جیو کے بعد حامد میر تمام ٹی وی چینلز پر بھی بلیک لسٹ

7 ماہ پہلے جیو نیوز سے آف ائیر کیے جانے والے سینئر صحافی حامد میر کے حوالے ایک تازہ واقعے نے ثابت کردیا ہے کہ انہیں پاکستان کے کسی بھی ٹی وی چینل پر بولنے کی اجازت نہیں ہے۔ یاد رہے کہ 21 دسمبر کو ‘ہم نیوز’ کے میزبان محمد مالک کا ٹاک شو ابتدائی پندرہ منٹ کے بعد روک دیا گیا۔ پروگرام میں پابندیوں کا شکار معروف صحافی حامد میر بھی مدعو تھے۔ ہم ٹی وی نے پروگرام روک کر اچانک خبریں نشر کرنا شروع کر دی تھیں۔ اب اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ لائیو پروگرام بند کرنے کی وجہ ان کے کسی بھی میڈیا ادارے کے شو میں شرکت کرنے پر لگی "غیر اعلانیہ پابندی” ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 13 دسمبر کوچیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللّہ نے “لاپتہ” صحافی اور بلاگر مُدثّر نارو کی جبری گمشدگی سے متعلق مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ “ہمیں نہیں پتہ میڈیا آزاد ہے یا نہیں۔ آزاد میڈیا ہوتا تو لاپتہ افراد کے خاندان کی تصویریں روز اخبار میں ہوتیں۔” اس سے پہلے 9 دسمبر کو وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ہی ملک میں مبینہ طور پر “لاپتہ” صحافی اور بلاگر مدثّر نارو کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے یہ جاننے کی کوشش کی کہ مُدثّر نارو کو کس نے اور کیوں جبراً غائب” کیا ہو گا؟ مُدثّر نارو 20 اگست 2018 کو تب “لاپتہ” ہوئے جب وہ اپنی اہلیہ اور چھ ماہ کے بچّے کے ساتھ گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقامات کاغان،ناران گئے تھے۔ مئی 2021 میں مُدثّر نارو کی اہلیہ صدف چغتائی کا انتقال ہوگیا تھا۔
حامد میر پر لگی غیر اعلانیہ پابندی کا معاملہ ہو یا مدثر نارو کی گمشدگی کا،پاکستان میں کسی صحافی کے ساتھ پیش آنے والا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ذرائع ابلاغ کے کارکنوں کے حقوق و تحفظ سے متعلق عالمی ادارے کمیٹی ٹُو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق 1992 سے 2021 کے دوران پاکستان میں 70 صحافی یامیڈیا ورکرز گولیاں لگنے سے یا بم دھماکے کی لپیٹ میں آ کر مارے جا چکے ہیں۔ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے حقوق و تحفظ کے لئے قائم ایک اور عالمی ادارے رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے بھی ذرائع ابلاغ کی آزادی کی فہرست میں پاکستان کو صحافیوں کے لئے خطرناک ترین ممالک میں شامل کر رکھا ہے۔ سی پی جے نے ذرائع ابلاغ کی آزادی سے متعلق فہرست میں 180 ممالک کی رینکنگ میں پاکستان کا درجہ 145 رکھا ہوا ہے۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ امپیونٹی انڈیکس 2021 کے نقشے میں ان ملکوں کو سرخ رنگ سے نمایاں کیا گیا ہے جہاں صحافیوں کو قتل کرنے والوں کے سزا سے بچ نکلنے کا ریکارڈ خراب ہے۔ اس فہرست میں پاکستان کا نام بھی ہے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ امپیونٹی انڈیکس 2021 اس نقشے میں ان ملکوں کو سرخ رنگ میں نمایاں کیا گیا ہے جہاں صحافیوں کو قتل کرنے والوں کے سزا سے بچ نکلنے کا ریکارڈ خراب ہے۔ اس فہرست میں پاکستان کا نام بھی ہے۔
صحافیوں کے ایک اور عالمی ادارے انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ کی گزشتہ برس کی رپورٹ میں پاکستان کو صحافیوں کے لئے دنیا کا چوتھا خطرناک ملک قرار دیا گیا ہے جہاں 138 صحافیوں کا قتل کیا گیا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ مئی 2020 سے اپریل 2021 کےدوران صحافیوں کو درپیش خطرات اور حملوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ پاکستان کا یہ ‘متحرّک میڈیا’ دراصل ‘ریاست’ کا ترجیحی ہدف بن گیا ہے۔ ادارے کے مطابق “فوج اور اس کے خفیہ اداروں پر مشتمل اسٹیبلشمنٹ کے ذرائع ابلاغ پر اس اثر و رسوخ میں جولائی 2018 میں عمران خان کے وزیراعظم بن جانے کے بعد سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا”۔
پاکستان میں ایک طویل فہرست ایسے صحافیوں کی بھی ہے جو جبر کا شکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یعنی خوش قسمتی سے وہ اغوا یا قتل جیسے حملوں سے تو محفوظ رہے، البتّہ ان کا الزام ہے کہ انہیں “معاشی قتل” یا “پیشہ ورانہ ہلاکت” کا سامنا ہے۔ کسی کا الزام ہے کہ انہیں اپنے ٹی وی چینل سے پہلے آف ائیر کیا جاچکا ہے یا پھر ملازمت سے فارغ کردیا گیا ہے، یا اُن کی تحریروں پر پابندی لگائی جاتی رہی ہے۔
لیکن وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ یہاں میڈیا کی آزادیاں کئی لحاظ سے “فرسٹ ورلڈ” سے بھی زیادہ ہیں۔ یکم دسمبر 2021 کو اسلام آباد میں پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021 پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ “پاکستان میں ایک طبقہ ایسا ہے جو عالمی سطح پر یہ تاثر بنانے کی کوشش کرتا ہے کہ یہاں میڈیا آزاد نہیں ہے۔ اگر پاکستان میں میڈیا آزاد نہیں ہے تو دنیا میں کہیں بھی آزاد میڈیا نہیں۔”
