پاکستانی نوجوانوں میں کورین میوزک کیوں مقبول ہورہا ہے؟


پچھلے کچھ عرصے سے پاکستانی نوجوانوں میں کورین پاپ میوزک تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کو کورین زبان کی کوئی سمجھ بوجھ نہیں ہے لیکن پھر بھی ان میں ’’کے پاپ‘‘ کہلانے والا کورین پاپ میوزک تیزی سے پاپولر ہو رہا ہے۔
پاکستان میں کون ہے جس نے ’گنگم سٹائل‘ یا ‘بے بی شارک’ جیسے ہٹ گانے نہ سنے ہوں۔ یہ دونوں ورین گانے دنیا کے چند مقبول ترین گانوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ دنیائے موسیقی سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ کورین ثقافت نے ایک دھائی میں دنیا بھر کے نوجوانوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیا ہے، اور پاکستان میں کورین زبان سے عدم شناسی کے باوجود نوجوانوں میں اس سے بڑھتا ہوا لگائو حیران کن ہے۔ اسی مناسبت سے کراچی میں گزشتہ دنوں ’’کے پاپ‘‘ کارنیول کا بھی انعقاد کیا گیا۔ گلستانِ جوہر کے ایک میرج ہال میں منعقدہ تقریب میں 100 کے قریب نوجوان لڑکے لڑکیاں شریک ہوئے۔ انہوں نے باری باری سٹیج پر
کورین گانے گائے اور اُن پر رقص بھی کیا۔ حاضرین بھی گانے والوں کی آواز میں آواز ملا کر اُن کا ساتھ دیتے رہے۔
کراچی میں ہونے والے پاپ کارنیول کی میزبان زیست جیلانی نے بتایا کہ لوگ جب اِس میوزک کی طرف آتے ہیں تو ایسا پیار اور قبولیت ملتی ہے جس کی وہ معاشرے اور گھر والوں سے اُمید کرتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ‘کے پاپ’ ہمیں اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کا حوصلہ دیتا ہے۔ یہ میوزک تمام زنجیریں توڑ کر ہمیں اپنا آپ تلاش کرنے کی راہ دِکھاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں زیادہ تر نوجوان جنوبی کوریا کے میوزک بینڈ "بی ٹی ایس” کے دیوانے ہیں جو چند بڑے میوزک بینڈز میں سے ایک ہے۔ "بی ٹی ایس” کا کورین زبان میں مخفف ’’بُلٹ پروف بوائے سکاؤٹس‘‘ بنتا ہے ۔ اس میوزک بینڈ کی مقبولیت کا اندازہ اِس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 2018 کے سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں بینڈ کو پرفارمنس کا موقع دیا گیا۔
اس کورین پاپ بینڈ کے مداح خود کو ’’آرمی‘‘ کہتے ہیں اور یہ ’’فوج‘‘ اب پاکستان میں بھی بڑی تعداد میں موجود ہے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والی طوبیٰ اور رمیزہ خود کو اِس ’’آرمی‘‘ کا حصہ کہلانا پسند کرتی ہیں۔ رواں سال یکم ستمبر کو ‘بی ٹی ایس’ کے ممبر جیون جنگ کی سالگرہ پر اُن کے پاکستانی فینز نے گوجرانوالہ میں مبارک باد کا ایک بڑا بل بورڈ بھی لگایا گیا تھا، تاہم مقامی لوگوں کی شکایات پر اُسے اُتار دیا گیا تھا۔ اسی طرح کورین میوزک کی دیوانی اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی دو بہنوں حدیقہ اور ماہ نور کے میوزکل گروپ ‘سن شائن گرلز’ کے یوٹیوب پر 35 ہزار سے زیادہ فالوورز ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ لباس، میک اپ اور فیشن میں بھی اپنے پسندیدہ کورین بینڈ گروپ کا انداز اپناتی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ جہاں تک ڈانس کا تعلق ہے تو کچھ گانوں پر پرفارم کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن ہم یہ کام بہت جوش و جذبے سے کرتی ہیں۔
واضح رہے کہ جنوبی کوریا صرف اپنے میوزک کی وجہ سے ثقافت کو پروان نہیں چڑھا رہا بلکہ اس کے ڈراموں اور فلموں کو بھی دنیا میں کافی پذیرائی ملتی ہے۔ 2019 میں ریلیز ہونے والی فلم ’پیراسائٹ‘ نے جنوبی کوریا میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ یہ ’بہترین فلم‘ کا آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والی وہ پہلی فلم تھی جو انگریزی زبان میں نہیں بنائی گئی تھی۔ کورین میوزک کی طرح کورین ڈرامے بھی اپنے اچھوتے موضوعات، معیاری پروڈکشن اور حقیقت پسندانہ اداکاری کی وجہ سے دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں۔ کرونا لاک ڈاؤن کے دوران جب گھروں میں قید ناظرین نے مقبول ‘او ٹی ٹی’ پلیٹ فارمز خاص طور پر نیٹ فلکس کا رُخ کیا تو اِن ڈراموں کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا۔

Back to top button