طالبان سے مذاکرات جائز اور مولانا کی جیت ناجائز کیوں؟

خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمان کی جماعت کی کامیابی پر وزیراطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے اظہار افسوس کرنے اور اسے انتہا پسند جماعت قررا دینے پر سینئر صحافی نصرت جاوید نے کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کرنے والی حکومت کے وزیر ایسا اعتراض کس منہ سے کرتے ہیں؟
نصرت جاوید نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں فواد چوہدری کو اپنے پرانے باس جنرل مشرف کی مولانا سے ورکنگ ریلیشن شپ اور عمران خان کی طالبان کو ویلکم کرنے کی پالیسی بھی یاد دلوائی اور کہا کہ دوسروں کو نصیحت اور خود میاں فصیحت والی پالیسی اب نہیں چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے جس سوچ کی افغانستان میں برتری کی بابت عمران حکومت شاداں محسوس کر رہی ہے وہ ہمارے خیبر پختونخوا میں بھی انگڑائی لے کر بیدار ہوتی نظر آئے تو فواد چودھری جیسے صاحبان بصیرت و فراست پریشان ہو جاتے ہیں۔ بقول نصرت، فواد اپنے قائد عمران خان کی طرح یہ تسلیم کرنے کو آمادہ نہیں کہ مہنگائی کی ناقابل برداشت لہر نے اس صوبے کے رائے دہندگان کو تحریک انصاف سے نالاں کر دیا کیونکہ یہ وہی صوبہ پے جہاں پی ٹی آئی 2013 سے برسر اقتدار چلی آ رہی ہے۔ مہنگائی کو تحریک انصاف کی شکست کا سبب تسلیم نہ کرنے کے بعد فواد چودھری نے توجیہہ یہ پیش کی کہ ان کی جماعت سے وابستہ دو یا تین افراد اوسطا ایک ہی نشست پر ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہو گئے یوں حکمران جماعت کا ووٹ تقسیم ہوا تو مخالفین کو اس سے فائدہ پہنچا۔
بقول نصرت، سیاسی حکمت عملی کے اہم ترین پہلوؤں کو جبلی مہارت سے آشکار کرنے کے بعد فواد چودھری جیسے صاحب فراست و بصیرت نے مگر اس امر کی بابت دکھ کا اظہار بھی کیا کہ تحریک انصاف میں بلدیاتی عہدوں کی ہوس میں ہوئی تقسیم کا فائدہ مولانا فضل الرحمن کی جمعیت العلمائے اسلام نے اٹھایا، ان کی دانست میں یہ ایک رجعت پسند جماعت ہے۔ خواتین کے حقوق کی حامی نہیں۔ پاکستان جیسے روشن خیال ملک میں ایسی جماعت کی پذیرائی نہیں ہوتی۔ ساکھ سے محروم ہوئی جماعتوں کی وجہ سے ابھرے خلاء کو مولانا جیسے رجعت پسندوں نے پرکر دیا ہے لہذا پاکستان کے روشن خیال عوام کو اس کی بابت فکر مند ہونا چاہیے۔
نصرت جاوید کہتے ہی کہ پاکستان میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر سب سے پہلے عام انتخابات 1970 میں ہوئے تھے۔ خیبرپختونخوا کو ان دنوں صوبہ سرحد کہا جاتا تھا۔ وہاں خان عبدالولی خان کی جماعت واحد اکثریتی جماعت کی صورت ابھری تھی مگر صوبائی حکومت تشکیل دینے کے لئے اسے جمعیت العلمائے اسلام سے تعاون کی ضرورت محسوس ہوئی۔ مولانا مفتی محمود ان دنوں اس جماعت کے قائد تھے۔ انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں قومی اسمبلی کی ایک نشست پر ذوالفقار علی بھٹو کو شکست سے دو چار کیا تھا تاہم بھٹو صاحب نے اپنے آبائی شہر لاڑکانہ کے علاوہ لاہور اور پشاور سے بھی قومی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی واحد نشست تھی جو بھٹو صاحب مفتی محمود صاحب سے ہارے تھے۔ مفتی محمود کی جماعت کو ان دنوں کے صوبہ سرحد میں اپنے تئیں اکثریت نہیں ملی تھی مگر خان عبدالولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی نے صوبائی حکومت کی تشکیل کے لئے انہیں وزارت اعلیٰ کے عہدے کے لئے نامزد کر دیا اور یوں پاکستان کی تاریخ میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہوئے پہلے انتخاب کے نتائج کی بدولت جمعیت العلمائے اسلام ماضی کے صوبہ سرحد اور آج کے خیبرپختونخوا کی اہم ترین سیاسی جماعت ثابت ہوئی۔
12 اکتوبر 1999 میں جنرل مشرف نے نواز شریف کی دوسری حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد اقتدار سنبھال لیا تھا۔ کامل تین برس تک وطن عزیز کو نا اہل اور بدعنوان سیاست دانوں سے پاک کرنے کے بعد انہوں نے 2002 میں نئے انتخاب کا انعقاد کروایا۔ اس انتخاب میں حصہ لینے کے لئے مولانا فضل الرحمن کی جماعت نے دیگر مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر متحدہ مجلس عمل بنائی۔ اس اتحاد نے ماضی کے صوبہ سرحد میں دیگر سیاسی جماعتوں کو بری طرح پچھاڑدیا مگر جنرل مشر ف جیسے روشن خیال نے کھلے دل سے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا۔ صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل نے صوبائی حکومت بنائی۔ قومی اسمبلی میں اسی اتحاد کے نمائندے کی حیثیت میں مولانا فضل الرحمن کو قائد حزب اختلاف بھی تسلیم کر لیا گیا۔ اسی قائد سے طویل مذاکرات کے بعد جنرل مشرف کو فوجی وردی سمیت اسلامی جمہوریہ پاکستان کا منتخب صدر بھی تسلیم کروا لیا گیا۔ 1970 کی ”سیکولر“ نیشنل عوامی پارٹی اور 2002 کے ”روشن خیال“ جنرل مشرف کا مولانا فضل الرحمن کی ”رجعت پسند“ جماعت سے رشتہ لہٰذا ایک جیسا ہی رہا۔ تب فواد چودھری جیسے عقل پرست اس کی بابت مجھے تو پریشان ہوئے نظر نہیں آئے تھے کیونکہ تب وہ آمر مطلق کے ساتھی تھے۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں جمعیت العلمائے اسلام کی کامیابی کے بارے میں فکر مند ہوئے فواد چودھری کو یہ بھی یاد نہیں رہا کہ پشاور کے اس پار پہلے جلال آباد اور پھر کابل آتا ہے۔ 15 اگست 2021 کے دن کابل میں طالبان فاتحانہ اندازمیں لوٹے ہیں۔ ان کی واپسی کا فواد چودھری کے قائد نے ”غلامی کی زنجیریں توڑ دیں“ والا بیان دیتے ہوئے خیر مقدم کیا۔ ہماری حکومت اپنے سفارتی اثر و رسوخ کو اب عالمی برادری کو اس امر پر قائل کرنے کے لئے بھرپور انداز میں استعمال کر رہی ہے کہ افغانستان میں قائم ہوئے طالبانی بندوبست کو باقاعدہ حکومت کی صورت تسلیم کیا جائے۔ اسی باعث حال ہی میں پاکستان کی ایما پر اسلام آباد میں اسلامی وزرائے خارجہ کا خصوصی اجلاس بھی ہوا ہے۔ کابل میں جو قوت فاتحانہ انداز میں لوٹی ہے نظریاتی اعتبار سے مولانا فضل الرحمن کی جماعت کے قریب ترین ہے۔ اس قربت کا اظہار طالبان حکومت کے وزیر خارجہ نے اسلام آباد میں موجودگی کے دوران مولانا کے ہاں حاضری دے کر بھی کیا ہے۔ لہذا فواد چوہدری کو خیبر پختونخوا میں جمعیت علماء اسلام کی کامیابی پر اظہار افسوس کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنا چاہیے تھا۔
