جھوٹ کے بھی پاؤں نکل آئے، سر چڑھ کر بولنے لگا

ہم لوگ ایک زمانے سے یہ پرانا محاورہ سنتے چلے آئے ہیں کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے لیکن اب بدلتے ہوئے حالات و واقعات نے محاوروں کو بھی تبدیل کر دیا ہے اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ "جھوٹ کے بڑے بڑے پاؤں ہوتے ہیں” جنھیں کبھی ففتھ جنریشن وار فیئر اور کبھی میڈیائی جنگ کا نام دیا جاتا یے۔ جھوٹ کے سہارے ریاستیں اور حکومتیں چلانے کے لیے نازی جرمنی، ہٹلر کی حکومت سے بہتر کوئی مثال موجود نہیں۔ ہٹلر کو ہٹلر، طاقت کا منبع اور آمر بنانے میں جس شخص کا کردار سب سے اہم ہے وہ گوئبلز تھا جسے کہ ماڈرن دور کا جھوٹ کا پیغمبر بھی کہا جاتا ہے۔
پروپیگنڈے کا ماہر، ریاستی ہتھکنڈوں کو پروپیگنڈے کے ہتھیار سے لیس کرنے والا گوئبلز اپنے اندر بلاشبہ ایک ادارہ تھا جس کا کہنا تھا کہ اگر جھوٹ کو بھی شدت سے اور بار بار بولا جائے تو وہ سچ بن جاتا ہے۔ معروف ٹی وی اینکر اور تجزیہ نگار عاصمہ شیرازی بی بی سی کے لئے ایک تحریر میں بتاتی ہیں کہ انہیں حال ہی میں گوئبلز کے نظریات اور ’فرمودات‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا تو یوں لگا جیسے آج کی ٹیلی وژن سکرین پر روشن کئی چہروں سے تعارف ہو رہا ہو۔ انہیں ایسا محسوس ہوا کہ گوئبلز کہیں جرمنی میں نہیں یہیں بہت ہی قریب لاہور یا اسلام آباد میں ہی بات کر رہا ہو۔ ایسے جیسے ایک نہیں کئی گوئبلز یک بیک نمودار ہو گئے ہوں۔
گوئبلز نے ہٹلر سے کہا تھا کہ اگر آپ جھوٹ بولیں اور اُسے دُہراتے چلے جائیں تو وہ سچ لگنے لگتا ہے۔ ایسا کچھ گوئبلز نے ایک نہیں متعدد بار کہا۔ یہ بھی کہا کہ ’جتنا بڑا جھوٹ بولو گے اُتنا اس پر یقین کیا جائے گا۔‘ ایک اور جگہ جناب گوئبلز فرماتے ہیں کہ بہترین پروپیگنڈہ یہ ہے کہ چند نکات تک محدود رہا جائے اور اُنھیں ہی بار بار دُہرایا جاتا رہے تاکہ لوگ اسے سچ مان لیں۔ گوئبلز نے ریاست کے لیے چند بہترین اور راہنما اصول مقرر کئے مثلاً کہ ’جھوٹ ریاست کے لیے اہم ہے اور ریاست اختلاف کو دبانے کے لیے اپنی تمام تر طاقت کا استعمال کرے۔‘ گوئبلز کی یہ پالیسی ہمیں آج کے پاکستان میں بھی نافذ ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ گوئبلز کہتا ہے کہ ’سچ جھوٹ کی موت ہے اور سچ ریاست کا سب سے بڑا دشمن بھی ہے۔‘ گوئبلز کہتا ہے کہ پروپیگنڈہ بذات خود ختم نہیں ہوتا بلکہ خاتمے کے لیے ہتھیار ضرور بن سکتا ہے۔ جھوٹ پھیلاؤ اور پکڑے جانے پر پکڑنے والے پر ‘فیک نیوز’ کا الزام لگا دو۔ پروپیگنڈے کو ہتھیار بناؤ، گالم گلوچ سے دباؤ اور ہاں پریس کو ایسا ‘کی بورڈ’ بناؤ کہ جس پر اپنی مرضی کی دُھن بجا سکو۔ کچھ ایسی ہی دھنیں ہم پاکستانی میڈیا پر پچھلے دو سال سے متواتر سن رہے ہیں۔
ایک جگہ تو گوئبلز نے یہ بھی کہا ہے کہ پروپیگنڈہ اس وقت بہترین طریقے سے کام کرتا ہے جب ریاست استعمال ہونے والوں کو یہ یقین دلوا دے کہ دراصل وہ ’اپنی مرضی‘ سے کام کر رہے ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ہمیں آج بھی محسوس ہو رہا ہے۔ ہٹلر کی وزارت آگاہی و پروپیگنڈہ کے وزیر جوزف گوئبلز کے ارشادات کو سامنے رکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آج کے پاکستان میں ان پر حرف بہ حرف عمل ہو رہا ہے۔ جھوٹ پھیلاؤ اور پکڑے جانے پر پکڑنے والے پر ’فیک نیوز‘ کا الزام لگا دو۔ پروپیگنڈے کو ہتھیار بناؤ، گالم گلوچ سے دباؤ اور پریس کو ایسا ’کی بورڈ‘ بناؤ کہ جس پر اپنی مرضی کی دُھنیں بھاسکر ۔۔ پھر خود ہی داد لو اور واہ واہ کے ڈونگرے بھی برساؤ۔ گوئبلز کے صحیح پیروکاروں کی طرح اختلاف دبانے کے لیے تمام تر طاقت کا استعمال کرو۔ یوں گوئبلز کے تمام آزمودہ فرمودات ہمیں ہر طرف اور جا بجا دکھائی دیتے ہیں۔ مختصر یہ کہ گوئبلز تو چلا گیا لیکن اس کے نظریات آج بھی زندہ ہیں اور آج کے پاکستان میں ان پر بڑی تندہی سے عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
