جون ایلیا اپنے بچوں کے لئے زندگی میں ہی کیوں مر گئے تھے؟

جون ایلیا کے مداحوں نے انہیں 8 نومبر 2002 کے روز کھویا تھا مگر انکی بیٹی فینانہ فرنام کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے والد کو انکی زندگی میں ہی کھو دیا تھا اور انکی والدہ اور معروف لکھاری زاہدہ حنا ہی زندگی بھر انکا جذباتی آسرا رہیں۔ اپنے والد کی وفات کے تقریبا 20 برس بعد فینانہ نے ایک تحریر میں جون ایلیا کے ساتھ اپنا تعلق کو بیان کیا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ فینانہ نے اس حوالے سے کیا بتایا:
فینانہ کہتی ہیں کہ یہ وہ موضوع ہے جس پر میں بات نہیں کرتی یا نہیں کرنا چاہتی تھی اور میں برسوں خاموش رہی۔ بہت لوگوں نے چاہا کہ میں ان سے اس موضوع پر بات کروں مگر میں نے ہمیشہ ٹال دیا اس کی وجہ یہ تھی کہ میں یہ سمجھتی ہوں کہ یہ بہت ذاتی نوعیت کی بات ہے اور اپنے گھر کی بات میں دنیا سے کیوں کروں۔ لیکن ہماری خاموشی کی وجہ سے لوگوں نے ایسی باتیں کیں جو بڑی تکلیف دہ تھیں اور سچ سے ان کا کوئی واسطہ نہیں تھا ۔
اپنی بہن سحینا اور بھائی زدیون کا ذکر کرتے ہوئے فینانہ کہتی ہیں کہ مشکل یہ ہے کہ ہمارے دونوں والدین مشہور لوگ ہیں اور مشہور لوگوں کی زندگی پر بات کرنا ان کے مداح اپنا حق سمجھتے ہیں۔ بات اتنی سادہ ہوتی تو کوئی مشکل نہ تھی مگر سچائی جانے بغیر یا ایک طرف کی بات سن کر رائے قائم کرنا اور اس پر یقین کر لینا زیادتی ہے۔ ہماری خاموشی نے لوگوں کی مزید حوصلہ افزائی کی اور جس کا جو دل چاہا وہ اس نے کہا اور لکھا۔ اسی لئے میں نے اس موضوع پر بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
فینانہ بتاتی ہیں کہ بارہ برس کی عمر میں جب ایک روز آدھی رات کو میں نے ابو کو امی سے لڑتے ہوئے سنا تو مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ اس کیفیت کو میں آج بھی بیان نہیں کرسکتی۔ میں صبح کے انتظار میں جا گتی رہی۔ مجھے امی سے بات کرنی تھی، مجھے جاننا تھا کہ یہ سب کیا ہے، مجھے اس وقت رونا چاھئے تھا، میں اگر کسی فلم میں بھی کوئی جذباتی منظر دیکھ لوں تو میری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، سینما میں میرے بچے خوب ہنستے ہیں مجھے اس طرح جذباتی ہوتا ہوا دیکھ کر۔ مگر اس رات میری آنکھ سے ایک آنسو بھی نہیں گرا تھا. صبح میں نے جب امی سے پوچھا کہ کیا کل رات ابو آپ سے لڑ رہی تھیں تو جواب میں جو میں نے سنا، اس پر مجھے یقین نہیں آرہا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ میں اپنے ماں باپ کو دنیا کا آئیڈیل کپل سمجھتی تھی اور ابو میرے آئیڈیل تھے۔ میں ان سے بے پناہ محبت کرتی تھی، امی سے بھی زیادہ اور اس لہجے کی توقع میں ان سے نہیں کرتی تھی۔ امی نے مجھے بہلا لیا تھا، وہ شاید مجھے میری اس خیالی دنیا سے اصلی دنیا میں نہیں لانا چاھتی تھیں. انھیں معلوم تھا کہ حقیقت مجھے بہت زیادہ تکلیف دے گی مگر کب تک۔ میں نے امی کی بات پر یقین کر لیا شاید اس لئے کہ میں کچھ اور جاننا اور سمجھنا نہیں چاھتی تھی. ایک وقت تھا جب امی ابو کے اختلافات کمرے میں ہی حل ہو جاتے تھے مگر چند برس بعد یہ اختلافات کمرے کی چار دیواری سے نکل کر لوگوں کی گفتگو کا موضوع بن گئے۔
