جیل اصلاحات عمل درآمد کمیشن تشکیل

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے مہلک بیماریوں میں مبتلا قیدیوں کی موجودگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے مختلف جیلوں میں موجود میں قیدیوں کی ابتر حالت اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں قانون پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ‘یہ تشویش ناک ہے کہ بڑی تعداد میں قیدیوں کو مہلک بیماریوں کا سامنا ہے جن میں ایچ آئی وی، ٹیوبر کلوسز اور ہیپاٹائٹس شامل ہیں’۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں صاف ظاہر ہے کہ قیدیوں کی حالت ابتر ہے، قیدیوں کو زیر حراست ناقابل برداشت حالات سے گزرنا پڑتا ہے جو ان کے جینے کے حق کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریاستی اداروں کی عام شہریوں کے حوالے سے بے حسی، نظر انداز اور عدم توجہ کا عندیہ دیا گیا ہے۔
جسٹس من اللہ کا کہنا تھا کہ یہ وفاقی حکومت کا کام ہے کہ ریاست پاکستان کے وعدوں کو پورا کرے۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے عدالت میں رپورٹ جمع کرائی تھی جس میں ملک بھر کی جیلوں میں موجود قیدیوں کی حالت کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ‘ملک میں اس وقت موجود قیدیوں کی کل تعداد میں سے 2 ہزار 100 قیدیوں کو جسمانی بیماریوں کا سامنا ہے، تقریباً 2 ہزار 400 قیدیوں کو پھیلنے والی ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس اور ٹیوبرکلاسز جیسی بیماریاں ہیں اور 600 کو دماغی بیماریوں کا سامنا ہے’۔
شیریں مزاری کی قیادت میں کمیشن کو رپورٹ جمع کرانے پر سراہتے ہوئے عدالت نے انکوائری کمیشن کو ‘عمل درآمد کمیشن’ میں تبدیل کیا جو تجاویز پر ریاست پاکستان کے وعدوں کے مطابق نفاذ کو یقینی بنائے گا۔
عدالت نے ہدایات جاری کیں کہ عمل درآمدی کمیشن فوری طور پر اجلاس منعقد کرے گا اور صوبوں کے متعلق چیف سیکریٹریز سے رپورٹ میں کے نفاذ پر رپورٹ طلب کرے گا جو کمیشن کا حصہ بھی ہیں۔
عدالت نے حکم جاری کیا کہ کمیشن وفاقی وزیر صحت اور متعلقہ صوبوں کے چیف سیکریٹریز کی مشاورت سے مہلک بیماریوں میں مبتلا قیدیوں کےلیے فوری اقدامات کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button