سکھ لیڈر رادیش سنگھ نے دھمکیوں کے بعد پاکستان چھوڑ دیا

معروف پاکستانی سکھ راہنما رادیش سنگھ عرف ٹونی بھائی نے دھمکیاں ملنے کے بعد حالات سے مجبور ہوکر اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان چھوڑ دیا ہے۔ رادیش سنگھ نے سال 2018 کے عام انتخابات میں اپنے آبائی علاقے پشاورسے حصہ لیا تھا جس کے بعد انہیں دھمکیاں ملنا شروع ہوگئیں تھیں۔ چنانچہ انہوں نے پشاور کو خیر آباد کہہ کر لاہور میں رہائشں اختیار کی۔ مگر یہاں بھی ان کی مشکلات کم نہ ہوئیں جس کے بعد انہوں نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
رادیش سنگھ نے دس جنوری 2020 کو اپنے ساتھ پیش آنے والے پر تشدد واقعے پر لاہور پولیس کو ایک درخواست دی تھی جس میں موقف اخیار کیا گیا کہ وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ سات دسمبر 2019 کو شام کے وقت موٹر سائیکل پر کچا جیل روڈ سے گزر رہے تھے کہ چار نامعلوم لڑکوں نے انہیں روکا اوران پر تشدد شروع کر دیا۔ سب کے ہاتھوں میں ڈنڈے اور ایک کے ہاتھ میں پستول تھا۔ اس لیے ان کے ساتھ لڑنا مناسب نہیں سمجھا اس لیے مار کھاتے رہے اور پھر چپ چاپ گھر پہنچ گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پولیس کو دی گئی درخواست میں قصداً اس تنظیم کا نام نہیں لکھا اور اب بھی نہیں چاہتا کہ اس تنظیم اور رہنما کا نام لوں کیوںکہ ہمارے رشتہ دار تو اب بھی پاکستان میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجائے کہ درخواست کے بعد ہمیں تحفظ دیا جاتا۔ ہمیں خفیہ اداروں کی طرف سے فون کالیں ملنا شروع ہو گئیں کہ ہم غلط بیانی کر رہے ہیں، جھوٹ بول رہے ہیں اور یہ کہ ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ بھی دھمکیاں اور پیچھا کرنا معمول بن چکا تھا۔
رادیش سنگھ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب ایک مذہبی رہنما نے کرتا پور کوریڈور سے متعلق سکھوں کی سر عام توہین کی تھی اور انتہائی نا مناسب بات کی تھی۔ جس پر میں نے ایک ٹویٹ کی تھی۔ اس ٹویٹ میں انہوں نے لکھا تھا کہ یہ الفاظ اور سوچ نامناسب ہے۔ اس سے نفرت کے کلچر کو جنم دیا جا رہا ہے جو کہ ٹھیک نہیں ہے۔ اس ٹویٹ کے بعد میری بہت زیادہ ٹرولنگ ہوئی اور مجھے دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ بس یہ ٹرننگ پوائنٹ تھا جب میں نے سوچنا شروع کردیا کہ خاندان اور بچوں کے تحفظ کےلیے پاکستان چھوڑ دینا چاہیے تا کہ بچوں کا مستقبل محفوظ ہو جائے۔ ایس ایچ او تھانہ کوٹ لکھپت لاہور محمد منور نے رادیش سنگھ کی درخواست موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے وضاحت کی کہ انہوں نے درخواست وقوعہ کے کئی روز بعد صرف ’یاداشت‘ کےلیے دی تھی نہ کہ ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ پولیس اہلکار نے بتایا کہ مذکورہ درخواست پر تفتیش کی گئی لیکن رادیش سنگھ کے دعوی کے مطابق کسی بھی ایسے واقعے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ایس ایچ او نے بتایا کہ رادیش پاکستان شہری ہیں اور اگر وہ ایف آئی آر درج کروانا چاہتے ہیں تو پولیس کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ محمد منور کا کہنا تھا کہ بعض اوقات لوگ غیر ممالک میں پناہ حاصل کرنے کےلیے پولیس کو رپورٹ کروا دیتے ہیں لہذا ہم نے ایف آئی آر درج نہیں کی۔
رادیش کاپاکستان چھوڑتے وقت کہنا تھا کہ میں انتہائی دکھی دل کے ساتھ بتا رہا ہوں کہ میں نے اپنے خاندان اور بچوں کی زندگی کے تحفظ کی خاطر پاکستان چھوڑ دیا ہے۔ اگر بات صرف میری ہوتی تو کبھی بھی پاکستان نہ چھوڑتا مگر اب بات میرے خاندان اور میرے ساتھ منسلک چار مزید زندگیوں تک پہنچ چکی تھی۔ جس کے بعد میرے لیے اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں تھا کہ اپنا وطن چھوڑ کر دیارِ غیر منتقل ہو جاؤں۔ اس وقت میں یہ نہیں بتانا چاہتا کہ میں کس مقام پر منتقل ہوا ہوں مگر مناسب وقت پر بتا دوں گا۔
رادیش سنگھ کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ہی ننکانہ صاحب میں گردوراہ صاحب پر حملے اور پتھراؤ کا واقعہ ہو گیا۔ اس پر دل بہت خفا ہوا۔ اس پر صرف پاکستان ہی سے شکایت نہیں ہے بلکہ اپنی کمیونٹی سے بھی شکایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک سکھ لڑکی نے مذہب تبدیل کر دیا ہے اور ثابت ہو رہا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے ایسا کیا ہے تو پھر اس کو ایشو بنا نے کی ضرورت نہیں تھی۔ حقیقت کا سامنا کرنا چاہیے۔ مگر اس معاملے کو بے جا طور پر اچھالا گیا جس کے نتیجے میں نفرتیں بڑھتی گئیں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب نفرت کا ماحول اتنا بڑھ گیا ہے کہ کم از کم میرا اور میرا خاندان پاکستان میں محفوظ نہیں تھا۔ مجھے واضح طور پر کہہ دیا گیا تھا کہ میں اور میرا خاندان اب ٹارگٹ ہیں۔ جس پر اپنے رشتے داروں اور دوستوں کی مدد حاصل کی اور پھر پاکستان چھوڑ دیا۔
