناک ہے۔سی سی پی او لاہور کے بیان پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لوگ شدید تنقید کر رہے ہیں۔
واقعہ کے حوالے سے درج ایف آئی آر کے مطابق خاتون سے ریپ کا واقعہ رات تین بجے کے قریب پیش آیا اور متاثرہ خاتون کے رشتے دار نے بدھ کی صبح 10 بجے پولیس اسٹیشن گجر پورہ میں مقدمہ درج کروایا۔ مدعی نے پولیس کو بتایا کہ جب وہ اس جگہ پہنچے جہاں پر پیٹرول ختم ہونے کی وجہ سے رک گئی تو انہوں نے دیکھا کہ گاڑی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اور اس پر خون کے دھبے تھے، جس کے بعد انہوں نے رشتے دار خاتون کو کرول کے جنگل کی جانب سے بچوں کے ساتھ آتے دیکھا۔
دوسری جانب موٹروے پولیس نے واضح کیا ہے کہ جس جگہ خاتون کو ریپ کا نشانہ بنایا گیا ہے وہ موٹروے پولیس کی حدود میں شامل نہیں ہے۔ ترجمان کے بقول رنگ روڈ موٹروے پولیس کی حدود میں نہیں ہے۔ دوسری طرف ملزموں کی گرفتاری کےلیے ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ پولیس کی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جبکہ گجرپورہ میں موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کی میڈیکل رپورٹ میں بھی تصدیق ہوگئی ہے، گرفتاری کے لیے دونوں ملزمان کا خاکہ بھی تیار کرلیا گیا۔ ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں متاثرہ خاتون سے زیادتی ثابت ہوگئی ہے جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے سی آئی اے اور انویسٹی گیشن کی مشترکہ ٹیم بنادی گئی ہے، اور اس سلسلے میں دونوں ملزمان کا خاکہ بھی تیار کیا جا چکا ہے ، کھوجیوں کی مدد سے بھی ملزمان کو تلاش کیا جا رہا ہے ، جائے وقوعہ کے اطراف آبادیوں کی ناکہ بندی کرکے سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔پولیس نے بتایا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے پیشہ ورکھوجی کی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئیں ہیں، کھوجی ٹیمیں پولیس کے ساتھ مل کرکام کررہی ہیں ، جبکہ پولیس افسران نے جائے وقوعہ کا دورہ بھی کیا ۔
ذرائع کے مطابق پولیس نے 12 مشتبہ ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی اور ملزمان کی گرفتاری تک پولیس چین سے نہیں بیٹھے گی، خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی روک تھام پنجاب پولیس کی اولین ترجیحات میں ہے۔ پولیس 12 مشتبہ ملزمان کو حراست میں لے چکی ہے جن میں باپ بیٹا بھی شامل ہیں۔ آئی جی پنجاب کے حکم پر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں پولیس کی 20ٹیمیں واقعے کی تفتیش کر رہی ہیں۔ اس مقدمہ میں نصف درجن سے زائد مشتبہ افراد سے تحقیقات بھی جاری ہیں۔
گجر پورہ کے علاقے میں موٹروے پرانسانیت سوز واقعہ سامنے آیا. گوجرانوالہ کی رہائشی ثنا نامی خاتون ڈیفنس میں رہائشی اپنی بہن سے ملنے کے لیے لاہورآئی تھیں۔ واپسی کے دوران ثنا کی کارکا پیٹرول ختم ہوگیا، انہوں نے اپنے عزیزسردار شہزاد کو اطلاع کردی اور وہ مدد کے انتظار میں گاڑی سے اتر کر کھڑی ہوگئیں۔ اس دوران دو مشکوک افراد خاتون کی جانب آئے، جنہیں دیکھ کرخاتون اپنے بچوں کے ساتھ گاڑی میں محصورہوگئی ۔ ڈاکوؤں نے خاتون کوشیشے کھولنے کے لیے کہا جب خاتون نے شیشے نہ کھولے تو ڈاکوؤں نے شیشے توڑ کر گن پوائنٹ پر اس کو گاڑی سے اتار کر کیرول گھاٹی میں واقع کھیتوں میں لے جا کر زیادتی کرتے رہے۔ذرائع کے مطابق ڈاکوؤں نے خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا ۔ بعد ازاں خاتون کی حالت غیر ہونے پر دونوں خاتون کو وہیں پر چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ ڈاکو خاتون سے ایک لاکھ نقدی ، دو تولے طلائی زیورات، ایک عدد برسلیٹ، گاڑی کا رجسٹریشن کارڈ اور 3 اے ٹی ایم کارڈز لیکر فرار ہو گئے۔خاتون کا عزیز سردار جب گاڑی کے پاس پہنچا تو خاتون وہاں سے غائب تھی اور گاڑی کے شیشے کیساتھ خون لگا ہوا تھا ۔ خاتون کے عزیز نے خاتون کو تلاش کرنے کی کوشش کی تو کرول گھاٹی کے جنگل کے پاس خاتون گاڑی کی طرف آتی ملی جس پر خاتون نے روتے ہوئے اپنے عزیز کو ساری بات کے بارے میں آگاہ کیا۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر فرانزک اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ۔ پولیس نے خاتون کے رشتہ دار سردار شہزاد کے بیان پر مقدمہ درج کرکے سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکوؤں کی تلاش جاری ہے ۔ ڈاکوں کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس اپنے تمام وسائل استعمال کر رہی ہے امید ہے جلد ہی ہمیں کامیابی ملے گی، گجر پورہ زیادتی کیس میں پولیس نے ملزمان کا خاکہ تیار کر لیا ہے، خاتون کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں بھی ذیادتی ثابت ہو گئی ہے، جس کے بعد ملزمان کی گرفتاری کے لیے سی آئی اے اور انوسٹی گیشن کی مشترکہ ٹیم کام کر رہی ہے، پولیس افسران نے جائے وقوعہ کا خود بھی دورہ کیا ہے۔
سوہا نامی ایک صارف نے لکھا ’پاکستان میں ایک کے بعد ایک خبر۔ کراچی میں ایک پانچ برس کی ایک بچی کا ریپ اور قتل۔ لاہور میں موٹروے پر ایک خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے اجتماعی ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔ تو کیا پاکستان خواتین کے لیے محفوظ ہے۔‘
ایک اور صارف نے لکھا: ’خواتین کےلیے اکیلے سفر کرنا، اکیلے رہنا اور اکیلے سانس لینا کب محفوظ ہو گا۔ یہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ کیا آپ برائے مہربانی ہمیں اس کی اجازت دیں گے؟
ردا نامی ایک صارف نے لکھا ’انسانیت کےلیے ایک خوفناک دن۔ انڈیا میں 86 برس کی دادی کا ریپ اور پاکستان میں ایک پانچ برس کی بچی کا ریپ اور قتل۔ ابھی لاہور موٹروے پر ایک خاتون کے ریپ کی خبر پڑھی ہے۔ میں خوفزدہ اور غصہ محسوس کر رہی ہوں۔ کیا عورت ہونے کی یہ قیمت چکانا پڑتی ہے۔‘