فینانہ بتاتی ہیں کہ وہ بہت مشکل وقت تھا، امی اور ہم تینوں بھائی بہنوں نے لوگوں سے وہ کچھ سنا اور برداشت کیا جو بہت تکلیف دہ تھا اور یہ اس لئے ہوا کہ ابو ہر جگہ بیٹھ کر ہمارے لئے جو دل میں آتا تھا بول دیتے۔ لوگ بھی ان کی بات کا یقین کر لیتے۔ میں آج تک نہیں سمجھ سکی کہ لوگوں کو یہ احساس کیوں نہیں ہوتا کہ جون ایلیا ان کے لئے ان کے پسندیدہ شاعر ہیں مگر میرے تو وہ باپ ہیں، میں زندگی کو ان کے مصرعے میں تلاش نہیں کر سکتی تھی، میری تو زندگی تھے۔ وہ میرے، سحینا اور زدیون کے باپ تھے۔ ہمیں شاعر جون ایلیا نہیں بلکہ ہمارا باپ جون ایلیا چاہئے تھا جو کہیں کھو گیا تھا۔
ہمارے والد یہ بھول جاتے تھے کہ ہم کس جماعت میں پڑھ رہے ہیں یا ہماری عمر کتنی ہے، انھیں ہماری سالگرہ بھی یاد نہیں رہتی تھی، وہ جب مجھے یا سحینا کو پکارتے تو ہمارے بجائے اپنی بھتیجیوں کے نام لیتے۔ ابو نہ تو خود امی کو قبول کر سکے اور نہ انکے خاندان نے امی کو کبھی قبول کیا، اسلئے کہ امی امروہہ کی نہیں تھیں اور نہ ہی وہ شیعہ تھیں۔ ان باتوں کی وجہ سے امی ابو میں وہ فاصلے پیدا ہو گئے جو وقت کے ساتھ بڑھتے چلے گئے۔ ابو کے لیے یہ بات ہضم کرنا بھی مشکل ہوتا چلا گیا کہ وقت کے ساتھ امی کی شہرت میں اضافہ ہو رہا تھا۔ وہ ایک بہت پڑھے لکھے انسان تھے اور ان سے ایسی سوچ کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔
فینانہ کہتی ہیں کہ اسکے بعد میں نے ابو کے ساتھ انکے مشاعروں میں جانا چھوڑ دیا کیونکہ جب لوگوں کو معلوم ہوتا کہ میں کس کی بیٹی ہوں تو سرگوشیاں شروع ہو جاتیں اور جو کچھ مجھے سننا پڑتا اس سے تکلیف ہوتی۔ جب نویں کلاس میں امتحانی فارم آئے تو میں نے گھر جا کر کہا کہ میں اپنا نام تبدیل کرناچاھتی ہوں۔ تب میرا نام فینانہ جون تھا، امی بہت حیران ہوئیں کہ میں کیوں اپنا نام تبدیل کرنا چاھتی ہوں. میں نے کہا کہ مجھے ابو کا نام اپنے نام کے ساتھ نہیں لگانا۔ میں اس وقت سولہ سال کی تھی اور یہ فیصلہ لینا میرے لئے بہت تکلیف دہ تھا، مگر میں جانتی تھی کہ وہ رشتہ جو دنیا میں مجھے سب سے پیارا تھا وہ میرے اور ابو کے زندہ ہوتے ہوئے بھی ختم ہوگیا ہے۔ ابو میرے لئے اس دن مر گئے تھے، میرے لئے زندگی کے معنی بھی تبدیل ہو گئے تھے۔ میں جب پیدا ہوئی تو ابو نے میرا نام فینانہ جون رکھا تھا۔ ابو سے جب میرا رشتہ ٹوٹ گیا تو میرے لئے سب کچھ بدل گیا، میری پہچان بدل گئی اور ایسا ابو کی وجہ سے ہوا اس لئے میری ضد تھی کہ اب جو نام رکھا جائے گا وہ ابو ہی رکھیں گے۔ چنانچہ انہوں نے میرا نام فینانہ فرنام رکھ دیا۔
