جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالتی چیمبر میں لڑکی سے زیادتی، مجسٹریٹ معطل

جوڈیشل مجسٹریٹ سیہون امتیاز حسین بحتو نے عدالتی چیمبر میں پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، کو لڑکی کے ساتھ زیادتی پر معطل کر دیا.چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے لڑکی سے عدالتی چیمبر میں زیادتی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ سہیون امتیاز حسین بھٹو کو معطل کر دیا.
چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے سہیون میں پسند کی شادی کرنے والی لڑکی سے عدالتی چیمبر میں زیادتی کے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے جوڈیشل سہیون امتیاز حسین بھٹو کو مس کنڈیکٹ کی بنیاد پر معطل کرتے ہوئے انہیں سندھ ہائیکورٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر سیشن جج نے معاملے کی انکوائری کی اور اپنی رپورٹ میں واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے فوری طور پر جوڈیشل مجسٹریٹ کے خلاف کاروائی کی سفارش کی تھی۔
واضح رہے کہ جام شورو ضلع سہون کے ایک جوڈیشل آفیسرنے کیس کے حوالے سے عدالت آنے والی خاتون کو عدالتی چیمبر میں زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ جس کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیاتھا. جامشورو پولیس نے 13جنوری کو سلمی بروہی اور نثار بروہی کو ایک گیسٹ ہاؤس سے گرفتار کیا تھا، جوڑے نے پسند کی شادی کی تھی۔ مرضی کی شادی کرنے کے بعد دونوں نے اپنے گھر چھوڑ دئیے تھے۔دونوں کو جوڈیشل آفیسر کے سامنے پیش کیا گیا۔بعد ازاں سلمی بروہی نامی خاتون نے جامشور پولیس کو شکایت درج کروائی اورموقف اپنایا کہ جوڈیشل آفیسر مجھ سے الگ سے بیان لینا چاہ رہے تھے۔جوڈیشل آفیسر نے اپنے عملے،پولیس عہدیداروں اور دیگر کو آفس سے چلے جانے کے لیے کہا۔
ذرائع کے مطابق لیڈی پولیس اورعملے کو یہ کہہ کر عدالت سے باہر نکال دیا گیا کہ لڑکی کا بیان لینا ہے۔ جج نے لڑکی سے استفسار کیا کہ کیا وہ والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہے یا شوہر کے ساتھ؟ جس پر لڑکی نے شوہر کے ساتھ جانے پر حامی بھری۔ جج نے خوف میں مبتلا لڑکی کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے چیمبر میں لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کردی۔متاثرہ لڑکی کی شکایت پر سیہون پولیس نے لڑکی کا عبداللہ شاہ انسٹی ٹیوٹ میں میڈیکل کرایا جہاں لڑکی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی۔
واقعہ کے بعد سینئیر جوڈیشل آفیسر نے مذکورہ آفیسر کے خلاف عصمت دری کے الزام کی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ جوڈیشل آفیسر کے خلاف یہ پہلی شکایت نہیں،ماضی میں بھی وہ اس طرح کی کارروائیوں میں ملوث پایا گیا ہے۔
ایک جج کا چیمبر میں انصاف کے لیے آنے والی لڑکی کے ساتھ زیادتی کے واقعے کے بعد عدالتی انتظامیہ میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا تھا جس پر سیشن جج نے انکوائری رپورٹ میں واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے فوری طور پر جوڈیشل مجسٹریٹ کے خلاف کارروائی کی سفارش کی تھی۔ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے جوڈیشل مجسٹریٹ امتیازحسین بھٹو کو معطل کردیا اور انہیں سندھ ہائیکورٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔سندھ ہائیکورٹ کے مطابق امتیاز بھٹو کو مِس کنڈکٹ کی بنیاد پر معطل کیا گیا ہے۔
رپورٹ کو منظر عام پر نہ لانے کے لیے شدید دباؤ ہے تاہم ایک انتہائی سینیئر پولیس افسر نے بتایا کہ عدالت عالیہ کے سینیئر جج نے سیشن جج کے ذریعے انکوائری کرائی جس میں واقعے کی تصدیق کے ساتھ رپورٹ بھی ارسال کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button