جی ہاں! برطانیہ کا قومی شاعر شیکسپیئر ہم جنس پرست تھا


برطانیہ کے قومی شاعراورمعروف ادیب اور ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر کی غزلوں کا جائزہ لینے کے بعد محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان کو کسر تھی اور وہ یقینی طور پر بائی سیکسوئل یا مخنث تھے لہذا وہ جنسی تسکین کے لئے عورتوں سے زیادہ مردوں کو پسند کرتے تھے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق اس تہلکہ خیز تحقیق کے نتائج آئندہ مہینوں میں شائع ہونے والی کتاب میں پیش کیے جائیں گے۔ محققین نے بتایا ہے کہ ولیم شیکسپیئر کی اینی ہیتھوے کے ساتھ 34 سالہ شادی کے دوران کئی مردوں اور خواتین کے ساتھ بھی ناجائز تعلقات تھے۔ برطانوی اخبار ٹیلی گراف میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، سر اسٹینلی ویلز اور ڈاکٹر پال ایڈمنڈسن نے شیکسپیئر کی 154 غزلوں کا جائزہ لیا جو انہوں نے 1609ء میں لکھی تھیں۔ تجزیے کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ شیکسپیئر کو عورتوں کی بجائے نوجوانوں میں زیادہ دلچسپی تھی اور وہ اکثر اپنی شاعری میں جن لوگوں کا ذکر کرتے تھے وہ ان سے حقیقی زندگی میں متاثر معلوم ہوتے تھے۔ ڈاکٹر ایڈمنڈسن کا کہنا تھا کہ جس طرح کی جنسی نوعیت کی زبان غزلوں میں بیان کی گئی ہے وہ یقینی طور پر کسی مرد کو لبھانے کیلئے معلوم ہوتی ہے اور اس سے ہمارا یہ شک مضبوط ہوتا ہے کہ شیکسپیئر بائی سیکسوئل یعنی مخنث تھے۔
ولیم شیکسپیئر کو انگریزی زبان و ادب میں دنیا کے عظیم ترین مصنفین اور ڈراما نگاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہیں عموماً انگلستان کا قومی شاعر کہا جاتا ہے۔ عام تاثر ہے کہ ولیم شیکسپیئر شاید انگریزی زبان کا واحد شاعر ہے جسے دنیا میں سب سے زیادہ پڑھا گیا، جس کے ڈراموں کے سب سے زیادہ تراجم ہوئے اور کسی بھی دوسرے مصنف کے ڈراموں کی نسبت زیادہ ان کے تحریر کردہ ڈرامے سٹیج پر پیش کیے جاتے ہیں۔ شیکسپیئر کی ابتدائی زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ ولیم شیکسپیئر 23 اپریل 1654ء کو جان شیکسپیئر کے گھر سٹیفورڈ میں پیدا ہوا۔ ماں کا نام میری آرڈن تھا۔ اس کی چار بہنیں اور تین بھائی اور بھی تھے۔ شیکسپیئر کو ڈرامے دیکھنے اور ڈراما لکھنے کا شوق بچپن ہی سے تھا۔ اس کے گاؤں میں جب ڈراما دکھانے نوٹنکی آتی تھی ،تو وہ بہت شوق سے دیکھنے جاتا تھا ۔اداکاروں کے بولے ہوئے مکالمے تنہائی میں دہراتا۔ یہ شوق اتنا بڑھا کہ کئی بار اس نے ارادہ کیا کہ وہ گھر چھوڑ کر نوٹنکی والوں کے ساتھ بھاگ جائے۔اس کا باپ پیشے کے لحاظ سے قصاب تھا۔ سنا ہے کہ ایک بار اس نے ایک جانور کو ذبح کرنے کی کوشش کی۔ چھری چلانے سے پہلے ایک لمبی چوڑی تقریر جھا ڑ دی۔ یہ و ہ مکالمے تھے ،جو اس نے تھیٹر کے اداکاروں سے سنے تھے۔ جانوروں پر چھری چلانے کا شاید یہ اس کا آخری موقع تھا۔ شیکسپیئر کے لیے 13 کا ہندسہ منحوس ثابت ہوا کیونکہ 13 سال کی عمر میں اسے سکول سے اٹھا لیا گیا۔ غربت اور مفلسی نے اس کی تعلیم کا راستہ روک لیا۔ 18 سال کی عمر میں اس نے ہیتھ وے سے شادی کر لی۔ یہ شادی اگرچہ اس کی مرضی کے خلاف تھی، لیکن اسے یہ شادی اس لئے کرنا پڑی کہ سسرال والوں نے اس کے مالی حالات بہتر کرنے کی حامی بھر لی تھی۔ اس شادی سے ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کا باپ بنا اور پھر بھاگ کر لندن چلا گیا۔ تھیٹر کمپنیوں میں چھوٹے موٹے کئی کام کئے۔ ولیم شیکسپیئر کو اداکاری کا شوق تھا لہذا چھوٹے موٹے کردار کر کے ایکٹروں کی صف میں شامل ہو گیا۔ قلی سے کام شروع کیا تھا آہستہ آہستہ اداکاروں کے گروپ کا ناظم بن گیا، پھر قلم ہاتھ میں تھاما اور ڈرامے لکھنے شروع کر دئیے۔ اس کام میں اس نے بہت عذاب دیکھے، مگر ہمت نہ ہاری۔ 1603ء میں اپنا نام ایکٹروں کی اس فہرست میں درج کر اہی لیا، جو بادشاہ وقت جیمز اول کے منظورِ نظر تھے۔ ڈراما نویسی جاری رکھی اور پھر وہ مشہور ڈراما نگار بن گیا۔
شیکسپیئر کے مشہور ڈراموں میں ہنری ہشتم ،مرچنٹ آف وینس، کنگ جان، ٹیمنگ آف شریو، ایزیو لائک اِٹ، ہیملٹ، کنگ لیئر، جولیس سیزر، میری واٹوز آف ونڈسٹر، اوتھیلو، رومیو اینڈ جیولٹ، میکبتھ، ٹویلوتھ نائٹ، دی ٹمپسٹ، ونٹرز ٹیل، انتھونی اینڈ قلوپطرہ، کامیڈی آف ایررز، مچ اوڈا بائوٹ نتھنگ، لوزلیبر اسٹ، اے مڈسمر نائٹ ڈریمز شامل ہیں۔ وہ ایک پر گو شاعر تھے اور بڑی سرعت کے ساتھ تصنیف و تالیف کا کام کیا کرتے تھے۔ 1597ء میں انہوں نے اپنے آبائی قصبے میں ایک اچھا مکان خریدا اور 1610ء میں وہاں رہائش اختیار کرلی۔ 1616ء میں ان کا انتقال ہوگیا۔ ولیم شیکسپیئر نے ہر قسم کے ڈرامے لکھے یعنی طربیہ، المیہ، تاریخی اور رومانوی۔ ان کے ڈراموں میں نظمیں بھی شامل ہیں جن میں سے بعض حصے اعلیٰ پیمانہ کی شاعری کے معیار کے مطابق ہیں۔
شیکسپیئر کی تحریر میں جدتِ خیال نمایاں ہے اور ساتھ ہی عمق، گہرائی اور متانت بھی پڑھنے والے کو مسحور کردیتی ہے۔ شیکسپیئر نے انسانوں کی نفسیات، محبت، ہمدردی، دشمنی، دکھ اور سکھ کے بارے میں سب سے زیادہ لکھا، جس کی عظمت کو دنیا کے سب ادیبوں اور شاعروں نے تسلیم کیا ۔بس دو بڑے ادیب تھے، جنہوں نے اسے شک کی نظروں سے دیکھا۔ دونوں کا تعلق روس سے تھا، ایک ٹالسٹائی اور دوسرا دوستو فسکی۔ٹالسٹائی کو تو شیکسپیئر نے با لکل متاثر نہیں کیا۔ ٹالسٹائی نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ میں نے شیکسپیئر کو 15 سال کی عمر میں پڑھا تو مجھے وہ بس یوں سا ادیب دکھائی دیا۔ 70 سال کی عمر میں جا کر میں نے سوچا کہ اسے دوبارہ پڑھا جائے تا کہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کر سکوں۔ میں نے جب اسے دوبارہ پڑھا تو بھی اپنا فیصلہ نہ بدل سکا۔ دوستو فسکی کو شیکسپیئر پسند تو تھا مگر اسے وہ ایک ایسا شاعر کہتا تھا، جس کے ہاں بہت غلطیاں تھیں اور یہ اس لئے تھیں کہ اس نے لکھتے ہوئے محنت نہیں کی۔ تاہم اب یہ افسوسناک حقیقت سامنے آئی ہے کہ برطانیہ کے قومی شاعر کو کسر تھی اور وہ مخنث تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button