فینانہ کے مطابق ایک وقت تھا جب میرے لئے بہت مشکل تھا لوگوں کا سامنا کرنا اور ان کے چبھتے ہوئے سوالوں کا جواب دینا، مگر پھر مجھے سمجھ میں آگیا کہ میں ابو کے کئے کی ذمہ دار نہیں ہوں. وہ اپنے کئے کے ذمہ دار خود ہیں۔ ابو اکثر امی سے لڑائی کے بعد کہتے کہ انھیں یاد نہیں کہ پچھلی رات کیا ہوا تھا اس لئے کہ وہ شراب کے نشے میں تھے، مگر ہم سب جانتے تھے کہ وہ مکمل ہوش و حواس میں یہ سب کہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ شاعر کے یہ مسائل نہیں کہ وہ گھر کے کرائے یا سودا سلف کے بکھیڑوں میں پڑے، مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے بھاگنا چاہتے تھے۔ میں نے اپنے دادا دادی کو نہیں دیکھا کیونکہ ان کا انتقال امی ابو کی شادی سے پہلے ہو گیا تھا۔ وہ دونوں سادہ مزاج تھے اور وہ بھی ابو کے طرز زندگی سے دکھی رہتے تھے۔ ابو کا یہ خیال کے شاعر اور ادیب کو زندگی کے ان جھمیلوں سے آزاد ہونا چاھئے دراصل زندگی اور اس سے وابستہ ذمہ داریوں سے فرار تھا۔
فینانہ کہ کہنا یے کہ جب میں چار برس کی تھی تو ابو مجھے اپنے ساتھ علیم ماموں کے ہاں ایک مشاعرے میں لے کر گئے. امی مجھے نہیں بھیجنا چاھتی تھیں، مگر ابو ضد کرکے لئے گئے۔ جب ابو رات دو بجے واپس آئے اور امی نے ان سے دروازے پر پوچھا تھا کہ فینی کہاں ہے تو انھوں نے جواب دیا تھا، مجھے کیا معلوم اندر ہو گی. میں سوچتی ہوں کے امی پہ اس وقت کیا گزری ہو گی. تب امی مجھے جا کر گھر واپس لائی تھیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ چاہے شاعر ہو یا ادیب، مصور ہو یا موسیقار، ہم فنون لطیفہ سے منسلک لوگوں کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ وہ عام آدمی کی طرح کیسے زندگی گزار سکتا ہے. وہ تو شاعر ہے، مصور ہے لہذا اس سے ذمہ داری کا تقاضا کیسے کیا جائے۔ لیکن لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے گھر والے بھی ہیں اور گھر والوں کے لئے ان کا زندگی کے ہر قدم پہ موجود رہنا اور ساتھ دینا ضروری ہے۔
فینانہ کہتی ہیں کہ میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا کہ ابو کے مداح ابو کے بچوں سے یہ خواھش رکھتے ہیں کہ ہم ابو کو سرکار ، مرشد جون ایلیا سمجھیں، لیکن ہم انکے چاہنے والوں کو کیسے سمجھائیں کہ ہمارے لئے وہ فقط باپ تھے۔ ہمیں ان سے صرف محبت اور شفقت چاہئے تھی۔ ایک اولاد اپنے باپ سے اتنا تو چاہ ہی سکتی ہے باپ شاہ ہو یا گدا، اولاد کے لئے صرف باپ ہوتا ہے. ہم تینوں بھی صرف اپنے باپ سے ان کی محبت چاہتے تھے۔
فینانہ کے مطابق ابو سے زیادہ خوش قسمت انسان میں نے نہیں دیکھا. قدرت نے انھیں سب دیا عزت، شہرت، مگر وہ خوش نہیں رہ سکے کیونکہ انھوں نے اپنے رشتوں کی قدر نہیں کی۔ جو انسان محبت کرنے والے ماں باپ کا اور اولاد کا نہ ہو وہ اپنا بھی نہیں ہو پاتا۔ انکا کہنا ہے کہ ابو کے انتقال کی خبر مجھے فون پر امی نے دی. مجھے یقین نہیں آیا تھا کہ ابو نہیں رہے۔ لیکن وہ میری زندگی سے بہت پہلے رخصت ہو گئے تھے اور اپنی موت کے دن وہ دنیا سے بھی رخصت ہو گئے۔ ہمارے لئے باپ کا خانہ خالی رہا جس کی وجہ سے زندگی وہ نہیں رہی جیسا اسے ہونا چاہیئے تھا لیکن امی ہر قدم پر ہمارے ساتھ رہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ آج میری بیٹی میرے ابو کی شاعری پڑھتی ہے اور میرا بیٹا بھی کالج سے آکر بتاتا ہے کہ اسکے دوست محبت میں ناکام ہو کر ابو جان کی شاعری پڑھتے ہیں۔
