لاہور ہائیکورٹ کا فواد حسن فواد کی ضمانت پر رہائی کا حکم

لاہور ہائیکورٹ نےآشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل اورآمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتار سابق وزیراعظم نوازشریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کو ایک کروڑ روپے کے مچلکے جمع کرانے کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے فواد حسن فواد کی ضمانت کی درخواست پرسماعت کی۔ لاہور ہائیکورٹ نے فواد حسن فواد کی آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں ضمانت منظور کی۔ عدالت نے فواد حسن فواد کو ایک کروڑ کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔ جبکہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں نیب کی جانب سے فواد حسن فواد کے خلاف عدالت میں ریفرنس دائر کیا جاچکا ہے جس کے مطابق فواد حسن فواد پر 4 ارب 56 کروڑ 51 لاکھ 26 ہزار 904 روپے غیر قانونی طور پر اثاثہ جات بنانے کا الزام عائد ہے۔ فواد حسن فواد نیب کے روبرو صرف 3 ارب 47 کروڑ 54،لاکھ 80 ہزار 822روپے کی وضاحت دے سکے۔ فواد حسن فواد نیب کو 1 ارب 8 کروڑ 96 لاکھ 46 ہزار 172 روپے سے متعلق وضاحت نہیں دے سکے۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کی مدت ملازمت ختم ہو چکی ہے۔ فواد حسن فواد کی مدت ملازمت 13 جنوری کو پوری ہوئی۔ انتہائی با اثر اور طاقتور بیورو کریٹ 30 برس تک خدمات سر انجام دینے کے بعد پابندِ سلاسل ریٹائر ہو ئے۔ فواد حسن فواد کو آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کیس میں 5 مئی 2018 کو گرفتار کیا گیا تھا، سرکاری ریکارڈ کے مطابق فواد حسن فواد کی تاریخ پیدائش 14 جنوری 1960 ہے،13 جنوری کو فواد حسن فواد کی عمر 60 برس ہوئی، فواد حسن فواد نے آزاد کشمیر کے ضلع پونچھ کے ڈومیسائل پر سول سروس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے اس وقت کے پرنسیپل سیکرٹری اور ملک کے ایک انتہائی طاقتور سمجھے جانے والے بیوروکریٹ فواد حسن فواد 14 جنوری 2020ء کو ریٹائرڈ ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button