جہادیوں کی وجہ سے پاکستان گرے لسٹ میں برقرار

بالاخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے کام کرنے ولے بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فیصلے کا اعلان ایف اے ٹی ایف کے پیرس میں ہونے والے 5 روزہ ورچوئل اجلاس کے اختتام پر کیا گیا۔ یہ اعلان کرتے ہوئے ایف اے ٹی ایف نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جہادی تنظیموں کے سربراہوں کو قرار واقعی سزائیں دلوانے کے لیے پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کرے کیونکہ اب تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔
25 جون کو ایف اے ٹی ایف اجلاس کے اختتام پر کی گئی پریس کانفرنس میں ادارے کے صدر کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے متعدد ایریاز میں پیشرفت کی ہے لیکن اہم ایریاز میں پیشرفت میں ناکام ہوا ہے۔‘ انہوں نے ایشیا پیسیفک گروپ کی سفارشات کے بعد پاکستان کی کوششوں کو سراہا تو توقع ظاہر کی کہ مزید بہری کے لیے حکومت پاکستان کوششیں جاری رکھے گی۔ پاکستان کو طویل عرصے سے گرے لسٹ میں برقرار رکھے جانے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ‘ہمارے اصول واضح ہیں، ان پر عمل نہ کر سکنے والوں کو لسٹ میں رہنا پڑے گا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو منی لانڈرنگ کا نیا ایکشن پلان دیا جا رہا ہے۔ ایک سوال پر ایف اے ٹی ایف کے صدر نے کہا کہ وہ انڈیا میں نیوکلیئر لیک کے معاملے سے آگاہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کے جائزے کے حوالے سے اعلان کردہ اقدام کورونا وبا کی وجہ سے معطل ہے جیسے ہی صورتحال بہتر ہوئی ہم اس سلسلے کو آگے بڑھائیں گے۔‘
قبل ازیں ایف اے ٹی ایف کی ویب سائٹ پر اعلان کیا گیا تھا کہ جمعہ کی شام کو اجلاس کے خاتمے کے بعد نیوز کانفرنس کے ذریعے فیصلوں کا اعلان کیا جائے گا۔ اجلاس میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لے کر گرے لسٹ سے نکالنے یا نہ نکالنے کا فیصلہ کیا جانا تھا۔ رواں سال فروری میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے جون تک کی مہلت دی گئی تھی۔
اس وقت نیوز کانفرنس سے خطاب میں ایف اے ٹی ایف کے جرمنی سے تعلق رکھنے والے صدر ڈاکٹر مارکس پلیئر نے کہا تھا کہ ’پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کو اعلیٰ سطح پر ایکشن پلان پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے، اس وقت پاکستان کو بلیک لسٹ میں نہیں ڈالا جا سکتا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے 27 میں سے 24 نکات پر عمل درآمد کرلیا ہے۔‘ فیصلے کے اعلان سے قبل پاکستانی حکام نے توقع ظاہر کی تھی کہ ملک کی کارکردگی دیکھتے ہوئے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ پاکستانی حکام کی اس امید کی ایک وجہ رواں ماہ کے شروع میں ایف اے ٹی ایف کے ذیلی ادارے ایشیا پیسیفک گروپ کی طرف سے پاکستان کی ریٹنگ بہتر کرنے کا اعلان بھی تھا۔ تاہم 23 جون کو لاہور میں حافظ سعید کی رہائش گاہ کے باہر ہونے والے بم دھماکے کے بعد اس خیال کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے اجلاس کے دوران دہشت گردی کا یہ واقعہ دراصل پاکستان کو ایف اے ٹی ایف میں برقرار رکھنے کی ایک سازش کا حصہ ہے کیونکہ اس دھماکے کے نتیجے میں یہ پتہ چل گیا تھا کہ عدالتوں سے سزائیں سنائے جانے کے باوجود جیل میں ہونے کی بجائے حافظ سعید اپنے گھر پر موجود تھے۔ اسی لئے اب ایف اے ٹی ایف نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جہادی تنظیموں کے سربراہوں کو قرار واقعی سزائیں دلوانے کے لیے پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کرے۔
