عثمان کاکڑ کی موت کی انکوائری کیوں نہیں ہو رہی؟

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کی جانب سے عثمان کاکڑ کی پراسرار موت کی تحقیقات کے مطالبے کے باوجود اب تک حکومت کی جانب سے نہ تو کوئی انکوائری آرڈر کی گئی ہے اور نہ ہی اسکا کوئی امکان نظر آتا ہے۔ یاد رہے کہ عثمان کاکڑ کے بڑے بیٹے خوشحال خان کاکڑ نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے والد کو گھر میں گھس کر قتل کیا گیا ہے اور انکے سر پر لگا زخم گرنے سے نہیں آیا بلکہ کسی تیز دھار آلے کا ہے۔ عثمان کاکڑ کی سی ٹی سکین رپورٹ نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کو برین ہیمرج نہیں ہوا تھا۔ دوسری جانب متعلقہ ڈاکٹروں نے کاکڑ کی موت کی وجوہات بارے تاحال اپنی رائے نہیں دی اور وہ کاکڑ کی کیمیکل اور ہسٹو پیتھالوجی رپورٹ آنے کے انتظار میں ہیں۔ تاہم ان کے خاندان اور ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ’عثمان کاکڑ کی موت طبعی نہیں ہے۔‘
بلوچستان سے تعلق رکھنے والی چند دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی پی کے میپ کے انکوائری کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔ یاد رہے 17 جون کو عثمان کاکڑ کے سر پر گہری چوٹ آئی تھی۔ اُن کا ابتدائی علاج کوئٹہ میں ہوا تھا اور زخم گہرا ہونے کے باعث ان کے سر کے آپریشن میں ساڑھے چار گھنٹے لگے تھے۔
بلوچستان کی بولان میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ممتاز نیورو سرجن ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی نے تصدیق کی ہے کہ کاکڑ کے ابتدائی سی ٹی سکین کے مطابق سر پر چوٹ لگنے سے پہلے اُن میں بلڈ پریشر، برین ہیمرج یا اس نوعیت کی کسی اور بیماری کے آثار نہیں پائے گئے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنماﺅں کا دعویٰ ہے کہ عثمان کاکڑ کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ پاکستان میں سویلین بالادستی کے ایک بڑے وکیل تھے اور وہ سیاسی معاملات میں مداخلت پر خفیہ اداروں اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کو برملا تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔
یاد رہے کہ عثمان کاکڑ کا خاندان کوئٹہ کے علاقے شہباز ٹاﺅن میں رہائش پذیر ہے۔ گھر میں زخمی ہونے کر بے ہوش ہونے کے بعد اُنھیں ایک ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ میپ کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری یوسف خان کاکڑ کا کہنا ہے کہ جس وقت عثمان کاکڑ زخمی ہوئے تب ان کی ایک 11 سالہ بچی اور خاتون کے سوا کوئی اور موجود نہیں تھا۔ انھوں نے بتایا کہ کاکڑ ایک کمرے میں آرام کرنے گئے تو ان کی بچی ان کے پاس موجود نہیں تھی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس دوران باہر سے گھر کے اندر داخل ہونے والے لوگوں نے ان پر حملہ کیا۔
دوسری جانب بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بتایا کہ ان کو نجی ہسپتال سے فون آیا تھا کہ عثمان کاکڑ بے ہوش ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ سی ٹی سکین کروایا گیا ہے اور ان کے سر پر شدید چوٹ ہے۔ ان کے سر میں خون جم گیا ہے اس لیے آپ ان کے سر کے آپریشن کا فوری انتظام کریں۔ انھوں نے کہا کہ جب عثمان کاکڑ کو دوسرے نجی ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں لایا گیا تو رات کے آٹھ بج رہے تھے۔ میں نے ان کی دماغی حالت دیکھی جس کا ایک پیمانہ ہوتا جسے گلاسگو کوما سکیل کہتے ہیں، ’یہ تین سے 15 تک ہوتا ہے۔ تین کا مطلب ہے موت جبکہ 15 ہم جیسے نارمل انسانوں کا ہوتا ہے۔ عثمان کاکڑ کا چار تھا یعنی موت سے صرف ایک گریڈ کم۔‘ انھوں نے بتایا کہ ’ان کی پتلیوں میں کوئی حرکت نہیں تھی تاہم وہ سانس لے رہے تھے۔ سی ٹی سکین میں ان کی دماغ کی سوجن زیادہ نظر آئی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ایسی حالت میں فوری طور پر آپریشن کرنا ضروری ہوتا ہے اس لیے سینیئر ڈاکٹروں کی ٹیم نے جلد سے جلد آپریشن کرنے فیصلہ کیا۔ نیوروسرجن ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی کا کہنا تھا ’آپریشن اور ادویات دینے سے پہلے ان کے دائیں جانب جھٹکے لگے جو کہ بہت زیادہ خطرناک بات تھی کیونکہ یہ دماغ کی سوجن کو بڑھا سکتا تھا تاہم ہمارے سینیئر ڈاکٹروں نے بروقت ان کو دوائیاں دیں جس سے ان کی حالت سنبھل گئی۔‘ انھوں نے بتایا کہ جب انھوں نے عثمان کاکڑ کے سر کے بال صاف کیے تو دیکھا کہ ان کے سر کے بائیں طرف سوجن تھی اور ان کو کند چوٹ لگی تھی۔ ’یہ کسی وجہ سے بھی لگ سکتی ہے۔ ایک مفروضہ تھا کہ ان کو پہلے ہیمرج ہو گیا ہو گا جس کے بعد وہ گر گئے لیکن سی ٹی سکین میں ہیمرج نہیں تھا۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ جو ضروری سرجری تھی وہ انھوں نے کی۔ ’ان کے دماغ کو زیادہ نقصان پہنچا تھا اور سوجن زیادہ ہونے کہ وجہ سے وہ باہر نکل رہا تھا جس پر ہم نے اس کو اضافی پردہ لگا کر محفوظ کیا تا کہ اسے خون کی فراہمی برقرار رہے۔‘ انھوں نے بتایا کہ سرجری کے دوران ان کے ریسپانسز بہتر ہوئے اور آپریشن رات ایک بج کر 33 منٹ پر مکمل ہوا۔ ’اس کے بعد ان کے رشتے داروں اور سیاسی قیادت نے ماہر ڈاکٹروں کا انتظام کیا تھا جنھوں نے ان کو ایک اور پرائیویٹ ہسپتال کے آئی سی یو میں منتقل کیا۔‘ نیورو سرجن ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی کا کہنا تھا کہ ’رات چار بجے تک میں بھی وہاں رہا۔ صبح سات بجے میں وہاں پہنچا تو ان کے فزیکل ریسپانسز قدرے بہتر ہو گئے تھے جس پر ہمیں یہ امید ہوئی کہ اگر یہی صورتحال رہی تو اگلے چند دن میں دماغ کی سوجن کم ہو جائے گی۔
تاہم اگلے 24 گھنٹے میں عثمان کاکڑ کی حالت دوبارہ خراب ہو گئی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کے سیاسی قیادت اور دیگر اہم شخصیات سے رابطے تھے جنھیں انھوں نے رائے دیتے ہوئے بتایا کہ عثمان کاکڑ کے بچنے کے امکانات کم ہیں کیونکہ ان کے سر کا جو ابتدائی زخم تھا اس میں موت کے 80 فیصد امکان تھا لیکن 24 گھنٹے بعد جب ان کی حالت خراب ہو گئی تو بچنے کے امکانات مزید معدوم ہو گئے۔ ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی کا کہنا تھا کہ اکثر جب فالج کا حملہ ہوتا ہے تو مریض کو پھر سیکنڈری ہیڈ انجری ہوتی ہے لیکن عثمان کاکڑ کے کیس میں فالج، خون پتلا ہونے یا بلڈ پریشر کے شواہد نہیں تھے۔
ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی نے کہا کہ چونکہ عثمان کاکڑ کے خاندان کی خواہش تھی کہ ان کو کراچی منتقل کیا جائے جس پر مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان کو آغا خان ہسپتال منتقل کیا جائے۔ آغا خان ہسپتال میں ان کی موت واقع ہوئی جہاں سے ان کو پوسٹ مارٹم کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی منتقل کیا گیا۔ تاحال پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ نہیں آئی۔ اگرچہ جناح پوسٹ گریجویٹ سینٹر میں پوسٹ مارٹم کے بعد چار صفحات پر مشتمل جو ابتدائی رپورٹ دی گئی اس میں موت کی وجوہات کے بارے میں رائے نہیں دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ کاکڑ کی تدفین کے موقع پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور عثمان کے بیٹے خوشحال کاکڑ نے کہا کہ ’عثمان کاکڑ کی موت طبعی نہیں ہے بلکہ انھیں قتل کیا گیا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’قتل کے ذمہ دار ملک کے وہ دو خفیہ ادارے ہیں جن کا نام عثمان کاکڑ نے اپنی زندگی میں لیا تھا۔‘ انہوں نے کہا کہ ‘اگر کوئی انصاف کر سکتا ہے تو ہم ان کو بتا سکتے ہیں کہ کس طرح لوگ کاکڑ کے گھر میں داخل ہوئے اور ان پر حملہ کیا۔‘ انھوں نے کہا کہ عثمان کاکڑ نے اپنی زندگی میں یہ کہا تھا کہ اگر انھیں یا ان کے خاندان کے کسی فرد کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری دو خفیہ اداروں پر عائد ہو گی۔
