جے وی اوپل کیس: نیب نے بلاول بھٹو کو 13 فروری کو طلب کرلیا

قومی احتساب بیورونیب نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو جے وی اوپل کیس میں طلبی کا سمن جاری کرتے ہوئے 13 فروری کو طلب کر لیا ہے۔
نیب ذرائع کے مطابق پی پی چیئرمین بلاول کو زرداری گروپ کمپنی کا 2008ء سے 2019ء تک کا تمام ریکارڈ لانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ نیب کی جانب سے بلاول بھٹو سے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی لسٹ بھی طلب کی گئی ہے۔ بلاول بھٹو پراپنی ذاتی کمپنی کے لئے ایک ارب 22 کروڑ روپے جعلی اکاؤنٹ سے نکلوانے کا الزام ہے۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے موقف اپنایا جاتا رہا ہے اس وقت وہ کم عمر تھے، تاہم ان کے بیان کے برعکس آڈٹ رپورٹ میں ان کے دستخط موجود ہیں۔ نیب نے آڈٹ رپورٹ اور بلاول کے دستخط شدہ دستاویزات حاصل کر لی ہیں۔
چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے انکوائری کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کرنے کی منظوری بھی دی تھی۔ بلاول بھٹو کو اس کیس میں چوتھی مرتبہ طلب کیا جارہا ہے تاہم وہ اب تک صرف ایک بار ہی نیب حکام کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔
دوسری جانب رہنما پیپلزپارٹی شیری رحمان نے بلاول بھٹو کی نیب طلبی کے نوٹس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نوٹس بلاول بھٹو کے مارچ میں احتجاج کے اعلان کا ردعمل ہے۔ شیری رحمان کا مزید کہنا ہے کہ جیسے ہی بلاول بھٹو حکومت کے خلاف کوئی اعلان کرتے ہیں، نیب نوٹس بھیج دیتا ہے، حکومت نیب کی ڈوریں ہلاکر سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنارہی ہے۔ پی پی رہنما نے کہا کہ بلاول بھٹو ملک کے بہادر لیڈر ہیں، وہ اوچھے ہتھکنڈوں سے ڈرنے والے نہیں،نیب کے پیچھے چھپنے سے عمران خان بچ نہیں سکتے۔
